اب زمانہ ایسا آگیا ہے کہ اِسلام اور مغربی جمہوریت اور دوسرے نظام سب گڈ مڈ ہوچکے ہیں۔ وہ ممالک جہاں مسلمان بستے ہیں وہاں بھی ایک ملغوبہ نظام رائج ہے۔ لیکن اِس بات سے قطع نظر کہ کہاں کون سا نظام رائج ہے، ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارا دِین وطن کے حوالے سے کیا چاہتا ہے۔ بہت سے لوگوں نے یہ رائے دی ہے کہ اِسلام میں وطن کا کوئی تصور نہیں ہے۔ ساری زمین اللہ تعالیٰ کی ہے۔ مسلم امہ ایک جسم ہے۔ لہٰذا ہمیں پاکستانی یا سعودی ہوکر نہیں سوچنا بلکہ مسلمان بن کر رہنا ہے۔ یہ دوسری بات تو درست ہے لیکن اِس کے پہلے حصے کو لوگوں نے ہمیشہ غلط سمجھا ہے اور اس سے غلط نتائج بھی برآمد کیے ہیں۔
ہمارا دِین ہندوازم یا بدھ ازم کی طرح محض چند مذہبی رسومات اور عقائد کا مجموعہ نہیں ہے۔ یہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ چنانچہ اِس کی یہ ضرورت ہے کہ جہاں مسلمان رہتے ہوں وہ اِس مکمل ضابطے کے مطابق ہی زندگی بسر کریں۔ ایسا کرنے کے لیے ایک وطن، ایک زمین کا ہونا اشد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِسلامی تاریخ میں ہمیشہ وطن کی حفاظت بھرپور طریقے پر کی گئی ہے۔ غزوہ احد اور غزوہ خندق کی تارِیخ یہ بتاتی ہے کہ جب کفار نے مدینہ منورہ پر چڑھائی کی تو مسلمانوں نے اس شہر کا بھرپور دفاع کیا۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ اگر مدینہ منورہ پر ان کا قبضہ ہوجاتا تو تارِیخ آج بہت مختلف ہوتی۔ ہم اور آپ شاید مسلمان ہی نہ ہوتے۔ لہٰذا یہ کہنا یا سمجھنا کہ وطن ایک ثانوی چیز ہے، غلط ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ وطن کی حفاظت اسی طرح کی گئی جس طرح دِین کی کی جانی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جوشخص ایک دِن اللہ کی راہ میں سرحد کی حفاظت کرے، وہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہے۔ (بخاری، مسلم)۔
اِس کی ایک اور مثال بنی اِسرائیل کی تاریخ سے ملتی ہے۔ بنی اسرائیل مصر میں رہتی تھی۔ وہاں فرعونوں کی حکومت تھی۔ فرعونوں نے کبھی بنی اِسرائیل کی عبادات میں دخل اندازی نہیں کی تھی۔ ان کی عبادت گاہیں بھی قائم تھیں۔ تمام مذہبی تہوار بھی منائے جاتے تھے۔ رعمسیس دوم سے پہلے فرعونوں کا یہ رویہ بھی نہیں تھاکہ وہ بنی اِسرائیل کے لڑکوں کو قتل کردیتے تھے۔ رعمسیس دوم نے یہ کام اِس لیے کیاکیونکہ بنی اِسرائیل کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور اسے خطرہ محسوس ہونے لگا تھا کہ یہ لوگ قبطیوں سے تعداد میں زیادہ ہوجائیں گے۔ یہی کام اس کے بیٹے منفتاح نے بھی کیا جو بعد میں بحیرہ احمر میں غرق ہوا۔ فرعون سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ بنی اِسرائیل کو آپ علیہ السلام کے ساتھ ان کے اصلی وطن فلسطین جانے دو۔ سوچنے کی بات ہے کہ وہ مصر سے کیوں نکلے جب تمام تر مذہبی آزادی حاصل تھی۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ دین کو ایک وطن درکار تھا جہاں وہ اپنی جڑ پکڑ سکے۔ ایک نظام قائم ہوسکے جس کے تحت لوگ اپنی زندگی بسر کرسکیں۔ مصر میں مذہبی آزادی ہونے کے باوجود وہ فرعون کے نظام کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے۔سب جانتے ہیں کہ بنی اِسرائیل کا سنہرا دور شروع ہی تب ہوا جب وہ فلسطین پر قابض ہوئے اور انہوں نے وہاں اپنی حکومت قائم کی۔
یہ معاملہ ہندووں اور دیگر مذاہب کے ساتھ نہیں ہے۔ چونکہ یہ مذاہب کوئی ضابطہ حیات نہیں دیتے اور صرف مذہبی رسومات تک محدود ہیں اِس لیے اِن کے ماننے والے دنیا میں کہیں بھی نہایت آرام سے رہ سکتے ہیں۔ چنانچہ وہ رہتے بھی ہیں۔ اِسلام کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ چنانچہ وطن کی ہمارے دِین میں بے حد اہمیت ہے۔ وطن کے بغیر دِین پھل پھول نہیں سکتا اور لوگ بھی اِس کے مطابق زندگی بسر نہیں کر سکتے۔ پاکستان کا بننا اِس کی ایک اور مثال ہے۔ پاکستان کا مطالبہ تھا ہی اِس بنیاد پر کہ مسلمان ایک الگ قوم ہیں (دو قومی نظریہ) اور یہ کہ اِنھیں اپنے دِین پر چلنے کیلئے ایک وطن کی ضرورت ہے۔ اب ہم اِسلام کو پاکستان سے الگ نہیں کرسکتے۔ ورنہ کیا مشترکہ ہندوستان میں مساجد نہیں تھیں؟ کیا وہاں عید شب برأت نہیں منائی جاتی تھیں؟ کیا وہاں روزے نہیں رکھے جاتے تھے؟ ایسا نہیں تھا لیکن پھر بھی وہاں کے مسلمانوں نے ایک الگ وطن کا مطالبہ کیا۔وہ نعرہ آج بھی لوگوں کو یاد ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا، لا اِلہ اِلا اللہ۔
