ریلوے میں اپ گریڈیشن، سفر بھی محفوظ بنائیں

09:04 AM, 29 Mar, 2026

پاکستان ریلویز کو عید کے تین دنوں میں مسافر ٹرینوں سے ریکارڈ آمدن حاصل ہوئی جبکہ گزشتہ ہفتے پاکستان ریلویز نے مسافر ٹرینوں کے ذریعے مجموعی طور پر ایک ارب روپے سے زائد آمدن حاصل کی وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب نے اس کارکردگی کو مثبت عوام دوست پالیسیوں اور موثر انتظامی اقدامات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے ریلوے انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی ان کا مزید کہنا تھا کہ آئندہ تین سالوں میں کراچی تا روہڑی ریلوے ٹریک کو آپ گریڈ کر دیا جائے گا جس سے نہ صرف سفر کا معیار بہتر ہوگا بلکہ ٹرینوں کی رفتار میں بھی نمایاں اضافہ ہو گا
دوسری جانب ایک ہفتے میں ریلوے میں تیسرا حادثہ ہوا ہے گرین لائن ایکسپریس جس پر ریلوے انتظامیہ بڑا فخر محسوس کرتی ہے کوچز کے بفر ٹوٹنے کے بعد حادثہ پیش آیا ہے اس سے قبل لودھراں میں تیز گام ایکسپریس کا بفر ٹوٹنے سے حادثہ پیش آیا تھا ہم حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خدارا وہ ریلوے پر توجہ دے کیونکہ ریلوے میں کوئی انویسٹمنٹ نہیں کی جارہی ہے عید سے قبل شالیمار ایکسپریس اور عید کے بعد تیزگام ٹرین اور گرین لائن ایکسپریس کو حادثات پیش آ چکے ہیں کراچی سے روہڑی سکھر ٹریک ناکارہ ہو چکا ہے وفاقی حکومت موٹر ویز بنانے کے ساتھ ساتھ ریلوے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے ریلوے قومی اثاثہ اور چاروں صوبوں کی یکجتی کی زنجیر ہے ایم ایل ون منصوبے کا آغاز کیا جائے 
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی ریلوے میں ترقی جدیدیت لانے ریلوے اسٹیشنوں کی آپ گریڈیشن اور مسافروں کو ٹرینوں اور پلیٹ فارمز پر سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات فراہم کرنے کیلئے شبانہ روز محنت کر رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پاکستان ریلویز کے متعلقہ افسر بھی ان کاوشوں میں شامل ہیں۔ لیکن عوام کا اعتماد تو ریلوے پر محفوظ سفر کرنے سے ہی مشروط ہوگا ریلوے حکام کو اس بابت سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا ۔
ہم عوام الناس کے مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی وساطت سے وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب سی ای او عامر علی خان بلوچ صاحب سے التماس کرتے ہیں کہ وہ نارووال سیکشن کو اپنی ہر پریس کانفرنس میں بڑی اہمیت دیتے ہیں جس پر اہالیان نارنگ نارووال ان کے ممنون ہیں اور نارووال سیکشن پر چلنے والی ٹرینوں کی مسافر بوگیوں کی تعداد 10 کرنے اور ان بوگیوں کی آپ گریڈیشن کرنے سے عوام بڑا فخر محسوس کر رہے ہیں نئی بوگیوں سے نارووال سیکشن کی ٹرینوں کے حسن کو چار چاند لگ گئے ہیں لیکن ان مسافر ٹرینوں کی بوگیوں میں پھر سے کمی کر دی گئی ہے جو پریشان کن ہے نارووال سیکشن پر علامہ اقبال ایکسپریس کے علاو¿ہ تمام ٹرینوں میں 10 بوگیاں ہر صورت لگانے کے احکامات پر عملدرآمد کروائیں 
