واشنگٹن:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں آٹوپین کے ذریعے دستخط کیے گئے تمام ایگزیکٹو آرڈرز منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آٹوپین کا استعمال “غیر قانونی” تھا اور ایسے تمام حکومتی احکامات اب کالعدم تصور کیے جائیں گے۔
اپنے بیان میں ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ بائیں بازو کے عناصر نے بائیڈن کے اختیارات پر اثرانداز ہو کر حکومتی کارروائیوں کو کنٹرول کیا، جبکہ کئی اہم احکامات کی منظوری میں خود بائیڈن شامل نہیں تھے۔ ان کے مطابق آٹوپین کے ذریعے کیے گئے فیصلے آئینی طور پر درست نہیں سمجھے جاسکتے۔
دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آٹوپین ماضی میں بھی مختلف انتظامیہ کے ادوار میں دستخط کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے اور اس طریقۂ کار کو مکمل طور پر غیر قانونی قرار دینا آسان نہیں ہوگا۔
ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد واشنگٹن میں سیاسی ردعمل بڑھ گیا ہے اور متعلقہ ادارے اب اس فیصلے کے ممکنہ قانونی اور انتظامی اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