چوپال میں ’’بھولا‘‘، چاچا رفیق، چاچا رشید،نتھو، پھتو سب موجود تھے۔ سب لوگ چپ سائیں کا انتظار کررہے تھے۔کافی انتظار کے بعد چپ سائیں چوپال میں داخل ہوئے لیکن وہ پسینے میں شرابور تھے اور کچھ تھکے تھکے دکھائی دے رہے تھے۔نتھو اور پھتو نے ان کو پانی کاگلاس دیا، چپ سائیں نے پانی پینے کے بعد شکر یہ اداکیا اور دوبارہ خاموش ہو گئے۔۔ ان کی خاموشی سب کی سمجھ سے باہر تھی۔۔۔ تاہم کچھ دیرخاموش رہنے کے بعد چپ سائیں بولے۔۔۔ دوستو ! تاخیر کی معذرت۔۔ میں دراصل ایک سرکاری دفتر گیا تھا ۔۔۔ لیکن وہاں پر کرسی پر براجمان سب آفیسرز کا لہجہ تو ایسے تھا کہ جیسے شہد کی پوری بوتل کھالی ہو۔۔۔ چپ سائیں کی بات سن کر سب کی ہنسی چھوٹ گئی ۔ ۔ ۔ چپ سائیں کا مزاج بھی کچھ بحال ہوا۔۔۔’’بھولا‘‘ مخصوص انداز میں بولا۔۔۔ سائیں جی۔۔۔سائیں جی۔۔۔ میری اماں کہتی ہے کہ دنیا بہت خراب ہوگئی ہے۔۔۔ سچی بات تو کوئی کرتا نہیں سب ناں۔۔۔ سب ناں۔۔۔میٹھی گولی دیتے ہیں۔۔وہ کیا ہوتی ہے اور بھلا میں کیسے اب میٹھی گولی دوں ، میں تو’’بھولا‘‘ ہوں، سچی بات کردیتا ہوں ۔ ۔ ۔ ـ’’بھولے‘‘ کی بات سن کر سب مسکرانے لگے۔۔۔ چپ سائیں بولے، بھئی دوستو! سائنس بہت ترقی کرگئی ہے۔۔۔ میں نے سن رکھا ہے کہ مغرب میں تو ایسی مشین بھی ہے جو یہ پتہ لگالیتی ہے کہ انسا ن سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔۔۔ سب لوگ بہت حیران ہوئے۔۔۔۔ چپ سائیں نے کہاکہ میں کل پرسوں ٹی وی پر کسی پولی گرافک ٹیسٹ کے بارے میں سن رہا تھا۔
چوپال میں سب لوگ حیران ہوئے او ربیک زبان بولے۔۔۔ ہائیں یہ کس بلا کا نام ہے سائیں جی۔۔۔سائیں جی بولے بھائی دوستو! پولی گرافک ٹیسٹ کسی بلا کا نام نہیں ہے ۔پولی گرافک ٹیسٹ ایک ایسا آلہ اور طریقہ کار ہے جو انسانی جسم کے کچھ فزیولوجیکل ردعمل (جیسے دل کی دھڑکن، سانس کی رفتار، خون کا دباؤ اور جلد کی برقی مزاحمت) کو دیکھتا ہے۔ یہ ردعمل جسمانی دباؤ یا ذہنی کشیدگی کی علامات ہو سکتے ہیں، جو اکثر جھوٹ بولنے یا کسی مخصوص
سوال پر جھنجھلاہٹ کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
اس کا بنیادی مقصد یہ معلوم کرنا ہوتا ہے کہ آیا کوئی شخص کسی مخصوص سوال یا موضوع پر سچ بول رہا ہے یا جھوٹ۔ چاچا رفیق ، چاچا رشید، نتھو، پھتو سب اور بھی حیران ہوئے اور سائیں جی کو انہماک سے دیکھنے لگے۔۔۔ سائیں جی بولتے بولتے چپ کرگئے۔۔ توقف کے بعد بولے بھئی دوستو اگر پولیس ملزم سے پوچھتی ہے کہ کیا آپ نے یہ جرم کیا؟تو پولی گرافک آلہ اس سوال کے دوران ملزم کے جسمانی ردعمل کو چیک کرتا ہے۔سائنس کے مطابق اس ٹیسٹ میں دل کی دھڑکن جھوٹ بولنے پر دل کی دھڑکن تیز ہو سکتی ہے۔خون کا دباؤ جھنجھلاہٹ یا دباؤ کے باعث بڑھ سکتا ہے۔سانس کی رفتار سانس لینے کی رفتار میں تبدیلی آتی ہے۔جلد کی برقی مزاحمت جب پسینہ آتا ہے تو جلد کی برقی مزاحمت کم یا زیادہ ہو جاتی ہے۔
