ڈونلڈ ٹرمپ وہ امریکی صدر ہیں جنہوں نے خود کو عالمی اسٹیبلشمنٹ سے ہٹ کر پیش کیا، ان کے بیانیے میں جنگ کی مخالفت، فوجی انخلا اور داخلی ترقی پر زور شامل تھا۔ انہوں نے افغانستان سے امریکی فوج نکالنے کی کوشش کی، شام اور عراق سے امریکی کردار کم کیا اور یہ تاثر دیا کہ وہ ایک امن پسند رہنما ہیں۔ مگر دوسری طرف، انہی کے دور میں دنیا کے دفاعی اخراجات میں ریکارڈ اضافہ ہوا، اربوں ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا گیا اور امریکی دفاعی صنعت نے غیر معمولی منافع کمایا۔ سوال یہ ہے کہ ایک جنگ مخالف امریکی صدر کے دور میں اسلحہ کی منڈی اتنی گرم کیوں ہوئی؟
ٹرمپ کے 2017 کے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر کے دورے تاریخی دفاعی معاہدوں کی بنیاد بنے۔ سعودی عرب سے 110 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے ہوئے جس میں جدید ایف 15 طیارے، میزائل سسٹم، بکتر بند گاڑیاں، ہیلی کاپٹرز اور دیگر دفاعی سامان شامل تھا۔ متحدہ عرب امارات کو جدید ایف 35 طیارے،جنگی ڈرونز اور نگرانی کے آلات فراہم کرنے پر اتفاق ہوا۔ قطر کے ساتھ بھی تقریباً 12 ارب ڈالر کے معاہدے طے پائے جن میں امریکی جنگی طیارے اور میزائل شامل تھے۔ یہ تمام معاہدے امریکی دفاعی کمپنیوں جنرل، بوئنگ، رے تھیﺅن، ڈائنامک اور لاک ہیڈ مارٹن کے لیے انتہائی منافع بخش سودے تھے۔ ان دفاعی معاہدوں کی ایک بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ کی غیر یقینی صورتحال تھی۔ شام میں خانہ جنگی، ایران کا بڑھتا اثر اور داعش کا عروج ایک مسلسل خطرہ بنا رہا۔ 2024 کے اواخر میں اسرائیل کے غزہ پر شدید حملوں سے اب تک 53 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور سوا لاکھ سے زائد فلسطینی زخمی اور تباہ حال ہیں۔ اسی دوران شام میں صدر بشارالاسد نے اقتدار چھوڑا اور القاعدہ سے منسلک تنظیم جہبتہ النصرہ کے سربراہ ابو محمد الجولانی (احمد الشرع، موجودہ نام) کی نئی عبوری حکومت نے اقتدار سنبھالا ہے۔ احمد الشرع مغرب کا پُر جوش حامی، اسرائیلی ابراہم اکارڈ کا حصہ بننے کا متمنی اور ٹرمپ کا فین ہے۔ اس کے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ قریبی روابط بتلائے جاتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران احمد الشرع ٹرمپ سے ملاقات لیے آیا تو محمد بن سلمان سمیت ان تینوں کی ایک فریم میں تصویر نے مخصوص سفارتی پیغام دیا۔ اس ملاقات میں خطے کی سکیورٹی، تعمیر نو اور ایران کے خلاف ممکنہ اتحاد پر گفتگو ہوئی۔ یہ ملاقات بظاہر سفارتی نوعیت کی تھی، مگر اس کا اصل مقصد خطے میں مزید امریکی اسلحہ کی فروخت کی راہیں ہموار کرنا تھا۔
اسی دورے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئی دفاعی دوڑ شروع ہوئی ہے۔ سعودی عرب نے 2025 میں امریکہ کے ساتھ 142 ارب ڈالر کے نئے دفاعی سودے کیے، جن میں جدید طیارہ شکن نظام، نیول ڈیفنس آلات اور آبدوز شکن ٹیکنالوجی شامل تھیں۔ متحدہ عرب امارات نے بھی تقریباً 10 ارب ڈالر کی اضافی دفاعی خریداری کا معاہدہ کیا جبکہ 200 ارب ڈالر کے آرٹیفیشل انٹیلی جنس منصوبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی نظام اور سائبر وار فیئر ٹولز بھی شامل ہیں۔ قطر نے اپنے دفاعی نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے 42 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ جس میں امریکی دفاعی تربیت اور ٹیکنیکل سروسز بھی شامل تھیں۔ یہ تمام دفاعی معاہدے اس وقت ہوئے ہیں جب خطے میں جنگ کا ماحول کم ہو چکا تھا، داعش کی کمر ٹوٹ چکی تھی اور شام میں عبوری حکومت عالمی برادری سے رابطے میں تھی۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اصل محرک صرف سکیورٹی کا احساس نہیں بلکہ امریکی دبا¶، سیاسی اتحاد اور اسلحہ کی منڈی کا تسلسل تھا۔ ٹرمپ نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ میں بھی نیٹو اتحادیوں پر شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ نیٹو کا خرچہ اٹھا رہا ہے جبکہ یورپی ممالک اپنے دفاعی اخراجات ادا نہیں کر رہے۔ اب امریکہ یورپی دفاع کا مزید خرچہ نہیں اٹھائے گا۔ اس دبا¶ کا نتیجہ یہ نکلا کہ جرمنی، فرانس، برطانیہ،
