پاکستان نے حال ہی میں بھارت جیسی طاقت کے خلاف ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے جس کے بعد ضرورت اس امر کی ہے خوابِ غفلت کا شکار ہونے کی بجائے آنے والے خطرات کا پہلے سے بڑھ کر مقابلہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس مےں کوئی دو رائے نہےں ہے کہ پاکستان اس وقت تارےخ کے سنگےن ترےن معاشی بحران کا شکار ہے، معاشی اشارےے کسی طور بھی مثبت نہےں ہےں لےکن ےہ بات نظر انداز نہےں کی جا سکتی کہ قدرت نے پاکستان کو اےک بار پھر بہت بڑا اور قےمتی موقع فراہم کر دےا ہے کہ خطے اور اقوامِ عالم مےں اپنے آپ کو معاشی طورپر مضبوط عالمی اہمےت کا ملک ثابت کرے اور اےک بار پھر وہ ملک بن جائے جس کی طرف خاص طور پر امتِ مسلمہ امید بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے۔ اس وقت ملکی ےکجہتی عروج پر ہے ہر کوئی فتح کے نشے سے سرشار ہے، ان تفاخر سے بھرپور عوام کو معاشی طور پر بھی آسانےاں فراہم کرنے کا وسےلہ بنےں۔ ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہمارے اربابِ اختیار اپنے ذاتی، سےاسی اور گروہی مفادات کو پسِ پشت ڈال کر پوری توانائےاں ملکی ترقی پر صرف کر دیں۔
بجٹ کی آمد ہے اور گزشتہ دنوں وفاقی وزےر احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہمارا شمار دنےا کے کم ترےن ٹےکس ادا کرنے والے ملکوں میں ہوتا ہے، ہمارے ترقی کے خواب بڑے ہےں لےکن ٹےکسوں کی ادائےگی کم ترےن ہے۔ ہم شروع سے سنتے آ رہے ہیں کہ پاکستانی عوام ٹےکس نہےں دےتے جب کہ حقےقت ےہ ہے کہ پاکستانی عوام پر ٹےکس کی شرح بہت زےادہ ہے بازار سے کچھ بھی خرےدنے چلے جائےں آپ اندازہ کر سکتے ہےں کہ ضرورےاتِ زندگی کی اےسی کون سی شے ہے جس پر پاکستانی عوام ٹےکس ادا نہےں کرتے ےعنی پاکستانی عوام پر بالواسطہ ٹےکسوں کا بوجھ بہت زےادہ ہے، جب کہ ہونا ےہ چاہئے کہ ڈائرےکٹ ٹےکس کی شرح زےادہ ہونی چاہئے ےعنی جو جتنا زےادہ کمائے اتنا ہی زےادہ ٹےکس اور پھر اس حاصل کئے گئے ٹےکس کو غرےب عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کےا جانا چاہئے۔ جب کہ اشرافےہ جو بہت زیادہ کما رہی ہے اس پر ٹےکس کی شرح اتنی زےادہ نہےں ہے اس طرح نہ صرف ان کی آمدنی حد سے زےادہ ہے بلکہ ان کے سرمائے مےں بڑی تےزی اضافہ ہوتا جا رہا ہے جب کہ غرےب آ ئے روز مزےد غرےب ہوتا جا رہا ہے۔ بد قسمتی سے پاکستان مےں عوام مخالف ٹےکس نظام وجود پکڑ چکا ہے،ےہی وجہ ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے ہاتھوں پاکستان نازک دوراہے پر آن کھڑا ہے، ملکی معےشت بے پناہ کمزور ہوتی جا رہی ہے، مہنگائی اپنے عروج پر ہے، عام آدمی کے لئے زندگی دشوار ہو چکی ہے، لوگوں کے گھروں مےں فاقے ہو رہے ہےں، عوام آٹے اور سبزی کو ترس رہے ہےں جب کہ غرےب عوام اب بھی جاگیرداروں زمےنداروں کی رعاےا ہےں اور مالک جو کہے وہی حرفِ آخر ہے۔ تمام تر دعوو¿ں کے باوجود ملک کی 60فےصد آبادی خطِ غربت سے نےچے زندگی بسر کر رہی ہے، 60فےصد سے زائد بچوں کو تعلےم اور صحت کی سہولتےں حاصل نہےں ہےں۔
ملک مےں مہنگائی عروج پر ہے، غرےب ہر طرح سے پرےشان ہے، سےاسی پارٹےوں کو بھی اب ان غرےبوں کی کوئی فکر نہےں ہے، جن کے پاس پےسہ ہے وہ موج مستی کر رہے ہےں اور جن کے پاس پےسہ نہےں ہے وہ بےچارے مفلوک الحالی کا شکار ہےں۔ غرےبوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ حکومت کو ان غرےبوں کی کوئی فکر نہےں ہے۔ اپوزےشن کو بھی اب مہنگائی سے کچھ لےنا دےنا نہےں جب کہ اپوزےشن پہلے مہنگائی کے خلاف احتجاج کرتی تھی تو حکومت مذمت کرتی تھی لےکن اب انہےں بھی عوامی مشکلات سے کوئی سروکار نہےں رہ گےا ہے جےسے ےہ کوئی مسئلہ نہےں ہے۔ حکومت کےوں فکر کرے وہ کونسا ان کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آتی ہے، ظاہر ہے جب انہیں ان کے ووٹوں کی ضرورت ہی نہیں تو حکومت ان کی مشکلات کا کیا ادراک کرے گی۔
