تجمل کلیم کی شعری شخصیت

09:16 AM, 30 May, 2025

یہ 2007 کی بات ہے عمران نقوی نے تجمل کلیم صاحب کو بہاول نگر اپنی رہائش گاہ پر دعوت دی۔ وہ بڑی محبت سے تشریف لائے۔ تجمل کلیم جتنے خوبصورت شاعر تھے اس سے زیادہ خوبصورتی ہم نے ان کے مزاج میں پائی۔ کھرا، سچا، بے باک محبت کرنے والا شخص۔ عمران نقوی کی کتاب "پانی دا پرچھاواں" پبلشر کے پاس لے کر گئے تو تجمل کلیم نے پبلشر سے کہا کہ یہ میری کتاب ہے۔ اس کتاب کو اتنی ہی توجہ کے ساتھ پبلش کرنا ہے جتنی کہ میری کتاب کو دی جاتی ہے۔ "برفاں ہیٹھ تندور" کی جدت، ندرت اور غزلیہ نیرنگی نے ہمیں بھی اپنا گرویدہ بنا لیا تھا۔ان کے شعری مجموعوں میں برفاں ہیٹھ تندور (1996) ویہڑے دا رکھ (2010) ہان دی سولی (2012)چیکدا منظر (2017) شامل ہیں۔ حلقہ تحریر و تنقید میں اکثر ان کے ڈکشن اور اسلوب پر گفتگو ہوا کرتی تھی۔ بعد ازاں تجمل کلیم سے ملاقاتوں کا دور حسن ارشاد، یاسر اقبال، راو¿ آصف عباد اور راو¿ انعام اللہ خاں تک پھیل گیا۔ یہ ملاقاتیں خالص ادبی نوعیت کی تھی۔ ان میں خاص بات یہ تھی کہ یہ سبھی لوگ تجمل کلیم کے شناور تھے اور ان کے فکر و فن کو سمجھنے والے بھی تھے۔ 
ہم نے جیسی پنجابی تجمل کلیم اور افضل راچبوت سے سنی ایسی کسی اور سے سننے کو نہ ملی۔ پنجابی زبان ان کی ووکل سے ایسے نکھرتی تھی کہ اس کے صوتی حسن کے سارے رموز کھلنے لگتے تھے۔ آواز، لہجہ، انداز اور ادائیگی کی انفرادیت کے ساتھ کچھ مختلف خواص ان کی آواز کی بناوٹ کے بھی تھے۔ کس لفظ کا اختتام ناک سے آواز پیدا کرتا ہے یا زبان اور ہونٹوں کی کس خاص پوزیشن سے کوئی حرف بھرپور ادا ہوتا ہے، کس حرف کا درست مخرج کیا ہے اور اس کی موسیقیت اور نغمگی کو کیسے سنبھالا جا سکتا ہے۔ یہ دونوں شاعر اس فن کے ماہر تھے۔ چہرے کے تاثرات، آواز کا اتار چڑھاو¿، کہیں استفسار کر رہے ہیں تو چڑھتے ہوئے مصرعے میں اچانک ایسی موہوم سی سرگوشی کرتے کہ سننے اور دیکھنے والے جھوم اٹھیں۔ طنز کی کاٹ کا جو ہنر ان کے پاس تھا وہ بھی شاید ہی کہیں دیکھنے کو ملے۔ راقم کو اب تک افضل راجپوت اور تجمل کلیم ہی ایسے شعرا ملے جن کو سن کر پنجابی زبان سے عشق ہو جانا لازم تھا۔ 
تجمل کلیم کا اردو کلام بھی خاصے کی چیز ہے۔ انھوں نے اردو اور فارسی کی شعری روایت سے بھی استفادہ کیا۔ تجمل کلیم نے پنجابی زبان میں پختہ غزل تخلیق کی۔ انھوں نے غزل کی کوملتا، لطافت اور اس کی جمالیات کو برقرار رکھتے ہوئے بھرپور کلام پیش کیا جس میں پنجابی زبان کی نادر علامتوں اور جدید استعاروں کی مدد سے نئے مضامین باندھے گئے۔ 
ٹبہ ٹویا اک برابر
کریاں ہویا اک برابر
قسمے سن کے نیندر اڈی
س±تا مویا اک برابر
ماڑے گھر نوں ب±وہا کاہدا
ک±ھلا ڈھویا اک برابر