پولینڈ اور دیگر نیٹو ممالک نے اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کیا۔ جرمنی نے 100 ارب یورو کا دفاعی فنڈ قائم کیا اور اپنے دفاعی بجٹ کو جی ڈی پی کے 2 فیصد تک لے جانے کا ارادہ کیا ہے۔ پولینڈ نے تقریباً 48 ارب ڈالر کے دفاعی بجٹ کا اعلان کیا ہے، جس میں ایف۔ 35 کی خریداری سمیت امریکی ٹینک اور پیٹریاٹ میزائل سسٹمز شامل ہیں۔ فرانس اور برطانیہ نے بھی امریکہ سے دفاعی مصنوعات کے معاہدے کیے ہیں۔ یورپی ممالک کے دفاعی بجٹ میں اضافے کا سب سے بڑا فائدہ امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں نے اٹھایا ہے، جن کی عالمی برآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بے امنی کا فائدہ بھی امریکہ کو پہنچ رہا ہے۔ بھارت میں بی جے پی کی فرقہ پرست حکومت پاکستان دشمنی اور علاقائی چودھراہٹ کے چکر میں امریکی اسلحے کی خریدار بن چکی ہے۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعاون بھی ٹرمپ کے دور میں نئی بلندیوں کو پہنچا ہے۔ بھارت نے امریکہ سے مختلف ادوار میں 20 ارب ڈالر سے زائد کے دفاعی سودے کیے ہیں۔ امریکی اسلحے میں اپاچی ہیلی کاپٹر، جنگی ٹرانسپورٹ طیارے، جنگی ڈرونز، سی ہاک جیسے بحری نگران طیارے اور ایم کیو۔9 ہیلی کاپٹر شامل ہیں۔ پاکستان کے ساتھ حالیہ جنگ میں فرانسیسی رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد امریکہ نے بھارت کو اپنے ایف35 جنگی طیارے آفرکیے ہیں۔ بھارت فی الحال یہ پرانے طیارے لینے سے ہچکچا رہاہے۔ جس پر صدر ٹرمپ کافی نالاں دکھائی دیتے ہیں۔ اسلحے کی فروخت کے ساتھ امریکہ کا اصل مقصد بھارت کے ذریعے چین کا گھیرا¶ کرنا ہے۔ البتہ تمام تر تابعداری کے باوجود امریکہ کا پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون سرد مہری کا شکار رہا ہے۔ ٹرمپ دور میں امریکہ نے پاکستان کی سکیورٹی امداد معطل کر دی تھی۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان کی کمزور معاشی حالت ہے جس سے وہ متوقع امریکی اسلحہ کے خریداروں کی فہرست میں نہیں آتا۔ جس کے بعد پاکستان نے چین کے ساتھ دفاعی تعلقات کو وسعت دی۔ ٹرمپ ایک ایسے امریکی صدر ہیں جنہوں نے جنگ کا نعرہ نہیں لگایا، مگر دنیا کو جنگ کے لیے تیار رکھا ہے۔ انہوں نے فوجی مداخلت کی بجائے ”خطرے“ کا بیانیہ بیچا اور دنیا بھر کے اتحادیوں کو باور کرایا کہ انہیں اپنے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے دور میں عالمی دفاعی اخراجات 2 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں اور امریکہ نے دنیا کے سب سے بڑے اسلحہ برآمد کنندہ کے طور پر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کی ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ کے دور میں کوئی نئی بڑی جنگ نہیں ہوئی، مگر اس کے باوجود امریکہ نے عالمی دفاعی منڈی پر قبضہ جمایا اور بغیر کسی جنگ کے سیکڑوں ارب ڈالر کا فائدہ اٹھایا۔ یہ سرمایہ دارانہ جنگ کا نیا انداز ہے۔ جس میں بم گرتے ہیں نہ فوجی مرتے ہیں، مگر اسلحہ کا بازار گرم رہتا ہے اور امن کے نعروں میں چھپی جنگی معیشت پورے زور و شور سے آگے بڑھتی ہے۔
امن کے نعروں میں لپٹی امریکی جنگی معیشت
06:10 PM, 29 May, 2025