گوادر : مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے دوران پاکستان کی گوادر بندرگاہ نے عالمی تجارتی حلقوں کی توجہ حاصل کر لی ہے۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انوار چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی بحری جہاز ایم وی ایچ ایم او لیڈر کامیابی سے گوادر پورٹ پر لنگرانداز ہو گیا ہے، جو بندرگاہ کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق، اس جہاز کی آمد کے ساتھ ہی 35 یونٹس ٹرانس شپمنٹ کارگو کی ہینڈلنگ مکمل کر لی گئی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ گوادر پورٹ اب بین الاقوامی ٹرانزٹ تجارت کے لیے ایک مکمل فعال اور محفوظ مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے بحری کمپنیاں متبادل راستوں کی تلاش میں ہیں، جہاں گوادر ایک محفوظ اور کم فاصلے والی گزرگاہ فراہم کرتا ہے۔
گوادر پورٹ اور اس کے فری زون میں 16 ہزار TEUs (کنٹینرز) ہینڈل کرنے کی وسیع گنجائش موجود ہے، جو اسے بڑے پیمانے پر عالمی تجارت کے لیے موزوں بناتی ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹرانس شپمنٹ کی ان سرگرمیوں سے گوادر جلد ہی وسط ایشیا اور خلیجی ممالک کے درمیان تجارت کا بنیادی محور بن جائے گا۔
وزارتِ بحری امور کاکہنا ہے کہ گوادر پورٹ کی کامیابی پاکستان کی معاشی خود مختاری اور علاقائی رابطے (Regional Connectivity) کے خواب کی تعبیر ہے، جو بین الاقوامی بحری ٹریفک کے لیے اب پہلی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔
عالمی بحری تجارت کا نیا رخ: مشرقِ وسطیٰ کے بحران میں گوادر پورٹ 'محفوظ ترین متبادل' قرار
05:50 PM, 29 Mar, 2026