قدیم عرب محاوروں میں کہا جاتا ہے: الشعراء تلامیذ الرحمن ( شعراء رحمن کے شاگرد ہیں)۔ محاورے کلیے ہوتے ہیں۔ لوگو! یہ کلیہ ہر کس و ناکس پر لاگو نہیں ہوتا۔ چند مخصوص لوگ ہیں، چند چنیدہ سخن ور ہیں جو اس محاورے کے مصداق ہوا کرتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ٹھہری کہ تلامیذ الرحمن بننے سے کہیں پہلے عباد الرحمن ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ظاہر ہے عباد الرحمن ہونا کوئی کارِ آسان نہیں، کہ اس کی پہلی شرط ہی عجز انکسار ٹھہری ہے۔ سورۃ الفرقان میں عباد الرحمن کی پہلی نشانی یہ بتائی گئی ہے: ’’وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ھوناً وّواِ ذا خاطبھم الجاھلون قالو سلاماً… رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر بڑی عاجزی سے چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے کلام کرتے ہیں تو وہ انہیں کہتے ہیں: تمہیں سلام ہے‘‘۔
صاحبانِ ذی وقار! کوئی ہنر ہو، کوئی غیر معمولی صفت ہو، یہاں تک صفتِ عبادت ہی کیوں نہ ہو، دیکھتے ہی دیکھتے موصوف کو خود نمائی کی ہوس میں مبتلا کر دیتی ہے، یہ خودنمائی پھر خود پسندی اور بالآخر فخر اور غرور تک لے جاتی ہے۔ اگر کوئی ذی صفت عجز و انکسار میں پایا جاتا ہے تو یہ رب تعالیٰ کے خصوصی فضل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ عباد الرحمن ہوئے بغیر تلامیذ الرحمن ہونے کے زعم میں ہونا ایک سراب تو ہو سکتا ہے، حقیقت نہیں۔ فکر و ہنر، شعر و سخن کا ملکہ غیر مسلموں کے ہاں بھی پایا جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انہیں کہاں سے القاء ہوتا ہے۔ شعر و سخن سمیت سب فنونِ لطیفہ دراصل وہبی کمالات ہیں، یہ حواسِ خمسہ اور ذہانت کا کوئی کیمیائی تعامل نہیں۔ ان کی روحانی حیثیت القاء کی ہے۔ دل میں ایک الگ نوعیت کی کسی بات، کسی نکتے یا کسی اچھوتے خیال کا القاء تمام علوم فنون کے لیے ایک بیج کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ القاء دو قسم کا ہوتا ہے: ایک القائے رحمانی ہے اور دوسرا القائے شیطانی۔ ابتدائی نوعیت میں تمام بیج ایک سے معلوم ہوتے ہیں لیکن وقت فیصلہ کرتا ہے کہ شجرِ زقوم کا بیج کون سا تھا اور شجرِ زیتون لا شرقی ولا غربی … کا بیج کس کی کشتِ دل میں ڈالا گیا ہے۔ درخت اپنے بیج سے نہیں، اپنے پھل سے پہچانے جاتے ہیں۔
القائے رحمانی کے حامل سخن ور اپنے سامعین و قارئین کو فکر و احساس کو علوی خیال و افکار کی طرف لے کر جاتے ہیں، ان کی نظر کو سوئے مدینہ و نجف لے جاتے ہیں، ان کے بشری حجابات وَا کرنے کا باعث بنتے ہیں اور انہیں عرفانِ خود اور پھر عرفانِ خدا کے سفر کا راہرو بناتے ہیں۔ شیطانی القاء کے زیرِ اثر کام کرنے والے فن کار اپنے عجائباتِ فن دکھا کر مخلوقِ خدا کو بے راہ روی کی طرف لے جاتے ہیں، ان میں سفلی جذبات ابھارنے اور علوی افکار کردار
