نور ولی محسود کا بیانیہ خوارج کا تسلسل، اسلامی اقدار کی صریح خلاف ورزی: علما

11:23 AM, 29 May, 2025

اسلام آباد : مختلف مکاتبِ فکر کے جید علمائے کرام نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ نور ولی محسود کے افکار و اعمال کو اسلام کے امن و وحدت پر مبنی پیغام سے متصادم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ دین کے مقدس تصورِ جہاد کو بگاڑ کر دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔

علما نے اپنے متفقہ بیان میں کہا کہ نور ولی محسود خوارج کی طرز فکر پر چلتے ہوئے دیگر مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہے اور ان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو جہاد کا نام دیتا ہے، جو سراسر گمراہی ہے۔ ان کے مطابق نور ولی کی سرگرمیاں فرقہ واریت، قتل و غارت اور امت میں انتشار کا باعث بن رہی ہیں۔

اسلامی تعلیمات کی تحریف اور خودساختہ فتاویٰ
علمائے کرام نے کہا کہ نور ولی محسود قرآنی آیات کو سیاق و سباق سے ہٹاکر اپنی پرتشدد سوچ کے مطابق پیش کرتا ہے، جو نہ صرف دینی خیانت ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش بھی ہے۔ اس کے دعوے نہ کسی معتبر دینی ادارے کی تائید یافتہ ہیں، نہ ہی کسی مستند عالمِ دین نے ان کی توثیق کی ہے۔

غیر ملکی قوتوں سے روابط کا انکشاف
تحقیقی رپورٹس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق نور ولی کا گروہ مبینہ طور پر غیر ملکی خفیہ اداروں سے روابط رکھتا ہے، جن کے ذریعے وہ پاکستان میں بدامنی اور مذہبی انتشار کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ علما نے اس طرزِ عمل کو قرآنی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی اور امت کے ساتھ غداری قرار دیا۔

امت سے ہوشیاری اور بیداری کی اپیل
ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے علما نے قوم سے اپیل کی ہے کہ وہ نور ولی محسود جیسے عناصر سے ہوشیار رہیں اور ان کے خودساختہ بیانیے کو مسترد کریں۔ علما نے کہا کہ اسلام کسی بھی صورت میں مسلمانوں کے خلاف طاقت کے استعمال یا دشمن قوتوں سے اتحاد کی اجازت نہیں دیتا۔

علمائے کرام نے نوجوانوں کو تلقین کی ہے کہ وہ دین کی اصل روح کو سمجھیں، اور ایسے گمراہ کن نظریات سے خود کو اور اپنے معاشرے کو محفوظ رکھیں۔

مزیدخبریں