پاکستان کا واضح مؤقف ،افغان قیادت ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کرے: اسحاق ڈار

04:50 PM, 29 Nov, 2025

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ غیر ملکی دوروں سے متعلق نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے افغانستان میں استحکام کو بنیادی شرط سمجھتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماسکو، بحرین، برسلز اور کابل کے دورے انتہائی مصروف اور نتیجہ خیز ثابت ہوئے۔

اسحاق ڈار کے مطابق ماسکو میں ایس سی او سربراہانِ حکومت اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کی گئی، جہاں معاشی ترجیحات، علاقائی روابط، توانائی تعاون اور افغانستان کی صورتحال پر پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا گیا۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور علاقائی سلامتی پر گفتگو ہوئی، جب کہ انہیں دورۂ پاکستان کی دعوت بھی دی گئی۔

نائب وزیراعظم نے بتایا کہ ایس سی او ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے، ایس سی او بینک کے قیام اور مقامی کرنسی میں لین دین کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ اجلاس کے اختتام پر 11 اہم فیصلے منظور کیے گئے۔

افغانستان سے متعلق سوالات پر اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ کابل کے دورے میں افغان قیادت کو دو ٹوک پیغام دیا گیا کہ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے، مگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح کیا کہ افغان حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف مؤثر کارروائی کرے یا انہیں کہیں دور منتقل کرے۔

برسلز میں یورپی یونین کے ساتھ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے دوران، انہوں نے کہا کہ کشمیر، سندھ طاس معاہدہ، دہشت گردی، افغانستان، جی ایس پی پلس اور دوطرفہ تعاون سمیت اہم امور زیرِ بحث آئے۔ یورپی حکام سے ملاقاتوں میں غلط فہمیاں دور کی گئیں اور پاکستان نے افغانستان سے متعلق اپنے خدشات کھل کر بیان کیے۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر غربت میں کمی کے لیے مؤثر کردار ادا کیا ہے اور پاکستان ایک مضبوط ملک ہے، دنیا کی کوئی طاقت اسے شکست نہیں دے سکتی۔

مزیدخبریں