اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری تنازعات کے انسانی جانوں اور معیشت پر پڑنے والے اثرات انتہائی افسوسناک ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ ان مشکل حالات میں مسلم اُمہ کا اتحاد ہی مشترکہ چیلنجز کا واحد حل ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پاکستان کی میزبانی میں ہونے والا یہ اہم اجلاس پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے درمیان مشاورتی عمل کا تسلسل تھا۔اس مشاورتی عمل کا پہلا اجلاس 19 مارچ کو ہوا تھا، جبکہ دوسرا دور آج اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں چاروں ممالک نے خطے کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔نائب وزیراعظم نے دورے پر آئے ہوئے وزرائے خارجہ کے ساتھ ہونے والی دوطرفہ ملاقاتوں کو انتہائی مفید اور مستقبل کے لیے اہم قرار دیا۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران اسحاق ڈار نے درج ذیل اہم نکات پر روشنی ڈالی۔موجودہ علاقائی کشیدگی کے نتیجے میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع اور معاشی عدم استحکام پر تمام ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اجلاس میں شریک تمام وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی کا نہ صرف جلد بلکہ مستقل خاتمہ ضروری ہے تاکہ عوام کی زندگیوں کو تحفظ مل سکے۔
اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مشترکہ چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے مسلم اُمہ کو ایک پلیٹ فارم پر متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ان مشاورتی اجلاسوں کے ذریعے خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار ہوگی۔
اسلام آباد میں چار ملکی مشاورتی اجلاس 'نتیجہ خیز' رہا، علاقائی تنازعات کا مستقل خاتمہ ناگزیر ہے: اسحاق ڈار
10:11 PM, 29 Mar, 2026