اِس سے یہ پتا چلا کہ پاکستان کو کسی بھی صورت میں نقصان پہنچانا دراصل یہاں پر اِسلام کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ یہ بات ہم نہایت آسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں۔ خدانخواستہ یہ نہ ہو تو کتنے لوگ ہندو ہوجائیں گے کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا۔ بھارت کے حالات سب کے سامنے ہیں۔ جب مذہبی جماعتیں اپنے کسی مطالبے کے لیے پاکستان کا نظام درہم برہم کرتی ہیں اور اِس ملک کا نقصان کرتی ہیں تو وہ دراصل اِسلام کو ہی نقصان پہنچا رہی ہوتی ہیں۔ یہاں کاروبارِ زندگی رک جاتا ہے۔ لوگ زخمی ہوتے ہیں، مارے جاتے ہیں۔ املاک کا نقصان ہوتا ہے۔ یہ سب کام کسی ایسی جماعت کو زیب نہیں دیتے جو اِسلام کے نام پر بنی ہو۔ اگر وہ کرے تو ہم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ جماعت اصل میں اِسلامی نہیں ہے۔ صرف اس کا نام مذہبی ہے۔ اپنے نظریے کو درست کرکے دیکھیں تو آپ کو بہت کچھ نظرآجائے گا۔ بہت سے لوگوں نے اِسلام کا نام لے کر بہت سا مال بنایا ہے۔
ہمارا ملک اوراِس کی فلاح و بہبود سب چیزوں پر مقدم ہے کیونکہ یہ بہت بڑی حقیقت ہے کہ یہ ہے تو ہمارا دِین سلامت ہے۔ دنیا میں کہیں بھی کچھ ہورہا ہو جوہمیں بُرا لگ رہا ہو، ہمیں سب سے پہلے یہ سوچنا ہے کہ ہم نے اپنے ملک کو کوئی نقصان نہیں پہنچانا۔ لیکن ہمارے یہاں یہ نہیں ہوتا۔ اگر کسی نے کوئی بات کہنی ہے تو اسے چاہیے کہ وہ حکومت سے اجازت طلب کرے۔ اگر حکومت اجازت دے دے تو ٹھیک ہے۔ یہ طریقہ کہ حکومت اِجازت نہ دے اور لوگ لانگ مارچ شروع کردیں یا جلسے جلوس کریں یا ہڑتال کی کال دے دیں صرف ملک میں فتنہ پھیلانے کے برابر ہے۔ اِس سے کبھی ملک کو فائدہ نہیں پہنچے گا۔ مزید یہ کہ ہمارادِین ہر حال اور ہر صورت میں حکمران کی اِطاعت کی تعلیم دیتا اور تلقین کرتا ہے جب تک حکمران کافر نہ ہوجائے۔ ہمارے ساتھ تو یہ معاملہ نہیں ہے۔ جب مذہبی جماعتیں اِسلامی تعلیمات کی یوں کھلم کھلا خلاف ورزی کرتی ہیں تو عوام یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عین اِسلام کے مطابق ہے۔ حالانکہ شریعت اِس کے بالکل مخالف ہے۔چنانچہ اِسلام کا حلیہ ہی بگڑ جاتا ہے۔ جب عوام اِسلام کے متعلق غلط نظریات اور عقائد پالنے لگتے ہیں تو نہ صرف ملک کے امن و سکون کو دھچکا لگتا ہے بلکہ دِین کو بھی سخت نقصان پہنچتا ہے۔ اِسلامی تعلیمات گڈمڈ ہوجاتی ہیں۔ لوگ اپنی مرضی کو اِسلام کا رنگ دے دیتے ہیں۔ سب یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اِسلام میں کسی بھی قسم کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ ہڑتال کرو، جلوس نکالو، جلسے کرو، لوگوں کی زندگی اجیرن بناؤ، املاک کو نقصان پہنچاؤ، ملک کا معاشی اور معاشرتی نقصان کرو، ملک سے امن ختم کرکے افراتفری پھیلاؤ سب اِسلام کے مطابق ہے۔ یہ بہت خوفناک نتائج ہیں جو اِن حرکتوں کی وجہ سے نکلتے ہیں۔نبی اکرم ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے حاکم میں کوئی ناپسندیدہ بات دیکھے تو صبر کرے، کیونکہ جو جماعت سے بالشت بھر بھی الگ ہوا اور مرگیا، وہ جاہلیت کی موت مرا۔ (بخاری ، مسلم)۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ اِسلام کا نام لے کر اپنی سیاست کرنا روزِ حساب کس قدر خوفناک نتائج لائے گا۔ مذہب کو اپنے ذاتی ایجنڈا کے طور پر اِستعمال کرنا نہایت قبیح حرکت ہے۔ لوگوں نے ہمیشہ اپنی ذات کو دِین کے تابع بنایا ہے۔ یہی دِین کامطالبہ ہے۔ جب عمل اِس کے برعکس ہوجائے تو سب کا ہی نقصان ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے پاکستان کی فلاح کی فکر کریں۔ اپنے نظریات اورخیالات کو اِس کی فلاح کے تابع بنائیں۔ اِس کو نقصان دیناہماری دنیا اور آخرت دونوں کو برباد کرے گا۔
اِسلام میں وطن کی اہمیت
09:24 AM, 29 Oct, 2025