عالمی منڈی مےں تےل کے نرخ بہت کم ہو گئے ہےں لےکن حکومت نے اس شرح سے تےل کی قےمتوں مےں کمی نہےں کی ہے۔ امرےکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالتے ہی امرےکہ چےن تجارتی جنگ چھڑ گئی۔ اسرائےل اور برطانےہ کے علاوہ دنےا کے تقرےباً تمام ممالک نے ٹےرف کی شرح مےں غےر معمولی اضافہ کر دےا جس کی وجہ سے عالمی تجارت سست روی کا شکار ہو گئی اور عالمی مارکےٹ مےں تےل کی قےمتےں کم ہونا شروع ہو گئےں اورا س وقت تےل کی قےمت 60 ڈالر فی بےرل تک گر چکی ہے۔ جب کہ عالمی بےنک نے اپنی اےک رپورٹ مےں کہا ہے کہ 2025ءمےں اس کی قےمتےں مزےد کم ہوں گی۔ اگر عالمی منڈی مےں تےل کی قےمتوں مےں کمی کے تناسب سے ےہاں بھی تےل کی قےمتےں کم کر دی جائےں تو اس کا تمام اشیاءکی قےمتوں پر خاطر خواہ اثر ہو سکتا ہے اور مہنگائی کافی حد تک نےچے آنے کے ساتھ کاروباری سرگرمےوں مےں بھی تےزی آ سکتی ہے جس سے بےروزگاری مےں کمی واقع ہونے کی امےد کی جا سکتی ہے۔ اپرےل سے مئی تک تےل کی قےمت مےں 20 فےصد کمی واقع ہوئی لےکن پاکستان مےں اس تناسب سے ےعنی 20 فےصد تک تےل کی قےمتےں کم نہیں ہوئےں، اگر حکومت تےل کی قےمت مےں اسی تناسب ےعنی 20 فےصد تک کمی کر دےتی تو تےل کی قےمت تقرےباً 50 روپے تک کم ہو جاتی۔ لےکن حکومت نے اس عرصہ میں تےل کی قےمت مےں صرف 2 روپے کمی کی ےعنی 20 فےصد کے مقابلے مےں اےک فےصد سے بھی کم کمی کی۔ حکومت اگر 20 فےصد تک تےل کی قےمت کم کر دےتی تو عوام کو بڑا رےلےف مل جاتا لےکن اےسا نہےں ہو سکا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ تےل کی قےمت اگر 20فےصد کم نہےں کر سکتی تو 10 فےصد ہی کر دے جو کہ 25 روپے بنے گا جس کے مہنگائی پر بڑے اثرات مرتب ہو سکتے ہےں۔ اس سے تمام اشےاءکی قےمتےں کم ہو جائےں گی اور عام عوام کی زندگےوں مےں مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان کی مشکلات مےں کمی واقع ہو گی۔ حکومت اگر عےد سے قبل پےٹرولےم مصنوعات کی قےمتوں مےں کمی کر کے عوام کو ریلیف مہیا کر دے تو ملک مےں کراےوں مےں کمی کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی شرح مےں بھی کمی ممکن ہو سکتی ہے۔
وطنِ عزےز کا اےک عام آدمی جب اپنے حالات کا جائزہ لےتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ اپنے ذاتی اور گھرےلو مسائل کے علاوہ گرانی، بے روزگاری، عدم تحفظ، امن وامان کے فقدان، صحت و صفائی، علاج معالجہ کی سہولتوں کی عدم فراہمی ، ےوٹےلٹی بلز کی ادائےگی، ماحولےاتی آلودگی اور بچوں کی مہنگی و غےر معےاری تعلےم جےسے مسائل اور معاملات نے اس کی زندگی اجےرن بنا دی ہے۔ جس کی بنےادی وجہ ےہ ہے کہ ہمارے اربابِ اختےار کے رویے مےں آزادی کو اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی عوام کے مفاد کے حوالے سے کوئی قابلِ ذکر تبدےلی دےکھنے مےں نہےں آئی، وہ اپنے آپ کو اےک بالا دست قوت اور حکمران کا درجہ دےتے ہوئے عام آدمی کو نہ صرف ےہ کہ وطنِ عزےز کے قابلِ احترام شہری تسلےم کرنے کے لئے تےار نہےں بلکہ انہےں درپےش مسائل کو بھی کوئی اہمیت نہےں دےتے ہےں اور انہےں حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ان کا وتیرہ بن چکا ہے۔
بجٹ میں عوامی ریلیف ناگزیر
09:16 AM, 30 May, 2025