علیمہ صاحبہ! خان جی کیا کیا نہیں چھوڑیں گے!

09:44 AM, 29 May, 2025

اتنی بے چارگی، اتنے ترلے… اتنی منتیں۔ ہائے میری قسمت کہ مجھے یہ دن بھی دیکھنا تھا۔ کھلے عام دن دیہاڑے اس بھائی کی بہن کی جس بھائی کو فولادی، ہمت والا، گرمی کی آگ برداشت کرنے والا، کبھی کسی کے آگے مرتے دم تک نہ جھکنے، نہ بکنے والا، دھرنے، لانگ مارچ، شہر بند کرنے، نوازشریف اور زرداری جب وہ اس کی ہٹ دھرمی اور ضد سے جیلوں میں تھے، ان کی بیرکوں میں لگے اے سی اتروانے والا، قوم کو تقسیم کرنے والا عوامی حلقوں میں ناچ گانے کروانے والا، شرفاء کی سرعام جلسوں اور جلوسوں میں پگڑیاں تار تار کرنے والا بانی فتنہ اب بہنوں کے ذریعے این آر او مانگ رہا ہے، بلک بلک کر آخرکار علیمہ خان یہ بات کہنے پر مجبور ہو گئی کہ کچھ لو… کچھ دو کے لئے ہم تیار ہیں۔ آئیں کسی نے ہمارے ساتھ بات کرنی ہے وہ آگے جا کر فرماتی ہیں کہ ہمیں دو سال سے پتہ ہی نہیں چل رہا کہ آپ میرے بھائی سے کیا مانگ رہے ہیں۔ آپ بتائیں کہ بھائی کیا چیز چھوڑیں کہ وہ رہا ہو جائیں… باقی باتیں تو بعد کی ہیں ان کی بے چارگی میں مجھے ایک بات بہت دل کو لگی وہ فرماتی ہیں کہ بتائیں بانی کیا چیز چھوڑیں کہ آپ ان کو اڈیالہ جیل کی سلاخوں میں پڑے تیس مار خان کو آزاد کر دیں۔ 
چارہ انتظار کون کرے
اب ہم بتائیں کہ علیمہ صاحبہ آپ کے بھائی کیا چھوڑیں کہ وہ رہا ہو جائیں تو میرے نزدیک ایک نہیں کئی باتیں ہیں جو اگر وہ نہ کرتے تو آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہ ہوتے۔ بات ہو رہی تھی کہ بانی وہ کیا چیز چھوڑیں جو ان کی تقدیر کو پھر سے سنوار سکے… اب حکومت علیمہ خان کے اس مطالبے پر غور کرتی ہے نہیں کرتی ہو سکتا ہے کہ حکومت بہت سی باتیں چھڑانا چاہتی ہو اور خان صاحب وہ باتیں چھوڑنے کا وعدہ کرکے پھر یوٹرن لے لیں کہ یہ میں نے کب کہا تھا یہ تو میری بہن نے کہا تھا میں تو قانون کا محافظ ہوں۔ میں تو آئین کا پاسدار ہوں، میں تو عزتوں کا رکھوالا ہوں وغیرہ وغیرہ… چلیں تھوڑی دیر کے لئے ہم یہ بات تصور کر لیتے ہیں کہ حکومت ان سے کچھ باتیں چھوڑنے کو کہہ سکتی ہے اب وہ باتیں کیا ہو سکتی ہیں۔ مفروضے کے طور پر کیا عمران خان اپنی یہ چیزیں چھوڑ دیں گے تو یہ ثابت ہو جائیں گے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لیں گے وہ جو اب تک کرتے آ رہے ہیں۔ وہ چھوڑ دیں گے علیمہ صاحبہ آپ بھی جانتی ہیں اور خان صاحب کا دوست ہونے کے ناطے ہم بھی جانتے ہیں کہ وہ کیا چھوڑیں گے… کیا نہیں چھوڑیں گے۔ وہ کیا نہیں چھوڑیں گے آئیں ان باتوں پر نظر دوڑاتے چلیں۔ 
کیا وہ دھرنوں کی سیاست چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ شرفاء کی پگڑیاں تار تار کرنا چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ اپنے پالتو سوشل میڈیا پر بیٹھے بھونکنے والوں کی زبانیں بند کرا دیں گے… نہیں کریں گے۔ 
