بنگلہ جماعت اسلامی کے رہنماو¿ں پر مقدمات

09:16 AM, 30 May, 2025

بنگلہ دیش میں طلبا تحریک کے نتیجے میں وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کا تختہ الٹنے کے بعد جہاں ایک طرف سابق وزرا کی پکڑدھکڑ جاری ہوئی وہیں دوسری طرف برسوں سے جیلوں میں قید اپوزیشن رہنماو¿ں کی رہائی کا عمل شروع ہوگیا۔ ڈھاکہ کی ایک عدالت نے کوٹہ اصلاحات کی تحریک کے دوران گرفتار بی این پی کی قائمہ کمیٹی کے رکن امیر خسرو محمود چوہدری اور جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل میاں غلام پرور سمیت بی این پی اور جماعت اسلامی کے ایک ہزار سے زائد رہنماو¿ں اور کارکنوں کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دے دیا۔
بنگلہ دیش کی چار عشروں پر مشتمل سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ نوے فی صد مسلم اکثریت اور عوامی سطح پر ٹھوس اسلامی روایات رکھنے والے اس ملک کا قیام تو سیکولر عنوان سے عمل میں آیا تھا لیکن اس کا سیکولر تعارف بنگلہ دیش کے عوام کو ہضم نہیں ہوا۔ چنانچہ خلافت اسلامیہ کے قیام کے علمبردار حافظ جی حضورؒ نے جو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے خلفاءمیں سے تھے جب خلافت کے عنوان سے بنگلہ دیش کے صدارتی الیکشن میں حصہ لیا تو اسلامی نظام اور خلافت کے لیے بنگلہ دیشی عوام کے جذبات دیدنی تھے اور بہت سے سیاسی ذرائع اب تک یہ بات دہرا رہے ہیں کہ اگر مبینہ طور پر دھاندلی نہ ہوتی تو حافظ جی حضورؒ صدارتی الیکشن کی دوڑ میں دوسرے امیدواروں سے آگے تھے۔
جماعت اسلامی نے دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر گیارہ بارہ سال تک جمہوریت کے لئے زبردست جدوجہد کی تھی۔ اب وقت تھا کہ وہ عوام کے دوش بدش کھڑی ہو جاتی اور یحییٰ خانی ٹولے پر واضح کرتی کہ تم غلط راستہ اختیار کر رہے ہو، جتنی جلدی ممکن ہو اقتدار عوامی نمائندوں کے حوالے کر دو، لیکن افسوس جب ملٹری ایکشن شروع ہوا تو جماعت کے رہنما مشرقی پاکستان میں تعینات ہونے والے نئے مارشل لاءایڈمنسٹریٹر جنرل ٹکا خان کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر امن کمیٹیاں بنانے پر تیار ہو گئے۔
پھر 1988 میں بنگلہ دیش کی منتخب پارلیمنٹ نے اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب بھی دستوری طور پر قرار دے دیا تھا جو بنگلہ دیش کے عوام کے دینی جذبات کا مظہر تھا، لیکن عوامی لیگ نے ملک کے سیکولر تشخص کے نام پر اپنے دورِ حکومت میں اسے ”ریورس گیئر“ لگا دیا اور اب بھی وہ اسی سیکولر تشخص کے تحفظ کے لیے ہر طرف ہاتھ پاو¿ں ما رہی ہے۔
 جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر مطیع الرحمان نظامی کو 1971 کی جنگ آزادی کے دوران جنگی جرائم کے ارتکاب پر پھانسی دے دی گئی۔ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کے سربراہ کو جنگی جرائم کے خصوصی ٹریبونل نے نسل کشی، قتل، تشدد اور ریپ کے 16 الزامات کے تحت سزائے موت دینے کا حکم دیا تھا۔ پھانسی سے قبل انہیں پاکستان مردہ باد کا نعرہ لگانے کا کہا گیا مگر انہوں نے انکار کر دیا۔ اسی طرح پروفیسرغلام اعظم ایک بنگلہ دیشی اسلام پسند سیاست دان تھے۔ وہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی سیاسی جماعت بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے سابق رہنما تھے۔ اعظم کو 11 جنوری 2012 کو بنگلہ دیش کی حکومت نے 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ کے دوران جنگی جرائم کے الزامات میں مجرم پائے جانے کے بعد گرفتار کیا تھا۔انہیں خصوصی عدالت نے 90 برس قید کی سزا سنائی ۔ 
