واشنگٹن: امریکہ کی ٹاپ قیادت کے درمیان ایران پالیسی پر واضح تقسیم نے عالمی سفارتی حلقوں میں کھلبلی مچا دی۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے جہاں جنگ کی بساط لپیٹنے کا عندیہ دیا ہے، وہیں صدر ٹرمپ نے ایران کو طویل عرصے کے لیے مفلوج کرنے کا مشن جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
نائب صدر نے واضح کیا ہے کہ امریکی افواج اپنے بنیادی فوجی اہداف حاصل کر چکی ہیں اور اب مزید قیام کا کوئی جواز نہیں۔ انہوں نے جنگ سے نکلنے کو امریکی معیشت اور گیس کی قیمتوں میں کمی کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نائب صدر کے اس فارمولے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا عزم ہے کہ ایران کے خلاف عسکری دباؤ اس وقت تک برقرار رکھا جائے جب تک ایرانی حکومت مکمل طور پر کمزور اور عالمی سطح پر غیر مؤثر (Ineffective) نہ ہو جائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جے ڈی وینس کا بیان ملک بھر میں جاری "نو کنگز" مظاہروں اور معاشی دباؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے، جبکہ ٹرمپ ایران کے "حکومتی ڈھانچے" کو مستقل نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں پالیسی تصادم؛ جنگ کا خاتمہ یا ایران کی مکمل تباہی؟ ٹرمپ اور وینس آمنے سامنے
10:44 AM, 29 Mar, 2026