محسن پاکستان کی روح ہم کو معاف کرے

03:26 PM, 29 May, 2025

 28 مئی کا سورج ہماری آزادی و خودمختاری کے تحفظ کا ضامن بن کر طلوع ہوا تھا۔ اس دن کو دنیا بھر میں پاکستانیوںنے فخر کے ساتھ کیک کاٹے دھواں دار تقاریر کیں خاص طور پر جب اسی ماہ کے اوائل میں ہم نے اپنی عسکری قیادت کی انتھک محنت ، جانفشانی ، بہادری سے پاکستان کے خلاف ناپاک عزائم رکھنے والے پڑوسی کومزے چکھائے ،بہادر عسکر ی اداروں کی پشت پر 28مئی 1998ء کو چاغی کی پہاڑیوںمیں کئے جانے والا پاکستان کے ایٹم بم کا دھماکہ تھا ، اس دھماکے نے مغربی دنیا ، اور پاکستان کے خلاف ناپاک عزائم رکھنے والو ںراتوںکی نیند حرام کردی ، انہیں یہ گمان بھی نہ تھا کہ معاشی طور پر کمزور ملک ایسا کرسکتا ہے ، اس کا تکبر اور زعم ہوا ہو گیا اور اسے طاقت کے توازن کے خیال نے ہی عدم توازن سے دوچار کر دیا۔ یہ اس ایٹمی صلاحیت ہی کا اعجاز ہے کہ آج پاکستان پر میلی نظر رکھنے والا کوئی ملک بھی تمام تر جارحانہ عزائم رکھنے کے باوجود پاکستان کے ساتھ ٹکر لینے کی جرات نہیں کر سکتا۔ 1998ء کے بعد سے آج تک ایسے کئی مواقع آئے جب پاکستان اور اسکے اذلی دشمنوں کے درمیان جنگ کے شعلے بھڑکنے کے واضح امکانات پیدا ہو گئے تھے لیکن پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کے باعث جنگ کی نوبت نہ آ سکی۔پاکستان کو نقصان پہنچانے کے کسی بھی لحمے دشمن تیار رہتے ہیںچاہے سفارتی سطح پر ہو یا اندرونی سطح پر ، دشمن اپنے عزائم کے تکمیل کیلئے وطن عزیز پاکستان میں بیٹھے اسکے تنخواہ دار سہولت کار وںکو بھی استعمال کرتا ہے انہیں نیست و نابود کرنا حکومت کا فرض ہے ، یہ حقیقت ہے کہ اگر پاکستان آج ایٹمی صلاحیت رکھنے والا ملک نہ ہوتا تو بھارت، اسرائیل ، پاکستان میں بیٹھے سہولت کاروںکے ذریعے اسکی سلامتی خدانخواستہ تاراج کردیتے ، اندرونی سہولت کار کچھ پوشیدہ ہیں کچھ سیاست دانوںکا لبادہ اوڑھے ہیںاور پاکستان کے کچھ گمراہ ، اور کچھ غیر تعلیم یافتہ لوگوں میں اپنی مقبولیت کا سہارہ لیتے ہیں ، آج دشمن الزام تراشی کرکے پاکستان کو بدنام اور اپنے بھونپو میڈیاکے ذریعے لاہور کی بندر گا ہ کوتباہ کرکے اپنے معصوم عوام کوگمراہ کرتا ہے جس مضحکہ خیز خبروں کا خمیازہ اب وہ بھگت رہاہے ۔ دو دن کی سرحدوں پر چپقلش کے اندر ہی دنیا درمیان میںآگئی اور صبر کرو ، صبر کرو کی صدائیں مغربی دنیا اور اپنے آپ کو دنیا کا بادشاہ تصور کرنے والے ٹرمپ نے معاملات کی روک تھام کی ، اب دشمن ’’کھسیا نی بلی نوچے ‘‘ کے مصداق دنیا کے اہم لیڈران ، چاہے وہ ٹرمپ ، چینی قیادت ، ترکی کی قیادت ہو اسکے خلاف پروپگنڈے پر اپنی توانیاں خرچ کررہا ہے ۔پاکستان کی اس مضبوطی کے پشت پرمحسن پاکستان مرحوم ڈاکٹر عبدالقدیر خان ہیںجو شہید ذولفقار علی بھٹو کے حکم بیرون ملک اپنی شاہانہ زندگی کو چھوڑکر پاکستا ن آگئے کہ ’’ گھر تو آخر اپنا ہے ‘‘انہوں نے از خود 1971 ء کے مشرقی پاکستان کے سانحہ کے بعد شہید کو خط لکھا تھا اسوقت ضرورت ہے پاکستان کو ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرے ، اسکے بعد سے دیگر سائنس دانوں کی مدد سے دن رات محنت کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان، جو پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے باپ کے طور پر مشہور ہیں، نے ایک ایسی زندگی گزاری جس میں سائنسی کامیابیوں اور عوامی خدمات کا نشان تھا۔ پاکستان کی جوہری صلاحیتوں کو بڑھانے میں ان کے اہم کردار کے باوجود، ان کی سرکاری تنخواہ اور مراعات معمولی تھیں، چند سوال جواب یہاں تحریر کررہا ہوںجس سے اندازہ ہوگا کہ ہم اپنے محسنوں کے ساتھ کیا سلوک کرتیں ہیں شائد ہمارے اکابرین کے ذہنوں میں کچھ شرم آجائے ۔ سوال ۔آپ کے بیرون ملک بہت اثاثے ہیں ، جواب ۔۔میں نے حکومت کو اتھارٹی دے دی ہے ، جو جو جہاںہیں وہ لے لو ، سوال ۔۔کیا یہ الزامات جھوٹے ہیں۔۔ جواب ۔۔ جھوٹے ، پکے منافق جتنے ہمارے ملک میں ہیں کہیں نہیں ، خاص طور حکمران ، ڈاکٹر عبدالقدیر نے بتایا کہ ایک خاتون ٹی وی اینکر جو پہلے سبزی فروخت کرتی تھی کہتی تھی میرے اسلام آباد میں 23 بنگلے ہین ، ٹی وی کے ایک چینل پر اپنے آپ کو مشہور صحافی از خود کہلانے والا میری نظر بندی کے بعد ٹی وی پر کہہ رہا تھا ڈاکٹر کی صرف گرفتاری کافی نہیں اسکے بیرون ملک اثاثے جو ملین ڈالرز ہیں وہ بھی لائے جائیں، سوال ۔۔۔آپ سادہ سے انسان ہیں پھر یہ ایٹم بم بنانا سمجھ نہیں آتا ۔۔جواب۔۔ ایٹمی ٹکنالوجی کا یہ مطلب ہرگز نہیںکے اسے مارکر دنیا ختم کردو ، یہ اپنی حفاظت کیلئے ہے کہ سرحدیں محفوظ ہوگئی ہیںاپنی کاوشیں اب ملک کی معیشت کو بہتر کرنے پر صرف کرو، مگر ایسا اس ملک میں نہیں ہوا ۔ 
سوال۔۔کیا ایٹمی ٹیکنالوجی کے بعد آپ پاکستان میں بجلی کے حوالے سے کام کرسکتے ہیں؟؟ جواب ۔۔ سب کچھ ممکن ہے مگر ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہمارا جو حشر یہاںکیا گیا اب ہم اس ملک کیلئے کچھ نہیں کرینگے ، معاملات جاہلوںکے ہاتھو ں میں ہیں حکمران چور ہیں ، چور لٹیروں کو نہیں پکڑتا ، بیرون ملک دبائو کے نتیجے ہیں گھر میں بند کردیا گیا ، جہاں ہم نے چھ سال گزارے ہماری بیٹی ہمارے گھر سے دو سو میٹر کے فاصلے پر رہتی ہے اسے ہم سے ملنے سے روک دیا گیا ۔ہم نے اس ملک کو مضبوط کرنے کا عزم کیا تھا وہ کردیا ، مگر حکمرانوںنے ہمار ا یہ حشر کردیا ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر سے پوری پاکستان قوم ضرور شرمندہ ہے جس شخص کو باوقار اعزازات سے نوازا گیا، جن میں شامل ہیں: نشان امتیاز (1996، 1999)ہلال امتیاز (1989)مگر مرحوم پرویز مشرف نے انہیں خوف دلا کر کہ امریکہ ہم سے مطالبہ کررہا ہے کہ آپکے جرائم کی روشنی میں آپکو امریکہ کے حوالے کردیا جائے ، آپ ہمیںاس عمل سے بچائیں، او ر سرکاری ٹی وی بزور طاقت ان سے بیان دلوایا گیا کہ وہ مجرم ہیں ۔اسوقت کے وزیر اعظم مرحوم ظفراللہ جمالی کی مخالفت پر انہیں نااہل کہہ کر مشرف نے برطرف کردیا تھا ، جب ڈاکٹر عبدالقدیر کا اقبالی بیان پاکستان ٹیلی ویثرن پر نشر ہوا اس روز پرانے لوگ بتاتے ہیں وہاںکے سٹاف کی آنکھوں میں آنسوتھے کچھ رونے کی آواز پر قابو نہ رکھ سکے اور دھاڑلیا مار کر رورہے تھے ڈاکٹر کے جرائم پر نہیں بلکہ پرویز مشرف کے عمل پر ۔ 

مزیدخبریں