آج وہ شخص رحم طلب حالت میں ہے جس کو میں نے کھلے آسمان تلے اور بند کمروں میں دھاڑتے ہوئے دیکھا اور سنا ہے ۔ تحریک انصاف میں گزارے ہوئے 25 سال میرے جیسے ان گنت وطن پرستوں کیلئے عمر قید سے بھی بُرے تھے کہ بے نتیجہ جدوجہد انسان کو مار دیتی ہے ۔ ٹراٹسکی کی کتاب ” انقلاب سے غداری “ کے کئی الجھے ہوئے پہراگرافز اور اُس کا قتل مجھے اُس دن سمجھ آئے جب عمران نیازی اپنی کہی ہوئی ہر بات سے مکر کر پرویز مشرف کے ریفرنڈم کی طرح ایک بار پھر فوجی جنتا کے قدموں میں بیٹھ گیا ۔گو کہ پرویز مشرف کے ریفرنڈم کے بعد اُس نے قوم سے کھلے بندوں اور اپنے ورکروں سے بند کمروں میں معافی بھی مانگی اور آئندہ کبھی عوامی طاقت سے ہٹ کر اقتدار کی غلام گردشوں میں بھاگنے کی خواہش نہ کرنے کا عہد کیا لیکن عمران نیازی اور تکمیل ِ عہد دو متصادم باتیں ہیں ۔ وہ اپنے عہد پر قائم رہ ہی نہیں سکتا اس کی وجہ ہر گز یہ نہیں کہ وہ کوئی بہت صاحبِ عقل انسان ہے اورمعروضی فیصلے کرتا ہے بلکہ وہ ” نو نقد نہ تیرہ ادھار “ کے اصول پر کام کرتا ہے۔ وہ نتائج کو دیکھے بغیر فوری فائدے کے پیچھے لپکتا ہے ۔یہی اُس کی کُل سیاست ہے جو آج تک ہمارے سامنے ہے اور آئندہ بھی اگر اُسے موقع ملا تو اِس سے مختلف نہیں ہو گی ۔وہ آج بھی دوسروں کی روٹی اور طاقت پر پلنے والا شخص ہے لیکن اُس کی مارکیٹ ویلیو برباد ہو چکی ہے ۔اُس کے تمام تجزیے غلط ثابت ہوئے ہیں ۔اُس نے جن پتوں پر تکیہ کیا تھا آج وہی اُس کے چھوٹے سے آشیانے کو ہوا دے رہے ہیں اورکچھ بعید نہیں کہ اس ہوا سے ہی وہ تمام عزائم جو اب مکروہ ثابت ہوتے جا رہے ہیں ایک ایک کرکے خاکستر ہوجائیں ۔ عمران نیازی کا مذہبی بیانیہ تو پہلے ہی ناقابل ِ فہم تھا کہ وہ بیک وقت ” معراجِ سیاست و مذہب “ پر فائز ہوناچاہتا تھا لیکن وہ زمانے کب کے گزر گئے جب لوگ چوری کرنے جاتے تھے اور قطب بن کر لوٹتے تھے ۔ اب جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں وہ انفارمیشن کی دنیا ہے اور آلاتِ ابلاغ نے دنیا کے تمام انسانوں کو ایک دوسرے کے انتہائی نزدیک کر دیا ہے سو آپ کوئی گناہ و جرم اگر قطب شمالی میں بھی کرکے آئیں گے تو اُس کی اطلاع قطب جنوبی تک لازمی جائے گی ۔ عمران نیازی نے جدید ریاست اور عالمی سرمایہ داری کو سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔2013ءسے لے کر 2017ءعمران نیازی اور میاں محمود الرشید کی تربیت سول اکیڈمیوں میں ہوتی رہی تاکہ وہ ایک اچھا ملازم بن سکے اور وہ بنا بھی ۔ یہاں اس بات کی بھی وضاحت کردوں کہ میاں محمود الرشید کو جس دن لیڈر آف دی اپوزیشن پنجاب اسمبلی بنایا گیا تھا اُسی دن اُس کی تربیت بطور وزیر اعلیٰ شروع ہو چکی تھی ۔ جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر بزدار کی آسمانی بجلی نہ گرتی تو عبد العلیم خان نے وزیراعلیٰ ہونا تھا وہ ایک وجود نہ رکھنے والی جنت میں رہ رہے تھے۔ عبدالعلیم خان نے ضرورت سے زیادہ عمران نیازی پر اعتبار کیا جو سیاست میں کسی صورت کرنا نہیں بنتا تھا ۔ مجھے تو یہاں تک یاد ہے کہ اگر کبھی میں عبد العلیم خان سے عمران نیازی کے حوالے سے کوئی سخت بات کرتا تھاتو وہ مائنڈ کیا کرتے تھے لیکن بہرحال عمران نیازی دھوکا دینے کا ماہر تھا سو اُس سے تربیت یافتہ سیاسی ورکرتو چھوڑیں معراج محمد خان جیسا بندہ دھوکا کھا گیا تو پھر عبد العلیم خان کے پاس تو اُس وقت سوائے عمران نیازی پر اعتماد کے کوئی دوسرا آپشن ہی نہیں تھا ۔ ہم سیاست میں روزانہ سیکھتے ہیں یقینا یہ وہی سبق تھا جو عبد العلیم خان نے تحریک انصاف اورعمران نیازی کی بے وفائی سے سیکھا اوربجائے کوئی دوسری جماعت جوائن کرنے کے اپنی جماعت بنا لی اور اب وہ اُسے ایک بڑی جماعت بنانے کیلئے دن رات کوشش کر رہا ہے لیکن موجودہ حالات میں سیاسی جماعتوں کو سب سے زیادہ تربیت یافتہ ورکروں کی ضرورت ہے جو آپ کے نظریاتی ساتھی ہوں اور ایسا صرف پولیٹکل ٹریننگ سے ہی ممکن ہے۔ امید ہے عبد العلیم خان تنظیمی حوالے سے اُس غلطی کو نہیں دہرائیں گے جو عمران نیازی نے کی تھی کہ اوپر لیڈر تو موجود تھا، نیچے لاکھوں کی تعداد میں ورکر ز اور ووٹر بھی تھے لیکن کوئی تربیت یافتہ تنظیمی ڈھانچہ نہیں تھا ۔
عمران نیازی نے کسی عام شہری پر حملہ نہیں کیا یا کرایا کہ اُسے دیت لے کرچھوڑ دیا جائے یا مدعی معاف کر دیں تو مسٹر عمران نیازی کی معافی تلافی ہو جائے ۔ اس نے ایک ایسے ادارے پر حملہ کیا ہے جس میں پاکستانیوں کی جان ہے اور جو آج بھی عمران نیازی اور اُس کے یوٹیوبرز کی تمام تر بے شرمی اور بے غیرتی کے باوجود پاکستانی عوام کے دلوں میں بستا ہے ۔اس کی زندہ مثال حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستانی عوام کا اپنی افواج کیلئے جو جذبہ دیکھنے کو ملا اُس نے تحریک انصاف جیسی ملک دشمن جماعت کو بھی کم از کم فضائیہ کی تعریف کرنے پر تو مجبور کردیا ۔ اب علیمہ خانم فرما رہی ہیں کہ انہیں بتایا جائے کہ عمران نیازی کی رہائی کیا چھوڑ کریا کیا دے کر ممکن ہو گی ؟ یہ سوال تو انہیں عمران نیازی سے کرنا چاہیے کہ اُس نے کس سے پوچھ کر یا کس کے مشورے سے افواج ِپاکستان کے 2 سو حساس ترین مقامات پر حملہ کیا تھا ؟ عمران نیازی پہلے قوم کویہ تو بتائے کہ اُس کا حقیقی ایجنڈا کیا ہے؟ کیوں و ہ تمام قوتیں عمران نیازی کا ساتھ دے رہی ہیں جنہیں عرصہ دراز سے ملک دشمن سمجھا جا رہا ہے ۔ یہی علیمہ خان پاکستان پر بھارتی میزائلوں کے حملے کے بعد بھی اس جنگ کو ” نورا کشتی“ کہہ رہی تھیں ۔بہن اڈیالہ کے باہر کھڑے ہو کر این ۔ آر ۔ او مانگتی ہے اور بھائی تحریک چلانے کا اعلان ایکس پر کر رہا ہوتا ہے۔ ریاست کو پاکستانی عوام پر اپنا اعتماد بحال کرنے کیلئے یقین دہانی کرانا ہو گی کہ کوئی شخص ریاست سے افضل و بالاتر نہیں ¾ وہ فیض حمید ہو یا عمران نیازی ۔ جو مجرمانہ ابھی تک بھاگے ہوئے ہیں انہیں گرفتار نہ کرکے بھی ریاست مشکوک ہو رہی ہے ۔ عمران نیازی ¾ اُس کی دہشتگرد ساتھ اور اُس کی پشت پناہی کرنے والی ریاستیں سب برہنہ ہو کر پاکستانی عوام کے سامنے ہیں سو 9 مئی کے مجرموں کی سزا میں تاخیر ہر گزرتے دن کے ساتھ ریاستِ پاکستان پر عوام کے عدمِ اعتماد کوبڑھا دے گی۔
عمران نیازی : بے مثل بد عہد و بدترین کذاب
09:18 AM, 30 May, 2025