پاکستان دہشتگردوں اور انکے حامیوں کو ختم کرنے کیلئے کارروائیاں جاری رکھے گا ،عطاتارڑ

09:56 AM, 29 Oct, 2025

استنبول: پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان چار روزہ مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں بتایا کہ مذاکرات کے دوران کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان نے شواہد کے باوجود سرحد پار سے دہشت گردی روکنے کی کوئی ضمانت نہیں دی۔

عطا تارڑ کے مطابق، مذاکرات کا اصل ایجنڈا پاکستان پر افغان سرزمین سے حملے روکوانا تھا، لیکن افغان وفد بار بار اس اہم مسئلے سے انحراف کرتا رہا۔ پاکستان نے جو شواہد پیش کیے وہ مضبوط اور ناقابل تردید تھے، تاہم طالبان نے ان پر کوئی ٹھوس ردعمل نہیں دیا۔

وفاقی وزیر نے قطر اور ترکیہ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مذاکرات کے دوران سہولت فراہم کی اور طالبان کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ وہ پاکستان کے خلاف دہشت گردی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کریں۔

ذرائع کے مطابق افغان طالبان کا مؤقف بار بار کابل سے ملنے والی ہدایات کے باعث تبدیل ہوتا رہا، جس کے نتیجے میں مذاکرات بے نتیجہ رہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ یہ مسائل بات چیت کے ذریعے حل نہ ہوئے تو پاکستان کے لیے دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔

پاکستان کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان سے سرحد پار دہشت گردی کو روکا جائے، اور وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح طور پر کہا ہے کہ اگر بات چیت کامیاب نہ ہوئی تو پاکستان کے پاس اس کے خلاف سخت اقدامات کرنے کا حق محفوظ ہے۔

مزیدخبریں