عید الفطر اس حال میں آئی اور گزر گئی کہ قرآن و حدیث کے آئینے میں اس دور کے لیے موجود تمام پیشین گوئیاں حرف حرف سچ ثابت ہو گئیں۔ ساری تعریف اللہ ہی کے لیے کہ ہم پکار اٹھیں:انت الحق وقولک الحق ووعدک الحق....الٰہِ واحد کی ذات ہی حق ہے، اس کی ہر بات حق اور وعدے سچے ہیں۔ اسی کلام سے مستنیر اقبال کی آہ و زاریاں حقائق کی ایک صدی بعد بھی تصدیق کرتی ہیں۔ عالم ہمہ ویرانہ ز چنگیزی¿ افرنگ! ابلیسیت کا سب سے بڑا مظہر دجال ہے جس کے قدموں کی چاپ بلند آہنگ ہوتی چلی جارہی ہے۔ نبی¿ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’پیدائش آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک دجال کے ظہور سے زیادہ بڑا کوئی واقعہ نہیں۔‘ (صحیح مسلم) مشرقِ وسطیٰ کا میدان جنگ بننا اہم علامت ہے۔
مغربی دنیا میں انکارِ مذہب کا سفر سولہویں صدی سے شروع ہو کر تنویریت، روشن خیالی، ترقی کے نام پر منزلیں مارتا، سائنس کے سہارے انیسویں صدی کے اواخر تک پہنچتا ڈٹ کر انکارِ خدا کر چکا تھا۔ ڈارون کا نظریہ¿ ارتقاءصرف فلسفہ نہیں ایک مکمل نظامِ حیات ہے۔ ضمیر، آخرت، جواب دہی سے پیچھا چھڑا کر انسان اشرف المخلوقات کی جگہ نرا معاشرتی، ترقی یافتہ (شترِ بے مہار) حیوان تھا۔ نسلاً یہودی ،فرائڈ نے مذہب، خدا، ایمانیات کے جھنجٹ سے نجات پانے کو ’جبری محرکات‘ کا لائسنس انسانیت کے ہاتھ تھمایا۔ جو ابتدا تھی ’جیﺅجیسے چاہو، مزے ہی مزے، فکر نہ کر عیش کر، میرا جسم میری مرضی‘، کی۔ آگے بڑھ کر اسی سے شیطان کی خدائی کے لیے معبدِ شیطان بھی بن گئے۔ 100 برس سے، امریکی ریاست اوہائیو میں قائم معبد میں ہفتہ وار شیطانی پوجا پاٹ۔ بچوں، عورتوں کو اغوا کر کے خفیہ ٹھکانوں پر ان کی قربانیاں۔ خوبصورت لڑکیاں، نوعمر بچے، پہلے ان پر جنسی تشدد، پھر قتل شیطانیت کی پیروکار جادو گرنیاں خاص جڑی بوٹیوں، نومولود انسانی بچوں کا خون، مینڈکوں، چمگا ڈروں، چھپکلیوں سے مرہم تیار کرتیں۔ شاید اسی کا تسلسل بے رحم وحشی ایپسٹین، نتین یا ہو،ہیگستھ انسانیت دشمنی میں طاق ہیں۔
اللہ کی تخلیق کردہ یہ دنیا اپنے آغاز سے بعید ترین اور انجام سے قریب آرہی ہے۔ ابلیس کی مہلت عمل ختم ہونے کو ہے۔ انسانیت کو گمراہ کر کے اسے واصل جہنم کروانے کا جو عہد، حضرت آدمؑ سے حاسد، اس متکبر نے باندھا تھا، اس کے سبھی دا¶ وہ آزماتا اب بدترین دور میں پہنچا کھڑا ہے۔ صیہونیوں کی صورت اسے وفادار پیرو کار میسر ہیں جو مسلمانوں اور اسلام سے دشمنی میں کمر بستہ، طاق، صف بستہ ہیں۔ رمضان میں اس کی غیر موجودگی میں بھی بلوہ، فساد، جنگ و جدل، خونریزیوں میں کوئی کسر نہ اٹھارکھی۔ ابلیس اور اس کے پیرو کار جانتے ہیں کہ اب دنیا سے ان کا کاروبار لپیٹے سمیٹے جانے کو ہے۔ ابلیس اور یہود کی مدد کو ان کے جھوٹے مسیح