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد سکیورٹی فورسز نے تقریباً 600 سے زائد افراد کو اغوا اور غائب کیا جن میں سے متعدد لوگوں کا تعلق حزب اختلاف کی بڑی جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی اور ملک کی سب سے بڑی اسلام پسند جماعت کالعدم جماعت اسلامی سے تھا۔
جماعت اسلامی نے ڈھاکہ میں اپنا پارٹی دفتر ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک بند رہنے کے بعد کھول دیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ جماعت کے طلبہ ونگ اسلامی چھاترا شبر کا ہیڈ آفس بھی دوبارہ کھول دیا گیا۔ موگ بازار محلے میں پارٹی کا ہیڈ آفس 2011 میں زبردستی بند کر دیا گیا تھا، اور عدالتی حکم کے باوجود اسے دوبارہ کھولنے کی اجازت نہیں دی گئی۔بنگلہ دیش جب دستوری طور پر مشرقی پاکستان تھا اور پاکستان کا آئینی حصہ تھا یہ تب کی بات ہے کہ مشرقی پاکستان کو پاکستان سے الگ کرنے کے لیے آزادی کے نام پر تحریک چلائی گئی تھی جو صرف سیاسی نہیں بلکہ عسکری بھی تھی، اس عسکری اور سیاسی تحریک کو بھارت کی مکمل پشت پناہی حاصل تھی اور اس کی حمایت میں بھارت نے وسیع پیمانے پر فوجی مداخلت کی تھی۔ اس وقت مشرقی پاکستان کی جماعت اسلامی نے سیاسی اور عسکری دونوں محاذوں پر پاکستان کی حکومت اور فوج کا ساتھ دیا تھا اور مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی تحریک کے عسکری ونگ ”مکتی باھنی“ کا ”البدر“ اور ”الشمس“ کے نام سے عسکری ونگ بنا کر مقابلہ کیا تھا۔
پاکستان اور بنگلہ دیش کے تعلقات جوحسینہ واجد دور میں ختم ہو چکے تھے دوبارہ بحال ہو رہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ حالیہ پاک بھارت کشیدگی میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس کے مشیر اور سابق ریٹائرڈ فوجی جنرل فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ بھارت اگر پاکستان پر حملہ کرے تو بنگلہ دیش کو فوری طور پربھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں پر قبضہ کرلینا چاہیے۔سابق بنگالی فوجی افسر کا کہنا تھا کہ بھارت کی سات ہی شمال مشرقی ریاستیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور اس ضمن میں بنگلہ دیش کو ابھی سے ہی چین کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے۔ پاک،بھارت کشیدگی اور ممکنہ طور پر بھارت کے پاکستان پر حملے کے تناظر میں بنگلہ دیش کو چین سے بات چیت کرکے فوجی مشقیں شروع کرلینی چاہیے۔
خیال رہے کہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں ارونا چل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، مزورام، تری پورا اور ناگالینڈ کی سرحدیں بنگلہ دیش کے ساتھ 1600 کلو میٹر رقبے تک لگتی ہیں۔بھارت کی ان ہی ریاستوں کی سرحدیں چین، میانمار، نیپال اور بھوٹان سے بھی لگتی ہیں، مذکورہ علاقے کی متعدد ریاستوں کے کئی علاقوں پر نیپال، بھوٹان، چین اور میانمار اپنا دعویٰ بھی کرتے رہے ہیں۔

مزیدخبریں