گزشتہ دنوں بزرگ صحافی و کالم نگار محمود شام نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ لکھی ’’ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ابھی سے پاکستان اخباری میوزیم کی تیاریاں شروع کر دے۔ پرنٹنگ مشینیں، کمپیوٹرز، مسطر، آخری کاپیاں وغیرہ‘‘۔یہ محض ایک پوسٹ نہیں بلکہ بدلتے زمانے کے تقاضوںکے پیش نظر ایک تلخ حقیقت کی عکاسی تھی۔دل اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں پس وپیش سے کام لے رہا ہے لیکن دماغ کے نزدیک اگر دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہ ہوا گیا تو ایسا ہونا اب محض چند برسوں کی دوری پر ہے۔ ویسے برسوں کا لفظ بھی میں نے اپنے دل کی تسلی کیلئے لکھا ہے ورنہ حالات جس تیزی سے بدل رہے ہیں یہ چند مہینوں کی بات لگتی ہے ۔ اللہ نہ کرے ایسا ہو۔
مجھے بچپن سے ہی اخبار پڑھنے کا شوق تھا ، چھ سات برس کی عمر میں جب ہم عمر بچے کھیل کود میں مشغول ہوتے تو میں اخبار بینی میں مصروف ہوتا تھا ۔ والدہ محترمہ جب بازار سے کوئی چیز لینے بھیج دیتیں اور وہ اخباری کاغذ میں لپٹی ہوتی تو اس پر موجود تمام خبریں بھی ذوق و شوق سے پڑھا کرتا تھا۔ جنون کا یہ عالم تھا کہ اخبار کی لیڈ، سپرلیڈ اور دیگر سرخیاں ہی نہیں بلکہ ایک ایک خبر کی تفصیل جو بقیہ میںہوتی تھی وہ تک پڑھ لیتا تھا۔ صحافت و سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور شاید یہی وجہ تھی کہ اخبار بینی نے سیاست سے بھی دلچسپی حد درجہ تک بڑھا دی ۔ نوے کی دہائی میں پاکستان میں تین بار عام انتخابات کا انعقاد ہوا :1990ء ،1993ء اور 1997ئ۔ اس سے قبل 1988ء میں بھی الیکشن ہو چکے تھے۔ دس برس میں چار مرتبہ الیکشن ہوئے تو ایسے لگتا تھا کہ جیسے روز انتخابی دنگل ہو رہے ہیںیعنی انتخابی فضا ختم ہی نہیں ہوتی تھی۔ یہ پرنٹ میڈیا کے عروج کا دور تھا جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں پی ٹی وی کا ہی ڈنکا بجتا تھا۔سوشل میڈیا کا تو نام ونشان تک نہ تھا۔ معلومات کے حصول کا واحد مستند ذریعہ ہونے کے باعث انتخابات کے دنوں اخبارات کی اشاعت حد درجہ بڑھ جاتی تھی۔ الیکشن ڈے پر بڑے اخبارات قومی و صوبائی اسمبلیوں کے امیدواران کی فہرست شائع کیا کرتے تھے ۔ انتخابات والے دن ہم یہ فہرستیں بڑے سنبھال کر رکھتے اور الیکشن ڈے پر دن بھر کی سیاسی آوارہ گردی کے بعد شام کو ٹی وی کے آگے بیٹھ کر انتخابی نتائج کا انتظار شروع کر دیتے۔ اُس وقت آج کل کی طرح آپادھاپی کا زمانہ نہیں تھا کہ ہر چینل بریکنگ نیوز اور دوسرے پر برتری لینے کے چکر میں غلط یا صحیح چھ بجے ہی نتیجہ بتانا شروع کردیتا ہے۔ اُس وقت تو پہلا نتیجہ آتے بسا اوقات رات کے بارہ بج جاتے تھے اور اس سے قبل ہم الیکشن ٹرانسمیشن سے ہی لطف اندوز ہوا کرتے تھے۔ جب کوئی نتیجہ ٹی وی سکرین پر نمودار ہوتا تو ہم مستعد ہو جاتے اور وہ اخباری صفحہ نکالتے جس پر امیدواران کی فہرست دی ہوتی اور پھر اس کے آگے بنے خانوں کو پُر کرنا شروع کر دیتے تھے۔ امیدوار کا نام، پارٹی وابستگی، حاصل کردہ ووٹ وغیرہ سارے خانے پُر کیے جاتے تھے۔اخباری کاغذ سے محبت کا جو لازوال رشتہ بچپن میں قائم ہواتھا‘ وہ آج تک قائم ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب پرنٹ میڈیا کے اختتام کے متعلق کوئی پیشگوئی کرتا ہے تو ساری یادیں اور آمدہ خواب بکھرتے اور ٹوٹتے دکھائی دیتے ہیں۔