کی بے قدری کرنے پر آمادہ کرتے ہیں … انہیں ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کا فلسفہ یاد کراتے ہیں … الغرض یہ وہ ’’قرین‘‘ ہیں، جس سے نجات کی تمنا انسان بروزِ قیامت کرے گا … یہ وہی ہیں جن کی بابت انسانو ں کا آگاہ کر دیا گیا ہے: ’’یوسوس فی صدور الناس‘‘ … اور جن کے فکری اثرات سے بچنے کے لیے تعوذ اور معوذتین بھی نازل کی گئی ہیں۔
بالعموم بڑی شخصیات کو قریب سے دیکھا جائے تو وہ چھوٹی دکھائی دینے لگتی ہیں۔ یہ مشہور لیکن عام قد کاٹھ کے لوگوں کی بات ہے۔ میں آپ کو ایک خاص آدمی کے پاس لے کر جا رہا ہوں۔ میری مراد ہے: پروفیسر سیّد حسن عسکری کاظمی۔ میرا ممدوح یہ سیّد زادہ، جب بھی ملا، مجھے پہلے زیادہ قد آور دکھائی دیا۔ یہ جتنے بڑے شاعر اور ادیب ہیں، اس سے زیادہ بڑے انسان ہیں۔ انسان ہم اسے کہیں گے جو انس کا امین ہو۔ انسان وہ ہے جو ہر دوسرے انسان کے لیے کشادہ دل ہو … جس کا دل اور دسترخوان دونوں کشادہ ہوں۔ ہر مہمان کے لیے مثلِ ابرہیمؑ کشادہ دلی کا مظاہرہ کرے۔ سادات دراصل ذریتِ ابراہیمؑ ہی تو ہوتے ہیں۔
عباد الرحمان کی درج بالا صفات ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ عجز و انکسار اُن کے کردار سے اس طرح ٹپکتا ہے جس طرح صبح دم گلاب کے پھولوں سے شبنم۔ میں نے دیکھا ہے، یہ زمین پر بڑی عاجزی سے چلتے ہیںاور جب کوئی جاہل ان سے الجھتا ہے تو بس سلام کہہ کر رخصت لے لیتے ہیں۔ اور ہاں! یہ اٹھتے بیٹھتے اپنے رب کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ یعنی ’’والذین یبیتون لربھم سجداً و قیاماً … بھی ان کی شخصیت کا لازمہ ہے۔
مجلسِ فکرِ واصفؒ کے زیرِ اہتمام ماہانہ نعتیہ مشاعرے کی صدارت کے لیے میں ہم انہیں بڑی باقاعدگی سے مدعو کیا کرتے ہیں۔ اگر کبھی ان مشاعروں میں تعطل آنا شروع ہوا تو پروفیسر صاحب کمالِ شفقت سے یاد دہانی کراتے ہیں کہ بھئی کچھ عرصے سے آپ کے ہاں نعتیہ مشاعرہ نہیں ہو رہا۔ پروفیسر صاحب بشمول جناب کرامت بخاری اور برادرم طارق واصفی ایسے سکہ بند شاعر حضرات مجلسِ فکر واصفؒ کے نعتیہ مشاعرے کے بارے کھل کر اظہارکر چکے ہیں کہ انہیں یہاں باذوق سامعین میسر آتے ہیں اور بقول اُن کے، یہاں روحانیت کی ایک واضح اور قابلِ درک لہر محسوس ہوتی ہے۔ ظاہر ہے، یہ لہر اُس قلزم کی دین ہے جس نے اپنے نام اور کام کے ساتھ ایک گونہ نسبت عطا کر رکھی ہے۔
