کالم نگاری: شعور، جمالیات اور دلاور چوہدری

09:10 AM, 30 Jun, 2026


میرے نزدیک کالم نگاری عصری شعور کا جمالیاتی اظہار ہے۔ ایک حقیقی کالم نگار صرف اپنے عہد کا راوی نہیں ہوتا بلکہ وہ تاریخ کے طویل سفر کا امین بھی ہوتا ہے۔ اس کی نگاہ اپنے زمانے کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی حالات پر بھی ہوتی ہے اور گزری ہوئی صدیوں بلکہ ہزاریوں کا انسانی تجربہ بھی اُس کے ذہن کی مومی تختی پر نقش ہوتا ہے۔ مطالعہ، مشاہدہ، تجربہ اور حواسِ خمسہ کے ذریعے حاصل ہونے والا ہر احساس، ہر منظر، ہر واقعہ اور ہر خیال اس کے شعور کا حصہ بنتا ہے۔ یہی شعور رفتہ رفتہ اس کی ایک ایسی تصوراتی دنیا کی کھوکھ تخلیق کرتا ہے جہاںہر تخلیق جنم لیتی ہے۔ ہر بڑا تخلیق کار اسی دنیا میں اترتا ہے اوراپنے تجربات کو معنی دیتا ہے اور پھر انہیں الفاظ کا پیرہن عطا کرکے انسانوں کے درمیان واپس آ جاتا ہے۔سگمنڈ فرائڈ نے تخلیق کار اور پاگل کے درمیان ایک نہایت معنی خیز فرق بیان کیا ہے۔ اس کے مطابق دونوں اپنی اپنی تصوراتی دنیا میں داخل ہوتے ہیںمگر تخلیق کار وہاں سے اپنی تخلیق لے کر حقیقت کی دنیا میں لوٹ آتا ہے، جبکہ پاگل اسی دنیا میں ہمیشہ کے لیے مقیم ہو جاتا ہے لیکن صرف علم، تجربہ اور مشاہدہ کسی تحریر کو عظیم نہیں بناتے۔ بہترین خیال بھی اگر ذوقِ جمالیات کے چاک پر فن کار کے ہاتھوں کی لطافت سے نہ گزریں تو اپنا حسن کھو دیتے ہیں۔ یہی اصول مصوری، موسیقی، شاعری، افسانہ نگاری اور فنونِ لطیفہ کی ہر شاخ پر یکساں لاگو ہوتا ہے۔ کالم نگاری بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔ یہاں بھی خیال کو حسنِ اظہار کا لباس پہننا پڑتا ہے اورتب کہیں جا کر تحریر معلومات سے آگے بڑھ کر ادب کے درجہ پرفائز ہوتی ہے۔
دلاور چوہدری کی تحریروں کے بارے میں میری رائے بھی اسی تناظر میں تشکیل پائی۔ اس نے اپنے کالموں میں صرف حالاتِ حاضرہ کا بیان نہیں کیا بلکہ ان کے پس منظر میں تاریخ، فلسفہ، ادب، نفسیات اور تہذیب کے وہ دریچے بھی وا کیے جن سے قاری اپنے عہد کو ایک وسیع تر تناظر میں دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہی وصف کسی بھی سنجیدہ کالم نگار کو محض صحافی سے ممتاز کر کے ادیب کے مقام پر فائز کرتا ہے۔ یقیناً دلاور چوہدری کو بہت سے احباب نے یہ مشورہ دیا ہوگا کہ وہ اپنے کالموں کو کتابی صورت میں مرتب کرے مگر مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ اس 
خواہش میں شاید میرا بھی ایک معمولی سا حصہ شامل ہے۔ دلاورچوہدری سے میری پہلی ملاقات 1980ءکی دہائی کے ابتدائی برسوں میں ہوئی اور پھر یہ تعارف آہستہ آہستہ دوستی میں ڈھلتا چلا گیا۔ہم گھنٹوں اکٹھے بیٹھتے، سیاست، ادب، سماج اور زندگی کے مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے۔ 
دلاور چوہدری نوجوانی ہی سے تیز طرار، حاضر دماغ اور برجستہ جملے کہنے والا شخص ہے۔ اس کی گفتگو میں شگفتگی بھی ہوتی اور فکر کی گہرائی بھی۔ وہ محفل میں بیٹھتا تو اپنے منفرد اندازِ بیان کی وجہ سے سب کی توجہ کا مرکز بن جاتا۔ اس کی ذہانت اور مشاہدے کی قوت شروع ہی سے نمایاں تھی ۔اگرچہ اس وقت شاید ہم میں سے کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہی نوجوان آگے چل کر اردو صحافت اور کالم نگاری میں اپنا منفرد مقام پیدا کرے گا۔نوے کی دہائی کا آغاز تھا یا پھر اسی کی دہائی کا اختتام ¾ ایک دن نوائے وقت کے دفتر کے باہر، سول لائنز تھانے کے سامنے، اچانک دلاور دکھائی دیا۔ میں نے موٹر بائیک روک کر خیریت دریافت کی تو اس نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ” میں نے نوائے وقت جوائن کر لیا ہے۔“ وہ تازہ تازہ گریجویٹ ہوا تھا اور صحافت کی دنیا میں اپنے سفر کا آغاز کر رہا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف وجود میں آئی تو معراج محمد خان نے اپنی ” سوشلسٹ سیاسی جماعت ” پاکستان محاذ آزادی “ پی ٹی آئی میں ضم کردی اورمجھے بھی اپنی تنظیم کا فیصلہ مانتے ہوئے سرِ تسلیم خم کرنا پڑا اورپھر دلاور چوہدری سے نوائے وقت میں وقفے وقفے سے ملاقاتیں ہوتی رہیں۔