الدجال کا ظہورہونا ہے۔یہود کا خاتمہ عیسیٰ ابن مریم ؑ کے تشریف لانے پرہو گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں دجال کا قتل اور ان دجل فریب، قتل و غارت گری کے ابواب کا لپٹ نمٹ جانا۔اسلام کا پوری دنیا پر موعود غلبہ۔ اور پھرکچھ مزید علامات کے بعد بالآخر قیامت بپا ہونا اور گھر واپسی۔
آج درجہ بدرجہ جنگوں اور عمومی گلوبل اخلاقیات میں جس درجے درندگی، وحشت، ڈھٹائی، حیا سوزی، لذتیت، خود پرستی در آئی ہے، وہ حیران کن ہے۔ تاہم گزشتہ 10 صدیوں میں انسان نے، اپنی روحانی سطح پر ضمیر سے جو محاذ آرائی شروع کی تھی، خیر وشر میں اکثریت کا انتخاب شر ہی رہا!ا سے اپنے منطقی انجام کو پہنچنا ہی تھا جو آج ہم پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے ہیں۔ آگ سے بھرے گڑھوں میں پھینک کر اہل ایمان کو زندہ جلا دینے کی صدیوں پرانی کہانی آج ہائی ٹیک دنیا میں، ہزاروں پاو¿نڈ بموں کے ہاتھوں بستیوں، آبادیوں کو جلانے اور بھاپ بنا کر (غزہ میں )اڑا دینے تک آپہنچی ہیں۔ جو کسر رہ گئی تھی وہ اب ہمہ گیر جنگ جس میں مشرقِ وسطیٰ پورا بھسم کر دینے کی بھر پور کوشش چاہت امڈ رہی ہے۔ امریکی سیکرٹری دفاع ہیگستھ اور ہندو انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ کے ہر بیان، اقدام سے واضح ہے اور امت اس حال میں ہے کہ : ’میرِ سپاہ نا سزا، لشکریاں شکستہ صف!‘
آئر لینڈ کا مصنف، ناول نگار، آسکر وائلڈ کا ایک ناول 1890 ءمیں شائع ہوا تھا۔ یہ نفس انسانی کے اندر خیر و شر کے معرکوں کی ایک تصویر کشی،اس دور کے انسان کا عکس ہے۔ جسے ہم آج بھی بڑی نامور شخصیات، سیاستدان، حکمرانوں، سپہ سالاروں سبھی میں دیکھ سکتے ہیں۔ ایپسٹین فائلز کے 35 لاکھ صفحات مغربی اخلاق و کردار کی گراوٹ اور ظاہر و باطن کا تضاد، میڈیا کی چالبازیاں سبھی پرانی کہانی ہے۔ آسکر وائلڈ کشمکش کے اس دور میں جیا۔ موت قریب آئی تو کیتھولک پادری بلوا کر آخری وقت بپتسمہ لے کر عیسیٰ علیہ السلام پر ایمان کا اظہار کر کے نجات کا طلب گار ہوا! زندگی میں اگرچہ مذہب کا مذاق بھی اڑایا مگر موت کی تلخ حقیقت کی بو سونگھ کر یک لخت عقیدے پر موت، مغفرت، خلاصی چاہی! (آج غزہ نے یہ اسباق سکھا کر دنیا کی آنکھیں اسلام کے مکمل جامع نجات دہندہ عقیدے کے لیے کھولی ہیں!)
