پاکستان اور ترکی کی دوستی دنیا کی ان نایاب مثالوں میں سے ایک ہے جس کی بنیاد خلوص، احترام اور باہمی اعتماد پر رکھی گئی ہے۔ اس ہفتے ملک بھر میں پاکستان۔ترکیہ دوستی ہفتہ جوش و خروش سے منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد دونوں برادر ملکوں کے دیرینہ تعلقات کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور مستقبل کے لیے تعاون کے نئے راستے متعین کرنا ہے۔پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کسی عارضی مفاد یا وقتی ضرورت کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ رشتہ صدیوں پر محیط مذہبی، ثقافتی اور تاریخی وابستگی سے پروان چڑھا ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اس وقت بھی ترک قوم کے ساتھ ہمدردی اور تعاون کا مظاہرہ کیا جب ترکیہ اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہا تھا۔ اسی جذب اخوت نے دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے فوراً بعد ترکیہ ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب دونوں ملکوں کے تعلقات کو رسمی سفارتی بنیاد ملی۔ قائد ِاعظم محمد علی جناح نے ترکیہ کے جدید ریاستی ماڈل اور اصلاحات کی تعریف کی، جبکہ ترکیہ قیادت نے پاکستان کے قیام کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کی علامت قرار دیا۔ وقت کے ساتھ یہ تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا گیا۔ 1950ء اور 1960ء کی دہائیوں میں دونوں ملکوں نے مختلف معاہدوں کے ذریعے تعاون کے نئے در وا کیے۔ پاکستان نے ہمیشہ ترکیہ کے قومی مفادات کا احترام کیا اور ترکیہ نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ 1965ء اور 1971ء کی جنگوں کے دوران ترکیہ کی اخلاقی و سفارتی حمایت نے پاکستانی قوم کے دل جیت لیے۔پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ صرف الفاظ تک محدود نہیں رہا بلکہ ہر مشکل وقت میں عملی تعاون کی شکل میں ظاہر ہوا۔ 2005 ء کے تباہ کن زلزلے میں ترکیہ نے جس طرح امدادی ٹیمیں، ادویات اور تعمیراتی سامان بھیجا، وہ آج بھی پاکستانی عوام کے دلوں میں محفوظ ہے۔ اسی طرح 2022ء کے تباہ کن سیلاب میں ترکیہ کی فوری امداد نے ثابت کیا کہ دونوں ملک صرف دوست نہیں، بلکہ ایک ہی دل کی دو دھڑکنیں ہیں۔اسی طرح جب ترکیہ میں 2023 ء کے آغاز میں شدید زلزلہ آیا تو پاکستان نے فوری طور پر امدادی ٹیمیں اور اشیائے خورونوش روانہ کیں۔ پاکستانی عوام نے اپنے ترک بھائیوں کے لیے دل کھول کر عطیات دئیے۔ یہ جذبہ اخوت دونوں قوموں کی باہمی محبت اور احساسِ یکجہتی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ گزشتہ چند برس میں دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان مسلسل روابط اس دوستی کو نئی توانائی فراہم کر رہے ہیں۔ صدر رجب طیب اردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان باہمی اعتماد اور ہم آہنگی نے تعلقات کو مزید وسعت دی ہے۔ دونوں رہنما مختلف عالمی فورمز پر ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں اور باہمی تعاون کو بڑھانے پر زور دیتے ہیں۔ رواں برس فروری میں اسلام آباد میں پاکستان۔ترکیہ ہائی لیول سٹریٹیجک کوآپریشن کونسل کا ساتواں اجلاس منعقد ہوا جس میں تعلیم، صحت، دفاع، تجارت، میڈیا، سیاحت اور ثقافت کے شعبوں میں چوبیس مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ اس اجلاس کو دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی تعاون دوستی کا سب سے مضبوط ستون بن چکا ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں، تربیتی پروگرام اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں اشتراک مسلسل جاری ہے۔ ترک بحریہ کی جدید ٹیکنالوجی اور پاکستان کے تجربات نے مشترکہ منصوبوں کو کامیاب بنایا ہے۔ترکیہ نے پاکستان کے ساتھ جدید جنگی جہازوں اور آبدوزوں کی تیاری کے منصوبوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ دونوں ممالک کے اعلیٰ فوجی حکام کی باقاعدہ ملاقاتیں دفاعی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف دونوں ممالک کی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کو بھی فروغ مل رہا ہے۔تجارتی و معاشی میدان میں بھی پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تعلقات میں قابلِ ذکر پیش رفت ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے اور قیادت کا ہدف اسے پانچ ارب ڈالر تک پہنچانا ہے۔ترکیہ کی تعمیراتی کمپنیاں پاکستان میں انفراسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور توانائی کے منصوبوں پر کام کر رہی ہیں۔ لاہور میں میٹرو بس سروس، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور دیگر شہری منصوبے ترکیہ کے اشتراک سے کامیابی سے چل رہے ہیں۔ پاکستانی مصنوعات، خاص طور پر ٹیکسٹائل، چمڑا، کھیلوں کا سامان اور زرعی اشیا، ترکیہ منڈیوں میں مقبول ہو رہی ہیں جبکہ ترکیہ سے مشینری، کیمیکل اور صنعتی سامان پاکستان درآمد کر رہا ہے۔توانائی کے شعبے میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھ رہا ہے۔ ترک ماہرین پاکستان کے توانائی کے منصوبوں اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے عمل میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ یہ اقدامات دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات کو ایک نئے دور میں داخل کر رہے ہیں۔پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کا ایک اور خوبصورت پہلو عوامی سطح پر محبت اور ثقافتی رشتہ ہے۔ ترکیہ کے ڈرامے اور فلمیں پاکستان میں بے حد مقبول ہیں جنہوں نے ترک ثقافت کو پاکستانی گھروں تک پہنچا دیا ہے۔ اسی طرح پاکستان کے تعلیمی اداروں میں ترک زبان اور ثقافت کے حوالے سے دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ترک معارف فاؤنڈیشن پاکستان میں متعدد تعلیمی ادارے چلا رہی ہے جہاں ہزاروں طلبہ جدید تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پاکستانی طلبہ بھی ترکیہ کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے مواقع حاصل کر رہے ہیں۔ اس وقت تقریباً تین ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ ترکیہ میں زیر تعلیم ہیں۔ثقافتی تبادلے، مشترکہ میوزیکل پروگرامز، آرٹ نمائشیں اور سیاحت کے فروغ کے منصوبے بھی دونوں ممالک کے عوام کو مزید قریب لا رہے ہیں۔
پاکستان۔ ترکیہ دوستی: برادرانہ تعلقات کی درخشاں مثال
09:23 AM, 29 Oct, 2025