بے نتیجہ پاک افغان مذاکرات

09:20 AM, 29 Oct, 2025

افغان مجاہدین ہوں یا طالبان، یہ سب اول و آخر پشتون ہیں، ان کی ایک خاص ذہنیت ہے جو صدیوں کی ریاضت کے ساتھ ساتھ پختہ ہو چکی ہے۔ کبھی افغانستان کی جغرافیائی ہیئت وہ نہیں تھی جو اب ہے۔ افغانستان کی موجودہ شکل، 1893ء میں مورٹیمر ڈیورنڈ، نمائندہ برٹش حکومت اور اس دور کی کابل حکومت کے درمیان معاہدے کا نتیجہ ہے۔ ڈیورنڈ اور کابل کے حکمران امیر عبدالرحمن کے نمائندے پاراچنار میں بیٹھے طویل بات چیت کے بعد برطانوی ہند اور کابل حکومت کے درمیان زمینی تقسیم کا معاہدہ ہوا، جسے ڈیورنڈ لائن معاہدہ کہا جاتا ہے۔ 1905ء میں امیر حبیب اللہ خان نے برطانوی حکومت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ کیا جس میں ڈیورنڈ لائن معاہدے کی توثیق بھی کی گئی۔ اس کے بعد کنگ امان اللہ نے معاہدہ راولپنڈی کے ذریعے 1919ء میں اس معاہدے کی توثیق کی۔ پاکستان کے دورے کے دوران 1976ء میں افغانستان کے سردار دائود خان نے بھی اس معاہدے کو تسلیم کیا۔
ویسے یہ سردار دائود ہی تھے جنہوں نے پاکستان کے خلاف ڈیورنڈ لائن کا ایشو کھڑا کیا اور مرکز گریز قوتوں کو شہ دی۔ پشتونستان کا ایشو کھڑا کیا اور پشتونوں کو پاکستان کے خلاف ابھارا۔ افغانستان کے کنگ ظاہر شاہ کے خلاف بغاوت کر کے 1973ء میں صدر بن گئے، اس سے پہلے وہ 1953ء سے 1963 ء تک افغانستان کے وزیراعظم کے طور پر کام کر چکے تھے۔ سردار دائود ایک کٹر پشتون تھے۔ پشتونوں کی ترقی پر یقین رکھتے تھے۔ افغان معاشرے میں جدت لانا چاہتے تھے۔ انہوں نے اسی حوالے سے پشتونوں کو پاکستان کے خلاف ابھارا۔یہاں دہشت گرد کارروائیوں کی ایسے ہی پشت پناہی کی جس طرح کابل کے حکمران طالبان، پاکستان کے خلاف تحریک طالبان پاکستان کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ جوابی طور پر پاکستان کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے جوابی کارروائیاں کیں اور کابل دھماکوں سے گونج اٹھا تو پشتون سردار کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ انہوں نے 1975ء میں پاکستان کا دورہ کیا اور ڈیورنڈ لائن کو پاک افغان بارڈر تسلیم کر لیا۔ 1976ء میں پاک افغان تعلقات میں اور بھی بہتری آئی۔ یہ معاملات ابھی جاری تھے کہ 1977ء میں ایک خونی انقلاب ثور کے نتیجے میں سردار دائود کو ہلاک کر دیا گیا اور ان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا۔
افغانستان کی داخلی سیاست دسمبر 1979ء میں اشتراکی افواج کے افغانستان داخلے پر ایک نئے دورمیں داخل ہو گئی۔ پاکستان کی افغان پالیسی نے بھی نیا رخ اختیار کیا۔پاکستان نے کابل کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے افغانوں کی مدد کی۔ اشتراکی افواج کے افغانستان پر قبضے کے خلاف جدوجہد آزادی کرنے والے افغانوں کی سرپرستی کی۔ اقوام عالم کو ان کی پشت پر لاکھڑا کیا۔ پاکستان نے اپنے دروازے لڑنے والوں کے لئے بھی اور ان کے اہل و عیال کے لئے بھی کھول دیئے۔ 1979ء سے لے کر 1989ء تک پاکستان نے 70لاکھ مہاجرین کو یہاں پناہ دی۔ انہیں باعزت روزگار کے مواقع دیئے، باقی معاملات انہوں نے خود سیدھے کر لئے۔ انہوں نے یہاں شناختی کارڈ بھی حاصل کر لئے۔ پاسپورٹ بھی بنا لئے۔ کروڑوں کی جائیدادیں بھی بنا لیں۔ پاکستانی پاسپورٹ پر بیرون ملک بھی چلے گئے۔ اشتراکی افواج دس سال تک یہاں لڑنے کے بعد شکست کھا کر واپس لوٹ گئیں۔ افغانوں کی جدوجہد کامیاب ہو گئی پھر اقتدار کی جدوجہد شروع ہو گئی۔ پشتون و غیر پشتون لڑائی شروع ہو گئی۔ حتیٰ کہ آپس کے ان جھگڑوں میں سے طالبان نکلے اور دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان پر چھا گئے۔ 