دلاور میرے لیے صرف ایک دوست نہیں بلکہ چھوٹے بھائی کی حیثیت رکھتا ہے۔ میرا ہمیشہ یہ ایمان رہا ہے کہ خونی اور معاشی رشتوں کے بعد اگر کوئی رشتہ سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے تو وہ احترام اور محبت کا رشتہ ہے۔ گزشتہ پینتیس برس کے اس کل وقتی اور جز وقتی تعلق میں ہم نے ہمیشہ ملکی حالات، سیاسی اتار چڑھا¶، سماجی رویوں اور انسانی زندگی کے مختلف پہلو¶ں پر گفتگو کی ہے۔
میں نے اس کے ابتدائی کالمز جنگ میں پڑھے تھے۔ وہ یقیناً خوبصورت تحریریں تھیں مگر ان میں مشاہداتی مواد نسبتاً زیادہ تھا۔ وہ ایک حساس صحافی کی آنکھ سے دنیا کو دیکھتا اور بیان کرتا تھا لیکن پھر ایک وقت ایسا آیا جب اس کے کالم باقاعدگی سے میرے واٹس ایپ پر موصول ہونے لگے۔ ان تحریروں نے دلاور چوہدری کے بارے میں میرا نقطہ نظر یکسر بدل کر رکھ دیا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے کوئی نوجوان رات کو سویا اور صبح بیدار ہو کر دانائی اور تجربے کی کئی منزلیں طے کر چکا ہو۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ کسی طویل فکری ریاضت کے سفر سے لوٹا ہو، ایسا سفر جو کتابوں، تجربوں، مشاہدوں اور انسانی نفسیات کے گہرے مطالعے سے عبارت تھا۔ اس کی تحریروں میں زندگی اپنے مکمل یقین اوراپنی پوری منطق اور اپنے تمام تر تضادات کے ساتھ رواں دواں نظر آتی ہے۔
دلاور عام آدمی کا کالم نگار نہیں ہے۔ وہ ان قارئین کا لکھاری ہے جو کتابوں سے دوستی رکھتے ہیںجو فکری مباحث میں دلچسپی لیتے ہیں اور جو زندگی کو محض واقعات کے مجموعے کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی تجربے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کے کالموں میں جن کتابوں، مصنفوں اور نظریات کا حوالہ ملتا ہے انہیں پڑھے بغیر بعض اوقات قاری اس تحریر کی مکمل لذت سے محروم رہ جاتا ہے۔اس کی تحریروں کا ایک اور نمایاں وصف شعری حوالوں کا برمحل استعمال ہے۔ وہ اشعار کے مصرعے اس خوبصورتی سے برتتا ہے کہ کئی صفحات کی وضاحت ایک مصرعے میں سمٹ آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے نثر اور شاعری ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر قاری کو معنی کی نئی دنیا میں لے جا رہی ہوں۔ 
اب جب اس کی کتاب ''خواب لیے پھرتا ہوں'' منظر عام پر آئی ہے تو میرے لیے بھی یہ ایک خوشگوار موقع ہے۔ بکھری ہوئی تحریریں ایک جگہ جمع ہو گئی ہیں۔ مختلف اوقات میں لکھے گئے کالمز اب ایک اکائی کی صورت اختیار کرچکے ہیں۔ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے نہ صرف دلاور چوہدری کے فکری ارتقا کو سمجھنا آسان ہو جاتا ہے بلکہ ہمارے عہد کے سیاسی، سماجی اور تہذیبی مباحث کو بھی ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ میرے لیے ”خواب لیے پھرتا ہوں“ محض کالموں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسے فکری سفر کی داستان ہے جس میں ایک حساس نوجوان بتدریج ایک بالغ نظر دانشور اور صاحبِ اسلوب کالم نگار میں تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کی اشاعت پر مجھے خوشی بھی ہے اور فخر بھی کیونکہ اس کی تحریروں میں صرف الفاظ نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی فکری گواہی محفوظ ہے۔

مزیدخبریں