آسکر وائلڈ کی یہ تخلیق’ The Picture of Dorian Gray ‘ہے۔ یہ ایک غیر معمولی طور پر خوبصورت نوجوان ڈورین گرے کی کہانی ہے۔ایک مصور باسل ہال ورڈ، اس کی تصویر کشی اس مہارت سے ’پورٹریٹ‘ میں کرتا ہے کہ اپنے مبہوت کن حسن اور جوانی کو مجسم دیکھ کر ڈورین خود بھی مسحور ہو جاتا ہے۔ وہ اس خواہش کا اظہار کرتا ہے کہ ایسا ہو کہ ڈورین سدا بہار، ایسا ہی رہے جیسا قدِ آدم تصویر میں ہے۔ وہ بوڑھا نہ ہو، جھریاں نہ پڑیں۔ نہ ہی اس کے گناہوں، سیرت و کردار کی لغزش کا اثر اس کے اپنے چہرے پر ظاہر ہو۔ بلکہ اس کی جگہ یہ تمام اثرات اس کے پورٹریٹ پر ظاہر ہوتے رہیں! اس گفتگو میں شریک ایک بڑی عمر کا تیز طرار بدکردار لارڈ ہینری ووٹن بھی ہے۔ ہینری ڈورین کو ایک زہر ناک مگر دلچسپ کتاب بھیجتا ہے۔ اس کتاب کے زیر اثر ڈورین اگلے 18 سال نہایت عیاش، متلون مزاج، نفس پرست، لذتیت بھری زندگی کے پیچھے دوڑتا برائیوں میں ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ جب پہلی مرتبہ وہ دھوکا دہی اور خطا کا مرتکب ہو کر گھر لوٹتا ہے تو پورٹریٹ کے چہرے پر ایک ظالمانہ تاثر پاتا ہے۔ یعنی یہ تصویر ایک آئینہ بن جاتی ہے جو اس کے لیے حضرتِ ناصح بھی ٹھہری! ضمیر مجسم! (یعنی اس کی خواہش گویا دعا بن کر قبول ہو گئی!) ڈورین ہینری کو جا کر یہ بتاتا ہے تو وہ اسے چٹکیوں میں اڑا کر ہلکا کر دیتا ہے کہ تم نے کوئی بڑا قصور نہ کیا تھا۔ ڈورین اب پورٹریٹ اوپر سٹور میں منتقل کر دیتا ہے! (ضمیر ، زندگی کا مزا کر کرا کر دیتا ہے۔ اس سے فاصلہ بھی بھلا؟)
ایک دن اس کا مصور باسل اسے ملتا ہے اور کہتا ہے کہ تم نے کتنی ہی زندگیاں، لوگوں کی شہرت، عزت تباہ کی ہیں۔ ڈوریان الزامات رد کرتا ہے۔ ڈورین ایسے پورٹریٹ دکھانے سٹور میں لے جاتا ہے جو اب مزید بد نما، بدصورت ہو چکا ہے۔ باسل ڈورین کو تو بہ کرنے کو کہتا ہے کہ یہ تو اس کی روح کا بد نما عکس ہے جو اس کی بد باطنی کا مظہر ہے۔ اس تلقین پر ڈورین غضب ناک ہو کر باسل کو مار ڈالتا ہے۔ غرض ہر گناہ اگلے گناہ کا دروازہ کھولتا ہے۔ تاآنکہ ایک دن جب پورٹریٹ دیکھنے جاتا ہے تو گویا اس کا گھنا¶نا کردار، اس کاحسن و جوانی ختم کر چکا ہے۔ چہرے پر مکاری کے تاثرات ہیں۔ وہ غصے میں پورٹریٹ تباہ کر دینے کو اس میں چھرا گھونپ دیتا ہے۔ اس کے ملازمین چیخ سن کر آتے ہیں تو ایک نہایت مکر وہ، نفرت انگیز بوڑھا آدمی فرش پر مرا پڑا ہے اس کے سینے میں چھرا گھونپا ہوا ہے۔ قریب ہی ایک نہایت خوبصورت نوجوان کا پورٹریٹ پڑا ہے جو کبھی ڈورین تھا! یہ ناول اپنے اندر گہرا اخلاقی سبق رکھتا ہے۔ گناہوں کے خطرات سے متنبہ کرتا ہے۔
یہ ایمان کی کہانی بھی ہے۔ وہ پورٹریٹ، روحِ انسانی کا عکاس ہے جو آخرت میں سارے بھید کھول دے گا، مجسم۔ ’وہ دن جب کچھ چہرے روشن ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ۔‘ (آل عمران: 106) میڈیا جو دھوکا دہی سے، فراڈ جرائم چھپا کر جعلی شخصیتیں دنیا میں اجاگر کرتا ہے، چند روزہ چکا چوند ہے۔ سب دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ ان حقائق سے لاعلمی آج دنیا کو درندوں کا اکھاڑہبنائے ہوئے بھیڑیوں کو امن انعامات دیتی ہے۔ پاکیزہ نفوس کو پھانسی چڑھاتی یا گولیوں سے بھونتی ہے! سید قطبؒ کو پھانسی دینے سے قبل جلاد نے کلمہ پڑھنے کو کہا تو وہ پرسکون مسکراہٹ لیے بولے: تمھارا کیا خیال ہے، اس کلمے کے سوا بھی کوئی وجہ مجھے پھانسی دینے کی ہے!۔
میرِ سپاہ نا سزا، لشکریاں شکستہ صف!
09:03 AM, 29 Mar, 2026