1996ء میں وہ کابل پر حکمران بن گئے۔ طالبان کی حکمرانی کو پاکستان نے تسلیم کیا حتیٰ کہ 2001ء میں 9/11 امریکی اتحادی افواج کو افغانستان تک لے آیا۔ طالبان تتر بتر ہو گئی اور پشتون ایک بار پھر اپنی آزادی کی جدوجہد میں لگ گئے۔ پاکستان اس جنگ میں امریکی اتحادی بننے پر مجبور تھا اس کے باوجود آزادی کی جنگ لڑنے والے طالبان کا مددگار بھی بنا رہا۔ کوئٹہ شوریٰ اور کراچی شوریٰ اسی پالیسی کا نتیجہ تھے یہی وجہ ہے کہ جب دوحہ میں طالبان، امریکہ مذاکرات ہوئے تو طالبان کے وفد کی قیادت کے لئے عبدالغنی برادر کراچی سے دوحہ لائے گئے تھے۔اسی معاہدے کے نتیجے میں امریکی سپاہ 30اگست 2021ء تک افغانستان سے نکل گئیں اور کابل پر ایک بار پھر طالبان کی حکمرانی لوٹ آئی۔ اس پورے عمل کو پاکستان نے ممکن بنایا تھا وگرنہ افغانستان خانہ جنگی کا شکار بھی ہو سکتا تھا۔ اگست 2021ء کے بعد اسلام آباد اور کابل کے درمیان معاملات وہ نہیں طے پائے جو ہونا چاہئے تھا۔ پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکی اتحادی بننے اور طالبان کے ساتھ معاملات جاری رکھنے کے باعث شدید مسائل کا شکار ہوا۔ اسی دور میں نہ صرف افغان امریکی حکومت کے زیرسایہ ہندوستان نے پاکستان میں دہشت گردی کو فروغ دیا بلکہ اسرائیلی موساد نے بھی حتی المقدور پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کاوشیں کیں۔ اگست 2021ء کے بعد بھی صورتحال نہیں بدل سکی۔ پاکستان بدستور دہشت گردی کا شکار ہے۔ اب دہشت گردوں کو کابل کے حکمران طالبان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ پاکستان نے اپنی افغان پالیسی میں ذرا سی تبدیلی کی ہے۔ افغانوں کی مہمانداری سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ دہشت گردوں کو افغانستان میں گھس کر بھی مارنے کی پالیسی اختیار کر لی ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پر سختی کی ہے۔ غیرقانونی اور عارضی مہاجر بستیاں ختم کر ڈالی ہیں۔ 15لاکھ سے زائد مہاجرین کو ان کے وطن واپسی بھجوا دیا گیا ہے اور ہنوز یہ عمل بڑی شدت سے جاری ہے۔ افغان بارڈر پر افغانوں کی آزادانہ نقل و 
حمل پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، اس طرح کے اقدامات نے افغان طالبان حکمرانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ دوحہ امن مذاکرات کا استنبول میں دوسرا دور اسی سوچ کا عکاس ہے۔ یہ مذاکرات طالبان حکومت کے اصرار پر شروع کئے گئے ہیں وگرنہ پاکستان نے تو اپنے طور پر ہی دہشت گردی کے خاتمے کی اپنی پالیسی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ ویسے استنبول میں مذاکرات کے تین ادوار مکمل ہو چکے ہیں لیکن ان کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا نظر آرہا ہے۔ افغان اپنی سرشت سے مجبور ہیں۔ وہ مجاہدین کی شکل میں ہوں یا طالبان کی صورت میں۔ وہ اول و آخر پشتون ہیں۔ بدمعاشی، لوٹ مار ان کی سرشت میں شامل ہے۔ وہ صرف اور صرف ایک زبان سمجھتے ہیں اور وہ ہے طاقت کی زبان، جو اب پاکستان نے بولنا شروع کر دی ہے۔ پاک افغان مذاکرات کا کچھ بھی نتیجہ نکلے، پاکستان کو طالبان کے ساتھ اسی زبان میں بات کرنا ہو گی جو انہیں سمجھ آتی ہے اور وہ طاقت کی زبان جو پاکستان بول رہا ہے اور وہ طالبان کو سمجھ آ بھی رہی ہے۔ وہ طالبان چاہے پاکستان کے ہوں یعنی تحریک طالبان پاکستان یا افغانستان کے ہوں یعنی تحریک طالبان افغانستان کے، ہر دو کو پاکستان کی طرف سے بولی جانے والی زبان سمجھ آنے لگی ہے۔ مذاکرات کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، مذاکرات بے نتیجہ ہی ہونگے۔

مزیدخبریں