ہم وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی صاحب سے نارووال سیالکوٹ سیکشن پر ٹرینوں کے ریونیو میں اضافے اور ماضی کی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے والی 217اپ 218 ڈاو¿ن شہسوار ٹرین کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں جس کا وفاقی وزیر ریلوے نے بحالی کا عندیہ بھی دیا ہوا ہے اس حوالے سے تجویز گوش گزار کرتے ہیں کہ اب ریلوے میں موسم گرما کا ٹائم ٹیبل اپریل سے نافذ العمل ہونے والا ہے 
1- سیالکوٹ ایکسپریس لاہور سے وزیر آباد براستہ نارووال سیالکوٹ صبح 6:30 بجے لاہور سے چلتی ہے اب گرمی کا سیزن آگیا ہے لہذا اس ٹرین کے ٹائم کو اب تبدیل کرکے اسے صبح 6 بجے چلایا جائے تو اس کے بڑے مثبت نتائج برآمد ہونگے 
2- دوسرا نارووال پسنجر 211اپ 212ڈاون ٹرین جو صبح 7:15 بجے نارووال کیلئے روانہ ہوتی ہے اسے پرانے ٹائم ٹیبل کے مطابق ول لاہور سے صبح 9:20 پر نارووال کیلئے روانہ کیا جائے کیونکہ اس ٹرین کو میانوالی سے لاہور آنے والی ٹرین کی بریک پاور بوگی لگانی ہوتی ہے اور میانوالی سے آنے والی ٹرین لاہور لیٹ پہنچنے سے خاصا وقت ضائع ہوتا ہے اور نارووال پسنجر لاہور ہی سے کئی گھنٹے لیٹ چلتی ہے اور بادامی باغ شاہدرہ باغ جنکشن ریلوے اسٹیشن پر مسافر ٹرین بروقت نہ آنے پر واپس چلے جاتے ہیں اور ریلوے کو انتظامی اور مالی طور پر نقصان کے علاو¿ہ اس کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور 27 مارچ بروز جمعہ2026 کو نارووال پسنجر لاہور سے 5گھنے 11 منٹ لیٹ روانہ ہوئی اب ریلوے انتظامیہ بتائے کہ مسافروں کا کیا حال ہوگا لہذا اس ذہنی کوفت سے نجات کا مثبت حل یہی ہے کہ نارووال پسنجر کو اس کے پرانے ٹائم ٹیبل پر لاہور سے روانہ کیا جائے جبکہ نارووال سے لاہور روانگی کا وقت شام 5بجے برقرار رکھا جائے جس سے یہ ٹرین کثیر ریونیو حاصل کرے گی 
3- اب آتے ہیں نارووال سیکشن پر ایک ٹرین میں اضافے کی طرف اور یہ معاملہ بھی انشائ اللہ ریلوے اور عوامی مفاد عامہ میں حل ہوتا نظر آرہا ہے وہ یہ ہے کہ فیض احمد فیض 209 اپ 210 ڈاو¿ن ٹرین صبح لاہور تقریباً 8 بجے سے پہلے پہنچتی ہے اور پھر یہی ٹرین رات7:30 لاہور سے نارووال کیلئے روانہ ہوتی ہے یوں اس ٹرین کا ریک لاہور ریلوے اسٹیشن پر 11:30 گھنٹے خالی کھڑا رہتا ہے اس ریگ کو سیکنڈ ٹرپ پر چلا کر ریلوے انتظامیہ ماضی کی منافع بخش ٹرین 217 آپ 218 ڈاو¿ن شہسوار ایکسپریس کو باآسانی چلا سکتی ہے جس کا ورکنگ پیپر مکمل ہے اور سی او پی ایس صاحب نے اس ٹرین کو چلانے کا فیصلہ کرنا ہے ہماری تجویز ہے کہ ریلوے انتظامیہ شہسوار ٹرین 217 اپ کو ماضی کے وقت کے مطابق صبح 11:45 پر لاہور سے نارووال کیلئے روانہ کرے جو 2:15 بجے دوپہر نارووال پہنچے اور نارووال سے 3 بجے سہ پہر لاہور کیلئے روانہ کرے جو 5:30 پر شام لاہور پہنچے گی اور 2 گھنٹے کے بعد یہی ٹرین 209 اپ بن کر نارووال کیلئے روانہ ہو جائے گی فیض احمد فیض ٹرین کے ریک کو سیکنڈ ٹرپ پر استعمال کرکے عوام کیلئے اپ ڈاو¿ن سائیڈ پر 2 ٹرینیں چلنے سے جہاں عوام خوش ہونگے وہاں ریلوے انتظامیہ کی تحسین بھی ہوگی اور ریلوے آمدن میں اضافہ بھی ہوگا۔

مزیدخبریں