راتیں اکھ، تے بدّل وسے
رویا چویا اک برابر
یار کلیما جوگی اگے
سپ گڈویا اک برابر
ان کا اسلوب منفرد ہونے کے ساتھ تخلیقی امکانات سے بھرپور ہے۔
تجمل کلیم نے وسیب کو اپنے تخلیقی تجربے میں شامل رکھا۔ انھوں نے اپنے عہد کے مسائل پر نعرے بازی نہیں کی بلکہ اپنے غم سے نامیاتی قوت کشید کی جو شعری جوہر کی صورت میں ڈھل کر سامنے آئی۔ ان کے اشعار آسمان کی چادر کے ساتھ ساتھ پھیلنے لگے۔ بڑے بھائی ڈاکٹر شیراز زیدی کے ناول "جہنمی لوگ" کی تحریک میں بھی تجمل کلیم کا شعر کار فرما تھا۔ اس بات کا اظہار انھوں میں ناول کی اشاعت کے کچھ عرصے بعد 2001 میں کیا۔ شعر یہ تھا 
لوکو میری ماں مر گئی اے
روواں کہ مزدوری جاواں 
مجھے یاد ہے 2013 میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، بہاول نگر میں ڈاکٹر الطاف حسین لنگڑیال صاحب کی سرپرستی میں ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا جس کی نظامت خاکسار نے کی تھی۔ آدھی رات بیت جانے کے باوجود تجمل کلیم کو نوجوانوں نے سٹیج پر فرمائشی پرچیاں پہنچائیں۔
اس مشاعرے کے بعد عمران نقوی کی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں انھیں بطور خاص دعوت دی گئی۔ یہ بھی شہر کی تاریخ کا بڑا مشاعرہ تھا جس میں اعجاز ثاقب اور عباس تابش بھی شریک ہوئے تھے۔ اس مشاعرے کی نظامت بھی خاکسار نے کی جب کہ مشاعرے کے دوسرے حصے میں حسن ارشاد نے یہ فرائض انجام دیئے۔
تجمل کلیم کو ہم نے کئی زبانوں کے وارث پایا۔ ان کی فکر آفاقی تھی اور وہ شخصیت کے ہر انداز سے خالص شاعر تھے۔تجمل کلیم اپنے حصے کا کام کر گئے ہیں۔ اب ہمارے محققین کو چاہیے کہ بلا مبالغہ، بڑی سنجیدگی سے عالمی ادب میں ان کے کلام کی قدر و قیمت کا تعین کریں۔ بین الاقوامی زبانوں میں ان کے کلام کے تراجم کیے جانے چاہئیں اور ان محاسنِ کلام پر تنقیدی مضامین لکھے جانے چاہئیں۔ ہمارے آج کے لکھنے والوں کو بھی سستے رومانس، چھچھورے چٹکلوں، گھسی پٹی باتوں اور بازاری فقروں سے ہٹ کر تجمل کلیم سے اکتساب فیض کرنا چاہیے۔ اس بات کا افسوس ہم سب کو رہے گا کہ ایک بڑے شاعر کی وہ قدر نہ کی گئی جس کا وہ صحیح معنوں میں حق دار تھا۔ تجمل کلیم کا فن تحقیقی وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ ان کی تنقیدی بصیرت ان لوگوں سے بہت بلند ہے جو ان کے نام کو لسانی تعصب کا نعرہ بنا کر پیش کرنا چاہتے تھے۔ 
آخر میں تجمل کلیم کے اردو اشعار ملاحظہ فرمائیں۔ 
بتلا رہا ہوں کس طرح دیکھا گیا حسین 
آدم نے دیکھا عرش پہ لکھا ہوا حسین
دوشِ رسولِ پاک کے فیضان دیکھیے 
قد میں بڑا نبی سے ہے بیٹھا ہوا حسین 
ہم الحسین± منی کے اسرار میں تھے گم
پوچھا گیا کہ مانگ لے ہم نے کہا حسین 

مزیدخبریں