لمحہ موجود میں پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی ہوئی ہیں ۔اور یہ تاریخ کے چند نایاب لمحوں میں سے ایک لمحہ ہے جب پاکستان کا نام دنیا بھر میں اچھے الفاظ میں لیا جارہا ہے ۔یہ عزت پاکستان کو نہ مفت میں ملی ہے اور نہ ہی کوئی ایسے کسی کو عزت دیتا ہے۔پاکستان نے یہ عزت اپنی محنت سے کمائی ہے۔ پاکستان اس وقت دنیا میں امن کی خواہش ہی نہیں بلکہ امن کے لیے اپنی کوششیں بروئے کار لانے والا ملک ہے۔وزیراعظم سے لے کر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پھر ان کی ٹیم اس قدر متحرک ہے کہ ایک طرف امریکا سے رابطے ہیں تو دوسری طرف ایران سے بات چیت ۔خلیجی ممالک سے گفتگو اور سعودی عرب کو اعتماد دینے کا کام چوبیس گھنٹے ہورہا ہے۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے موجودہ ایران اسرائیل اور امریکا کی جنگ کے تنازع کے خاتمے کے لیے عالمی پنچائت جاری ہے ۔ پاکستان اس وقت دنیا کی پنچائت کا سرپنچ ہے ۔ پاکستان درمیان میں بیٹھا ہے ایک طرف ایران کے رہنما ہیں اور دوسری طرف امریکی حکام ہیں جبکہ پوری دنیا اس وقت تنازع کے حل کی امید لیے اس پنچائت کو کامیا ب ہوتے دیکھنا چاہتی ہے۔امریکا کی پندرہ شرائط ایران تک پہنچائی جاچکی ہیں جبکہ ایران کی جوابی پانچ شرائط امریکا کو دی جاچکی ہیں۔ابتدائی طورپر تو یہ شرائط کافی سخت معلوم ہوتی ہیں لیکن انہی شرائط میں کچھ ایسی شرائط ہیں جن پر سمجھوتہ ممکن بنایاجاسکتا ہے ۔ایران کی شرائط میں سے پہلی شرط ہے کہ ایران پر جارحیت اوران کی لیڈرشپ کو ٹارگٹ کرنا فوری بند کیا جائے ۔یہ بالکل جائز شرط ہے کہ جنگ بندی ہوتی ہے تو جارحیت کا خاتمہ ساتھ ہی ممکن ہوجائے گا۔ایران کی باقی شرائط میں جنگ کے دوران جو ایران کا مالی نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ کیا جائے ۔اس پر من وعن عمل ہونا شاید ممکن نہ ہو لیکن اگر اس جنگ بندی کے معاہدے میں ایران پر سے تجارتی پابندیاں ختم ہوجاتی ہیں( جو کہ ختم ہونی بھی چاہئیں )تو ایران اپنے تیل اور گیس سے ہی اپنی معیشت کو تیزی سے دوبارہ کھڑا کرسکتا ہے کہ اس کو کسی اور ملک کی طرف سے ازالے یا ہرجانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
ایران کی طرف سے ایک شرط ایسی ہے جس پر شاید عمل ممکن نہیں ہوگا ۔ وہ شرط بنیادی وجہ تنازع بھی ہے کہ خلیجی ممالک سے امریکی اڈے ختم کیے جائیں۔اس شرط پر فوری عمل اس لیے ممکن نہیں ہوگا کیونکہ اڈے ختم کرنا صرف امریکا کا ہی اختیار نہیں بلکہ اس میں ان ممالک کا راضی ہونا بھی شامل ہے جن ممالک نے یہ اڈے اپنے ممالک میں بنوارکھے ہیں ۔اس شرط پر فوری نہ سہی لیکن لانگ ٹرم میں عمل ممکن ہوسکتا ہے اور اس کا امکان بھی موجود ہے۔خلیجی ممالک اگر چاہیں تو امریکا کی بجائے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کرکے امریکا کو اس خطے سے الوداع کہہ سکتے ہیں۔ اس کا آغازسعودی عرب سے کیا جاسکتا ہے کیونکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوچکا ہے ۔سعودی عرب میں موجود امریکی اڈوں کو پاکستانی اڈوں سے تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔پاکستان کی اس ریجن میں موجودگی سے کسی بھی اسلامی ملک کو اعتراض نہیں ہوگا۔کیونکہ پاکستان اس وقت امت مسلمہ کا لیڈر ہے ۔اگر خلیجی ممالک امریکا کو خیرآباد کہہ دیتے ہیں تو ایران بھی اس اتحاد میں شامل ہوسکتا ہے اور پھر نیٹوکے مقابلہ میں ”میٹو“ اتحاد بن سکتا ہے۔یہ امت مسلمہ کا دفاعی اتحاد بن سکتا ہے ۔جس سے اسرائیل کو بھی ایسی جارحیت کی جرات نہیں ہوسکے گی اوردنیا بھی احترام سے بات کرے گی۔
