ہم صحافی جب کچھ ڈرائنگ روموں میں بیٹھے ہوتے ہیں یا ان بڑے بڑے ایوانوں کے باہر سڑکوں پر بھی کھڑے ہوتے ہیںتو بڑے بڑے فیصلوں کے گواہ بن رہے ہوتے ہیں، تاریخ اپنے قلم سے لکھ اور کیمرے سے ریکارڈ کر رہے ہوتے ہیں۔ میں نے ایٹمی دھماکوں کے بعد ستائیس برس بعد سوشل میڈیا پر بحث دیکھی جو کریڈٹ اور ڈس کریڈٹ کا فیصلہ کررہی ہے۔ وہ یو ٹیوبرزیا ٹویپس جنہوں نے ایٹمی دھماکوں کے ایک ڈیڑھ یا دو عشروں کے بعد جسمانی یا سیاسی جنم لیا وہ کیسے اس پر فیصلہ کر سکتے ہیں مگر وہ خواہشات اور تعصبات کی بنیاد پر تاریخ کو مسخ ضرور کر رہے ہیں۔ کئی لوگ کہہ رہے ہیں کہ ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ نواز شریف کا نہیں تھا تومجھے حیرت ہو رہی ہے کیونکہ میاں نواز شریف کٹھ پتلی وزیراعظم نہیں تھے۔ میں نے نواز شریف کی طاقت اس وقت دیکھی ہے جب انہوں نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے استعفیٰ طلب کر لیا تھا اور انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
بہت سارے کہتے ہیں کہ ایٹمی دھماکے کروانے کا فیصلہ فوج نے نواز شریف سے کروایا تھا اور فوج سے مراد ہوتی ہے اس وقت کا آرمی چیف۔ اس وقت دو آرا تھیں، دوسری رائے یہ تھی کہ ایٹمی دھماکے کرنے کی بجائے امریکی پیکج لے لیا جائے اوریہی رائے ہمارے بعض سینئر صحافی اور دانشور بھی رکھتے تھے۔ میں اس رائے کو بھی نہ بدنیتی سمجھتا ہوں نہ غداری، یہ بھی وطن کو مضبوط کرنے کے حوالے سے ایک لائحہ عمل تھا جس کے مطابق اصل دفاع مضبو ط معیشت میں چھپا ہوا تھا۔ جب الیکٹرانک اور سوشل میڈیا نہیں ہوا کرتا تھا اس وقت کے فوج کے سربراہ بہت کم بولا کرتے تھے۔ میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کے حوالے سے کوئی فرسٹ ہینڈ انفارمیشن شئیر نہیں بلکہ ایک سیاسی اور صحافتی تجزیہ کار کے طور پر واقعاتی شہادتیں شئیر کر رہا ہوں کہ جنرل جہانگیر کرامت ہمارے آج کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے مختلف ذہن کے حامل تھے اور شائد کسی حد تک جنرل پرویز مشرف کے قریب یعنی بہت حد تک لبرل اور ویسٹرن، یہی وجہ ہے کہ جب میاں نواز شریف نے ایک خطاب میں ان کی طرف سے نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز آنے پر استعفیٰ لیا تو پھر وہ امریکا چلے گئے، سٹینفورڈ یونیورسٹی اور بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ہوگئے۔ جب جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تو وہ واشنگٹن میں لگ بھگ دو برس تک پاکستان کے سفیر بھی رہے اور بعدا زاں اپنا تھنک ٹینک سپیئر ہیڈ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ قائم کر لیا یعنی وہ امریکی دانش سے زیادہ قریب ، ہم خیال تھے۔ میرا تجزیہ یہی ہے کہ یہ مکمل طور پر نواز شریف کا فیصلہ تھا اور انہوں نے اس فیصلے کی سزا بھی بھگتی جس طرح بعد میں انہوں نے سی پیک بنانے کی سزا بھگتی۔ نواز شریف عجیب مست ملنگ آدمی ہے، دوسرے اگر نفرت اور تعصب سے باز نہیں آتے تو وہ وطن سے محبت اور خدمت سے با ز نہیں آتا، قربانیاں دینے سے باز نہیں آتا۔
میں اس وقت ایک بڑے قومی اخبار کا لاہور میں چیف رپورٹر تھا ۔ اس اخبار کی لاہور میں سرکولیشن باقی تمام اخبارات کے مجموعے سے بھی زیادہ تھی، الیکٹرانک یا سوشل میڈیا ہوتے نہیں تھے سو میری اہمیت بھی بہت زیادہ۔ چونکہ وزیراعظم بھی لاہور سے ہی تعلق رکھتے تھے اور ہر ویک اینڈ پر دو سے تین روز کے لئے یہاں آتے بھی تھے تو ہمارے پاس ان سے ہونے والی آن دی ریکارڈ اور آف دی ریکارڈ گفتگو کی بنیاد پر فرسٹ ہینڈ انفارمیشن زیادہ ہوتی تھی۔ برادرم سلمان غنی اور محترم پرویز بشیرآج بھی ہمارے ساتھ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان دریش صحافیوں کو لمبی عمر دے مگر اشرف ممتاز اور خواجہ فرخ سعید اپنے رب کے حضور حاضر ہوچکے، زیادہ تر ہم سب ہی ہوتے تھے جو وزیراعظم کی ہر ہفتے اسلام آباد سے لاہور آمد پر ائیرپورٹ پہنچ جاتے، سیکورٹی کلئیرنس بہت آسان ہوا کرتی تھی اور وزیراعظم سے گپ شپ لگ جاتی تھی۔ اس دور میں میاں نواز شریف کی اپنے کارکنوں کے ساتھ میل ملاقات بہت زیادہ تھی۔ ان کی آمد پر ہر مرتبہ ماڈل ٹاو¿ن کے دروازے کھل جاتے اور بڑی تعداد میں کارکن گھر کے باہر والے حصے کے ڈرائنگ روم میں جمع ہوجاتے۔ پھر چھٹی والے دن میاں نواز شریف بھی ان کی تقریریں سنتے اور ہم بھی۔جب ایٹمی دھماکے کرنے تھے تو میاں نواز شریف نے کارکنوں، صحافیوں اور دانشوروں کی گھنٹوں تک تقریریں سنیں۔ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان کہہ رہے تھے کہ نواز شریف کی کابینہ کے اسی فیصد ارکان دھماکوں کے خلاف تھے مگر میں ان کی رائے سے اتفاق نہیں کرتا۔ دوسری رائے دینے والوں کی تعداد بیس فیصد سے زیادہ نہیں تھی۔
مجھے یاد ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد جب پرویز مشرف نے مارشل لا لگایا تو اس وقت بھی پاکستان اور ہندوستان کی فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے بارڈر پر آ گئی تھیں مگر یہ پاکستان کی ایٹمی قوت ہی تھی کہ بھارت نے پیسنٹھ اور اکہتر کی طرح حملے غلطی نہیں کی اور اب دس مئی کو اس نے جس طرح دوڑ لگائی توجہاں نقصان بہت بڑا تھا وہاں اس سے بھی بڑی اطلاع یہ تھی کہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے اس کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے جو ایٹمی پروگرام کے معاملات کے فیصلے کرتی ہے۔ نوے کی دہائی میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور قاضی حسین احمد سمیت بہت سارے ایسے بیانات دے رہے تھے، یہ سوچ کردباﺅ بڑھا رہے تھے کہ نواز شریف ایک صنعتکار ہیں اور وہ پاکستان کے مالی فائدے کے ساتھ جائیں گے، دھماکے نہیں کریں گے مگرانہوں نے ایک تاجر یا صنعتکار نہیں بلکہ ایک لیڈر اور سٹیٹس مین کے طور پر فیصلہ کیا جو بعد میں اسی طرح درست ثابت ہوا جس طرح بہت ساری مخالفت کے باوجود موٹرویز بنانے کے فیصلے، نیشنلائزیشن سے فری اکانومی پر جانے کے فیصلے۔
مجھے یہ کہنے میں عار نہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو ، ضیاءالحق، اسحق ڈار، بے نظیر بھٹو، ڈاکٹر عبدالقدیر خان ، ڈاکٹر ثمر مبارک مند او رنواز شریف چاہے ایک دوسرے کے بھرپور مخالف ہی کیوں نہ رہے ہوں مگر جب پاکستان کے ایٹمی پروگرام اور دفاع کی بات آتی ہے تو یہ سب ہمارے ہیرو ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نے اپنے کسی بھی سیاسی یا غیر سیاسی ہیرو کو متفقہ نہیں رہنے دیا۔ ہمارے کچھ دوست ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر لیبیا، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ ایٹمی راز شئیرکرنے یا ڈاکٹر ثمر مبارک مند پر تھرکول جیسے معاملات کو اٹھا رہے تھے تو میرا کہنا تھا کہ ہم پر ان کے احسانات ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں سے بہت بڑے ہیں۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانا ایک سورج جیسا کام ہے اور ان کی غلطیاں سامنے ایک چراغ کی طرح معمولی۔ ہمیں ایک ایسی نسل ملی ہے جو نفرت اور تعصب سے بھری ہوئی ہے اوراس کا کوئی علاج نہیں ہے۔مجھے یہ کہنے میںعار نہیں کہ اگر بیچ میں ایک اقتصادی اور دفاعی طور پر شرمناک اور ناکام دور نہ آتا تو آج نواز شریف کا پاکستان واقعی ایشئن ٹائیگر ہوتا۔
میں نے فیصلہ ہوتے دیکھا
09:18 AM, 30 May, 2025