نتھو اور پھتو بیک زبان بولے۔۔ سائیں جی پھر تو اس قسم کا ٹیسٹ سب سے پہلے سیاست دانوں اور سرکاری ملازمین کا ہونا چاہئے ۔ ۔ ۔ ان کی بات سن کر سائیں جی بھی کھل کر ہنسے۔۔۔ کہا۔۔بھئی نتھو،پھتوہمارے ہاںکی توپوچھو ہی ناں۔۔۔یہاں تو سب چلتا ہے اور سیاست دان ہوں یا سرکاری ملازم ۔ ۔ ۔ ہمارے ہاں لائنگ ڈیٹیکٹر۔۔۔ پولی گرافک ٹیسٹ۔۔ تو سب خبروں میں ہی سننے کو ملتا ہے کہ فلاں بڑی شخصیت اپنا پولی گرافک ٹیسٹ نہیں کرانا چاہتی۔۔۔خیر یہ بھی دوستو عجیب ہی روش ہے۔
صاحبو! میں اب آپ سب کو اس کے استعمال کے بارے میں بتاتا ہوں ،سب سے پہلے پولی گرافک آلے کے سینسرز کو شخص کے جسم پر لگا دیا جاتا ہے (ہاتھ، انگلیاں، سینے وغیرہ پر)۔پھر شخص سے مختلف قسم کے سوالات کیے جاتے ہیں۔ سوالات دو قسم کے ہوتے ہیں،کنٹرول سوالات: عام اور غیر اہم سوالات جن پر عام طور پر سچ جواب دیا جاتا ہے۔یہ وہ سوالات ہوتے ہیں جن کا مقصد جھوٹ یا سچائی کا پتہ لگانا ہوتا ہے۔آلہ ہر سوال پر جسمانی ردعمل کی پیمائش کرتا ہے۔بعد میں ماہر پولوگرافر ان ڈیٹا کو تجزیہ کرکے نتیجہ نکالتا ہے۔تاہم میں نے سن رکھا ہے دوستویہ ٹیسٹ مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں سمجھا جاتا۔کچھ لوگ اپنی جذباتی حالت یا تربیت کی وجہ سے جھوٹ بولتے ہوئے بھی جسمانی ردعمل کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی سچ بولنے والے افراد بھی نروسنس کی وجہ سے جسمانی ردعمل دکھاتے ہیں، جو غلط تشخیص کا باعث بنتا ہے۔ عدالتوں میں بعض ممالک میں اس ٹیسٹ کے نتائج کو بطور ثبوت تسلیم نہیں کیا جاتا۔
نتھو اور پھتو بولے سائیں جی اس قسم کے ٹیسٹ کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ چپ سائیں بولے۔۔بچو۔۔۔ پولیس کی تفتیش، سکیورٹی کلیئرنس کے لیے،ملازمت کے لیے انتخابی عمل میں، نجی تفتیشوں میں یہ ٹیسٹ بہت مددگار ہوتا ہے۔ عام طور پر سیاست دانوں پر پولی گرافک ٹیسٹ لازمی نہیں ہوتا، لیکن کچھ خاص حالات میں اسے لیا جا سکتا ہے۔ دوستو! اگر کسی سیاست دان پر کرپشن، بدعنوانی، یا کسی غیر قانونی سرگرمی کا الزام ہو تو تحقیقات کے دوران انہیں پولی گرافک ٹیسٹ کے لیے بلایا جا سکتا ہے تاکہ ان کی سچائی کا اندازہ لگایا جائے۔ کبھی کبھار سیاست دان اپنے تئیں یا اپنی پارٹی کی طرف سے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے پولی گرافک ٹیسٹ کرا لیتے ہیں تاکہ عوام کے سامنے اپنی ساکھ بچا سکیں،زیادہ تر ممالک میں سیاست دانوں پر پولی گرافک ٹیسٹ لگانا قانونی طور پر پابند نہیں ہوتا کیونکہ اس میں ذاتی آزادی اور پرائیویسی کے مسائل ہوتے ہیں۔سرکاری ملازمین خصوصاً وہ جو حساس اداروں یا سکیورٹی ایجنسیوں میں کام کرتے ہیں، ان پر پولی گرافک ٹیسٹ عام ہوتا ہے۔ بعض ممالک میں، اگر کوئی عدالت یا مجاز اتھارٹی خاص کیس میں پولی گرافک ٹیسٹ کی اجازت دے، تب جا کر اس کا انعقاد ممکن ہوتا ہے، مگر اس کے لیے سخت شرائط اور ضوابط ہوتے ہیں۔
ـ’’بھولا‘‘ دوبارہ بولا ۔۔۔سائیں جی ۔ ۔ ۔ سائیں جی۔۔ میں تو چلا اماں کوبتانے۔۔۔ کہ اب لوگ صرف سچ ہی بولیں گے وہ بھی کڑوا سچ۔ ۔ ۔ ضرورت ہے تو بس ان کو مشین لگانے کی۔۔۔اس پر سب ہنسنے لگے اور سائیں جی بولے۔۔’’بھولا ‘‘بھی توسچ ہی بول رہا ہے لیکن۔۔اس کو مانے کا کون۔۔۔دوستو!باقی رہے نام اللہ کا۔۔۔
پولی گرافک ٹیسٹ اور کڑوا سچ
03:30 PM, 29 May, 2025