پاکستان میں ایک زمانے میں رنگیلا کی فلم ”کبڑا عاشق“ بڑے طمطراق سے ریلیز ہوئی۔ اس کی تشہیر اس انداز سے کی گئی جیسے فلمی دنیا کی تقدیر بدلنے والی ہو، مگر چند ہی گھنٹوں میں بُری طرح فلاپ ہو کر سینماو¿ں سے اُتر گئی۔ ایف بی آر اور کسٹمز میں بھی برسوں سے یہی تماشا جاری ہے۔ پہلے One Customs، پھر WeBOC، پھر Faceless Assessment، اور اب بڑے دعوے کے ساتھ AI پر مبنی نئے نظام کے نفاذ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ ہر بار قوم کو یہی امید دلائی جاتی ہے کہ اب انقلاب آ جائے گا، مگر نتیجہ وہی نکلتا ہے؛ نظام مزید الجھ جاتا ہے، کاروبار مشکلات کا شکار ہوتا ہے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب یہ تجربات ناکام ہوتے ہیں تو ان کا احتساب بھی انہی لوگوں کے سپرد کر دیا جاتا ہے جنہوں نے یہ نظام متعارف کرائے تھے۔ یہ بالکل اس فقیر اور وڈیرے والے قصے جیسا ہے۔ وڈیرے نے کہا: میں اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوں، جتنے بال ہاتھ میں آئیں گے اتنی اشرفیاں دوں گا۔ فقیر نے جواب دیا: حضور! ہاتھ بھی آپ کا ہے اور داڑھی بھی آپ کی، ذرا مجھے ہاتھ پھیرنے دیجیے، اگر پھر بھی کوئی بال بچ جائے تو حساب کر لیجیے گا۔ آج ایف بی آر کا حال بھی کچھ مختلف نہیں۔ فیصلے بھی وہی کرتے ہیں، ان کی جانچ بھی وہی کرتے ہیں، اور آخر میں اپنی کارکردگی کے سرٹیفکیٹ بھی خود ہی تقسیم کر دیتے ہیں۔ ریاستوں کا زوال اچانک نہیں ہوتا۔ یہ ایک تدریجی عمل ہوتا ہے جس میں ادارے کمزور، فیصلے غیر مو¿ثر اور میرٹ مصلحتوں کی نذر ہوتا جاتا ہے۔ پاکستان میں محصولات کی وصولی، کسٹمز گورننس اور بیوروکریسی کا موجودہ بحران بھی اسی وسیع تر مسئلے کا حصہ ہے۔ حالیہ برسوں میں کسٹمز میں متعارف کرایا گیا فیس لیس اسیسمنٹ سسٹم اسی تناظر میں ایک اہم مثال ہے۔ اس نظام کو کرپشن کے خاتمے، شفافیت کے فروغ اور انسانی مداخلت میں کمی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔ دعویٰ یہ تھا کہ درآمد کنندہ اور افسر کا براہ راست رابطہ ختم ہو جائے گا تو رشوت ستانی بھی ختم ہو جائے گی۔ لیکن زمینی حقائق اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کرتے۔ آج بھی انڈرانوائسنگ، غلط ڈیکلریشن، پی سی ٹی ہیڈز کی تبدیلی، مقدار میں ردو بدل اور ہائی ویلیو اشیا کو کم ڈیوٹی والی اشیا ظاہر کرنے جیسے معاملات کاروباری حلقوں اور ماہرین کی گفتگو کا مستقل موضوع ہیں۔ اگر ایک نظام کے باوجود قومی خزانے کو اربوں روپے کے محصولات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ کمپیوٹر کا ہے یا اس نظام کو چلانے والوں کا؟ کرپشن صرف ملاقات سے پیدا نہیں ہوتی بلکہ اختیارات کے غلط استعمال اور احتساب کے فقدان سے جنم لیتی ہے۔ اگر محض افسر اور تاجر کو ایک دوسرے سے دور کر دینا ہی حل ہوتا تو دنیا کے تمام مسائل سافٹ ویئر سے حل ہو چکے ہوتے۔ کیا ڈپٹی کمشنر، سیکریٹری یا دیگر سرکاری افسران فیس لیس ماحول میں کام کرتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر صرف کسٹمز میں اس فلسفے کو معجزاتی حل کے طور پر پیش کرنا حقیقت پسندانہ نہیں۔ اس سے بھی بڑا سوال پاکستان کے بیوروکریٹک ڈھانچے کا ہے۔ سی ایس ایس کے امتحان کے ذریعے مختلف سروس گروپس تشکیل دئیے جاتے ہیں۔ کسٹمز، انکم ٹیکس، فارن سروس، پولیس اور دیگر شعبے اپنی اپنی نوعیت، مہارت اور تقاضے رکھتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر دیکھا جائے تو ایک مخصوص انتظامی گروپ کے افسران کو رفتہ رفتہ تقریباً ہر شعبے پر فوقیت حاصل ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً ایسے اداروں کی قیادت بھی ان افراد کے ہاتھ میں آ جاتی ہے جن کا متعلقہ شعبے میں عملی تجربہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں سپیشلائزیشن (Specialization) کو کامیابی کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر کو انجینئرنگ کا سربراہ نہیں بنایا جاتا اور ایک انجینئر کو عدلیہ کا نگران نہیں مقرر کیا جاتا۔ پھر مالیاتی اداروں، کسٹمز اور ٹیکس وصولی کے پیچیدہ نظام کو ایسے افراد کے سپرد کیوں کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا بڑا حصہ کسی دوسرے شعبے میں گزارا ہو؟ رائٹ پرسن فار رائٹ جاب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ جدید ریاستی انتظام کا بنیادی اصول ہے۔ اسی تناظر میں اپ کنٹری ڈرائی پورٹس کا معاملہ بھی قابلِ غور ہے۔ ان بندرگاہوں کا قیام اس سوچ کے تحت عمل میں آیا تھا کہ فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور دیگر صنعتی مراکز کے تاجروں، صنعتکاروں اور مزدوروں کو ان کی دہلیز پر سہولت میسر ہو۔ اس سے روزگار پیدا ہوا، کاروباری سرگرمیاں بڑھیں اور مقامی معیشت کو تقویت ملی۔ اگر تمام اختیارات اور تجارتی سرگرمیوں کو دوبارہ ایک محدود جغرافیے میں مرکوز کر دیا جائے تو اس کے اثرات صرف تجارت تک محدود نہیں رہتے بلکہ ہزاروں خاندانوں کے روزگار بھی متاثر ہوتے ہیں۔ مزید حیرت انگیز امر یہ ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی صارف منڈی اور صنعتی پیداوار کا بڑا حصہ اندرونِ ملک موجود ہونے کے باوجود ہر معاملے کو صرف ایک ہب کے گرد گھمانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس سوچ کا غیر جانبدارانہ معاشی تجزیہ ہونا چاہیے کہ آیا اس سے قومی معیشت کو فائدہ پہنچا ہے یا نقصان۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے بھی محض نئے ناموں اور نئے سسٹمز سے زیادہ مو¿ثر احتساب درکار ہے۔ اگر کسی کلیئرنس میں غیر قانونی رقوم لی گئی ہیں تو درآمد کنندہ، کلیئرنگ ایجنٹ اور متعلقہ افسران کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کیا جائے۔ جو اہلکار اختیارات کا ناجائز استعمال کرے اس کے سامنے صرف دو راستے ہونے چاہئیں: قانون کا سامنا یا ملازمت سے علیحدگی۔ چند نمایاں اور غیر جانبدار احتسابی مثالیں پورے نظام کو سیدھا کر سکتی ہیں۔ پاکستان کو آج فیس لیس یا فیس فل نظام کے مباحث سے بڑھ کر ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جب تک میرٹ، سپیشلائزیشن، احتساب اور پیشہ ورانہ مہارت کو فیصلہ سازی کی بنیاد نہیں بنایا جاتا، تب تک نئے نظام متعارف ہوتے رہیں گے، کمیٹیاں بنتی رہیں گی اور اصلاحات کے دعوے کیے جاتے رہیں گے، مگر نتائج وہی رہیں گے جو آج ہمارے سامنے ہیں۔ ریاستیں نعروں، سافٹ ویئرز اور وقتی تجربات سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، اہل قیادت اور غیر جانبدار احتساب سے مضبوط ہوتی ہیں۔
فیس لیس کسٹمز، ڈی ایم جی کی بالادستی اور ریاستی گورننس
09:10 AM, 30 Jun, 2026