پروفیسر صاحب میرے والد محترم سے سات برس بڑے ہیں، اور میرے مرشد سے کوئی دو برس چھوٹے۔ ان سے جب جب ملاقات ہوتی ہے تو ایک طرف مجھے ان میں اپنے والد کا سراپا نظر آتا ہے، اللہ میرے والد کو عمر خضر عطا کرے، اور دوسری طرف مجھے ان میں اپنے مرشد کی جھلک دکھائی دیتی ہے … جنہیں اللہ نے خضریت عطا کر رکھی ہے۔ پروفیسر صاحب کی تاریخ پیدائش 16 اکتوبر 1931ء ہے۔ ہر سال اہلِ سخن اس خدائے سخن کا یومِ پیدائش بڑے تزک و احتشام سے مناتے ہیں۔ ان کی یومِ پیدائش کی تقریب کبھی ان کے گھر میں بپا ہوتی ہے، اور کبھی آرٹ کونسل میں۔ حدیثِ پاک میں ایسے شخص کی مدح کی گئی ہے جس کی عمر دراز ہو اور وہ خیر کے کاموں میں مصروف ہو۔ میرے ممدوح یقیناً اس مدح کے حامل ہیں۔
پروفیسر صاحب کاروانِ شعر و سخن کے میرِ کارواں ہیں اور اپنے رختِ سفر میں نگہ بلند، سخن دلنواز اور جاں پُرسوز رکھتے ہیں۔ موصوف ہر نعتیہ مشاعرے میں نعت گو شاعر سے کہتے ہیں کہ بھئی مجھے یہ بتائیں کہ آپ کا دیوان کدھر ہے، ابھی تک شائع کیوں نہیں ہوا۔ مجھے بھی اتنی بار یاد دہانی کرا چکے کہ اب مجھے چار و ناچار ان کی نظروں میں سرخرو ہونے کے لیے بڑے عرصے سے تعطل میں پڑے دیوانِ نعت کو از سرِ نَو ترتیب دے کر اشاعت پذیر کرنا ہو گا۔
ماضی قریب میں نعت کہنے کی جستجو میں جب شاعری کی صورت میں اِلقائے رحمانی کا سلسلہ دراز ہوا تو دِل میں خیال آیا کہ شاعری میں مجھے کسی استاد کے سامنے زانوئے تلمّذ تہہ کرنا چاہیے۔ پروفیسر صاحب اس شعبے میں استاد الاساتذہ ہیں۔ چنانچہ میں نے ان کے سامنے باضابطہ عرضداشت پیش کر دی، میری خوش نصیبی کہ انہوں نے مجھے قبول کر لیا۔ اگرچہ کہتے رہتے ہیں کہ آپ کو صرف مشاورت کی ضرورت ہے، اصلاح کی نہیں، لیکن استادِ مکرم کی یہ واحد بات ہے جسے میں تسلیم نہیں کرتا۔ پروفیسر صاحب شعر اتنی آسانی اور سہولت سے کہتے کہ ہم ایسے اتنی آسانی سے نثر نہیں کہہ سکتے۔
ایں سعادت بزورِ بازو نیست
پچاس سے زاید کتابوں کا مصنّف ہونا کوئی کارِ آسان نہیں۔ بارہ کے قریب تو صرف نعتیہ مجموعے ہیں۔ کارِ ہنر کا یہ سفر استقامت طلب کرتا ہے … اور یہ وہ شخصیت ہیں جنہیں دیکھ کر ہم ایسے متلون مزاج بھی استقامت کا سبق سیکھتے ہیں۔ ان کی شخصیت سے ہم نے ادب بھی سیکھا ہے۔ یہ دوسرا ادب ہے ، یعنی کرنے والا ادب۔ بتاتے ہیں کہ میں جائے نماز پر باوضو ہو کر بیٹھتا ہوں، تب نعت کہتا ہوں۔ بتاتے ہیں کہ رمضان میں سوائے نعت کے اور کچھ نہیں کہتا، اور محرم کے ایام میں بھی نعت اور منقبت کے سوا کچھ اور نہیں کہتا۔ یہ سب قابلِ تعریف بھی ہے اور قابلِ تقلید بھی۔ دعا ہے کہ ربِ کائنات ان کی عمر ِ رواں میں مزید برکت عطا فرمائے تاکہ مستقبل کے سخنور ان سے مزید کچھ سیکھ سکیں … شعر بھی ادب بھی!!
الشعراء تلامیذ الرحمن
09:21 AM, 29 Oct, 2025