2004ء میں شعبۂ صحافت میں قدم رکھا تو ابھی قلم کی حرمت باقی تھی اور ایک ایک لفظ ناپ تول کر لکھا جاتا تھا۔ یہ وہ دور تھا جب وطن عزیز میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی ۔انہوں نے اکتوبر 1999ء میں ملکی اقتدارحاصل کیا تو 2001ء تک ملک ایک ایسے دور سے گزر رہا تھا جہاں نجی ٹی وی چینلزکا نام و نشان نہیں تھا۔ اکتوبر 2002ء میںباضابطہ طور پر نجی ٹی وی چینلز کو پاکستان میں کام کی اجازت دی گئی تو صحافت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ ایک ایسا دور جس میں ٹی وی چینلز نے آہستہ آہستہ خبروں اور تبصروں پر اجارہ داری حاصل کرنا شروع کردی۔میڈیا پرسنز جو اس سے پہلے شرافت ، وقار اور حق گوئی کی علامت سمجھے جاتے تھے‘ کچھ عاقبت نااندیش صحافیوں کی وجہ سے طاقت، شہرت، دولت اور مفاد پرستی کی نشانی سمجھے جانے لگے۔ اگرچہ صحافیوں کی اکثریت اب بھی اس شعبہ کی حرمت کیلئے اپنے وقار اور شرافت پر قائم تھی۔ الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ چند مخصوص میڈیا اینکرپرسنز کو دیکھ کر نئی نسل اس شعبہ کی طرف راغب ہوئی چنانچہ یونیورسٹیوں میں میڈیا سے متعلق شعبہ جات میں طلبہ نے بڑی تعداد میں داخلہ لیا۔ مارچ 2007ء میں جنرل پرویز مشرف نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو برطرف کیا تو میڈیا ان کی بحالی ٔ تحریک کا ہراول دستہ بن کر ابھرا۔ چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے ججزکی بحالی کے بعد نومبر 2007ء میں ایک بارپھر برطرفی کی گئی تو اس دوران ٹی وی چینلز بند کر دیئے گئے تاہم کچھ وقفہ کے بعدانہیں بحال کردیا گیا۔ اگست 2008ء میں پرویزمشرف مستعفی ہوگئے مگراب یہاں صحافت ، طاقت کی ایک نئی شکل بن کر ابھر چکی تھی۔
پرنٹ میڈیا تو اپنی روایتی ڈگر پر ہی چل رہا تھا اور کسی حد تک اپنی عزت برقرار رکھے ہوئے تھالیکن الیکٹرانک میڈیا اس دور میں طاقتور ہوا اوراس نے اپنی طاقت کے نشے میں کچھ غلطیاں بھی کیں۔ چند نام نہاد صحافی اس شعبہ کا دہائیوں سے بنا وقار سربازارنیلام کر رہے تھے لیکن اس وقت کسی کو یہ بات سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ایک مخصوص لابی متحرک ہو چکی تھی ۔چنانچہ میڈیا کے اداروں میں کچھ لوگوں کی خدمات مستعار لی گئیں تو کچھ لوگوں کو خاص طورپر میڈیا اداروں میں شامل کرایا گیا۔ ایسے میں جینوئن صحافی بہت پیچھے رہ گیا ۔ اس عمل کے دوران خاموشی سے میڈیا کے اندر پیراشوٹ طبقہ بھی آن دھمکا۔ یہ طبقہ زیادہ تر ٹی وی اینکرز کی شکل میں نمودار ہوا۔ کسی صحافتی پس منظر کے بغیر خاموشی سے میڈیا میں در آنے والے ان حضرات کے پاس یا تو کسی کی پرچی تھی یا کسی کی سفارش۔ میڈیا کو متنازع بنانے کا جو عمل برسوں قبل شروع کیا گیا تھا‘ وہ اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ اب الیکٹرانک میڈیا سے بھی لوگوں کا دل اچاٹ ہو گیا ہے اور وہ خبروں و معلومات کے حصول کیلئے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں جہاں جھوٹ اور سچ کی تفریق نہیں اور اکثر فیک نیوز پھیلائی جاتی ہیں۔ اس سارے عمل نے خبر اور معلومات کی رسائی جیسے نازک مگر انتہائی اہم کام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے تاہم سچ لکھنے کا سفر جاری رکھنے والے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ سفر جاری رہے گا۔ ان شاء اللہ۔
سچ کا سفر…!
09:20 AM, 29 Oct, 2025