امریکی شرائط میں کچھ شرائط روایتی ہیں اور ایران کے لیے قابل قبول بھی ہوں گی ا ن میں ایٹمی ہتھیاروں سے ایران کو روکنا شامل ہے۔ امریکی یہ شرط سخت ہے لیکن اس کے ساتھ پہلی بار امریکا نے ایران کے لیے سول نیوکلئر پروگرام پر آمادگی ظاہر کی ہے ۔یعنی ایران ایٹمی پروگرام سول مقاصد کے لیے رکھ سکتا ہے بلکہ اس کے بدلے امریکا نے ایران کے ساتھ سول نیوکلئر معاہدہ تک کرنے کی بات بھی ساتھ رکھ دی ہے۔ایک اور شرط جو ایران کے لیے کافی سخت ہوسکتی ہے لیکن اب یا بعد میں ایران کو یہ ماننی پڑے گی ۔امریکا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ایران اپنے ملک سے باہر اپنی پراکیسز کو سپورٹ کرنا ختم کردے ۔یہ ایسی شرط ہے جس پر شاید ایران فوری راضی نہ ہو یا اس الزام کو ماننے سے ہی انکار کردے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران لبنان ، شام اور یمن میں بہت سے جنگجو گروپوںکو سپورٹ کرتا چلاآیا ہے جو کسی نہ کسی وقت ختم کرنی پڑے گی۔
اس کے بعد آبنائے ہُرمز کے حوالے سے بھی شرائط دونوں اطراف سے شامل کی گئی ہیں۔امریکا کا کہنا ہے کہ ایران فوری طرف آبنائے ہُرمز کو کھول دے تاکہ دنیا میں توانائی کا بحران ختم ہوسکے ۔جبکہ ایران کی جوابی شرط یہ ہے کہ دنیا آبنائے ہُرمز پر ایران کی خود مختاری تسلیم کرے۔ اس شرط کی درمیانی راہ بھی سرپنچ نکال سکتے ہیں ۔جیسا کہ اس گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہاز کچھ رقم بطور ٹول ٹیکس ایران کو اداکرنے لگیں ۔گوکہ یہ ٹول ٹیکس والی بات فی الحال امریکا کے لیے قابل قبول نہیں ہیں لیکن اس آبی گزرگاہ کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی معاہدہ ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ پوری دنیا اس آبی گزرگاہ کی بندش کا خمیازہ بھگت رہی ہے اور کوئی نہیں چاہتا کہ مستقبل میں اگر ایسی صورتحال ہو (خدانہ کرے کہ ایسی صورتحال دوبارہ پیدا ہو)تو اس طرح ایران یا کوئی دوسراملک اس کو بند کرکے پوری دنیا کو بحران میں مبتلا نہ کرسکے ۔
اس وقت ان شرائط پر بات چیت ہورہی ہے۔ خبریں یہی ہیں کہ یہ جنگ بندی مذاکرات پاکستان میں ہوں گے ۔ چلیں یہ مذاکرات دنیا میں کسی بھی جگہ ہوں مذاکرات کا مرکزی کردار پاکستان ہی ہوگا کیونکہ اس وقت پاکستان واحد ملک ہے جس پر دونوں اطراف کا بھرپور اعتماد ہے اور پاکستان اس اعتماد پر بھرپورپورا بھی اتررہا ہے کیونکہ پاکستان کی نیت نیک ہے۔ نیت دنیا کے امن کی ہے اور اس نیک نیتی کا صلہ بھی اللہ کریم پاکستان کو دے رہے ہیں۔ صلہ اس طرح دے رہا ہے پاکستان کے جھنڈے والے جہازوں کو آبنائے ہُرمز سے بلاروک ٹوک گزرنے کی اجازت ہے ۔ پاکستان میں پٹرو ل کا بحران نہیں ہے ۔ پاکستان نے اپریل کے مہینے تک تیل کی آمد یقینی بنالی ہے ۔اس وقت دنیا میں سب سے مصروف بندرگاہیں پاکستان کی ہیں ۔ ڈیٹا بتاتا ہے کہ اس سال کے پہلے تین ماہ میں پاکستان کی بندرگاہوں پر اتنے جہاز لنگرانداز ہوچکے ہیں جتنے گزشتہ سال کے بارہ ماہ کے دوران ہوئے تھے ۔
پاکستان کی اہمیت اس قدر ہے کہ ایک طرف پاکستان کے کہنے پر ایران کی اہم شخصیات کو تارگٹ لسٹ سے نکالا گیا تو دوسری طرف پاکستان کے کہنے پر ایران کی تیل تنصیبات پر حملوں سے باز رکھا جارہا ہے ۔پاکستان محض ثالث نہیں بلکہ دونوں اطراف کا شراکت دار ہے۔پاکستان کے لیے موجودہ جنگ میں سفارتکاری آسان نہیں تھی ۔ایک طرف ایران تو دوسری طرف سعودی عرب ہے جس سے ہمارا دفاعی معاہدہ ہے دونوں ممالک کو براہ راست حملوں سے روکنے کا اعزاز بھی پاکستان کو حاصل ہے۔اس لیے لمحہ موجود میں پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر جمی ہوئی ہیں۔
عالمی سرپنچ
09:03 AM, 29 Mar, 2026