کیا وہ اداروں کو لڑانے کی پالیسی ترک کر دیں گے… نہیں کریں گے۔ 
کیا وہ 9مئی کے واقعات پر سرعام معافی مانگ لیں گے… نہیں مانگیں گے۔ 
کیا وہ9مئی کے واقعات کروانے کا اعتراف کر لیں گے… نہیں کریں گے۔ 
کیا وہ تمام سیاست دانوں سے معافی مانگ لیں گے جن کو اپنے بعض میں سزائیں دلائیں… نہیں مانگیں گے۔ 
کیا سرعام غلیظ زبان کا استعمال بند کر دیں گے… نہیں کریں گے۔ 
کیا وہ پاکستان کو بند کرنے کی باتیں کرنا چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ تمام شہر بند کرنے کے اعلانات کرنا چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پیار و محبت کا ہاتھ بڑھائیں گے… نہیں بڑھائیں گے۔ 
کیا وہ افواج پاکستان کے خلاف زہر آلود باتیں چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ جانور اور انسان کے درمیان نیوٹرل کے سبق دینا بند کر دیں گے… نہیں کریں گے۔ 
کیا وہ سب کو اندر کر دوں گا… سب کو جیل میں ڈال دوں گا… یہ کہنا چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ ججز اور آئی جی کو یہ کہنا چھوڑ دیں گے کہ تمہیں بھی دیکھ لوں گا، کہنا چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ نسلوں کو بدزبان، بدتہذیب بنانا چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ اپنے مخالفین پر گھٹیا الزام لگانا چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ ان باتوں کا اعتراف کر لیں گے کہ دھرنے کے دوران انہوں نے پارلیمینٹ اور پی ٹی وی کی عمارتوں پر حملہ نہیں کروایا تھا… نہیں کریں گے۔ 
کیا وہ جلسوں میں قوم کی بیٹیوں سے ڈانس کرانا بند کرا دیں گے… نہیں کرائیں گے۔ 
کیا وہ اپنی بے جاء ضدیں، انائیں اور ہر ایک کے ساتھ ہتک آمیز رویہ اپنانا چھوڑ دیں گے… نہیں چھوڑیں گے۔ 
کیا وہ اپنی بے لگام زبان کو لگام دے سکیں گے… نہیں دیں گے۔ 
کیا وہ سائفر جیسی سازشوں کا اعتراف کرتے ہوئے آئندہ ایسا نہیں کریں گے… وہ کریں گے۔ 
کیا وہ تکبر بھرے نعرے لگانا بند کر دیں گے… نہیں کریں گے۔ 
وہ وقت مری جان دور نہیں ہے
چھن جائیں گے مجھ سے مرے آنسو مری آہین
اور آخری بات…
علیمہ خان صاحبہ انسانی فطرت میں جب برائی جنم لینا شروع کر دے، جب آپ کو گالی دینے کی عادت پڑ جائے جب آپ اداروں کے خلاف نفرت کو اپنی سیاست کا مرکز بنا لیں، جب آپ کا مقصد صرف اقتدار ہو، جب آپ کو دوسروں کی عزتوں پر ہاتھ ڈالنے کی عادت پڑ جائے، جب آپ خود کو اشرف المخلوقات سے بھی اوپر جاننا شروع کر دیں۔ جب آپ نے کسی کو ماننا ہی نہیں کی عادت پڑ جائے جب آپ بھی کبھی کبھی کچھ اپنی ہی باتوں کی نفی کرتے جانے کا غبار آپ کے اندر پھیل جائے اور جب آپ دوسروں کے مقابلے میں بڑے ہونے کی سند جاری کر دیں تو پھر…
آپ ہی اپنی ادائوں پر ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

مزیدخبریں