ٹریگر پر دباﺅ

09:22 AM, 29 Jun, 2026


گھنٹوں جاری رہنے والے طویل مشاورتی اجلاس دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک کے سفر دوسری طرف زمین فضا اور پانی میں جاری جنگ کے دوران اسرائیل اور امریکہ کے ایران پر حملے پھر ایران کی طرف سے ان حملوں کے جواب سبھی کچھ ساتھ ساتھ چل رہا تھا۔ پاکستان، سعودی عرب، قطر اور ترکی کی کوششیں رنگ لائیں۔ ان کاوشوں کے نتیجے میں ایک ایم او یو پر دستخط ہو گئے لیکن ایم او یو سے ایک قدم آگے بڑھنے کی بجائے آج امریکہ اور اسرائیل ایک قدم پیچھے ہٹتے نظر آتے ہیں۔ جنگ کے پہلے روز سے لے کر امریکہ کے ایران پر تازہ ترین حملے تک امریکی رویے امریکی صدر کے ہر اہم موقع پر دھمکی آمیز بیانات سے یہ اخذ کرنا مشکل نہیں کہ امریکہ اور اسرائیل نے صرف اپنی اُکھڑتی سانسیں بحال کرنے کےلئے تمام کھیل رچایا۔ دونوں ملک اس حوالے سے مخلص نہیں، اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ امریکہ سب کچھ اسرائیل کی بلیک میلنگ کے سبب کر رہا ہے تو امریکہ کےلئے اسرائیلی شکنجے سے نکلنا کچھ مشکل نہیں۔ جارح ملک جب نئے حملے کرنا چاہیں گے وہ بہانہ ڈھونڈ لیں گے، انکے نزدیک یہ کام مشکل ہے نہ نیا۔
ایم او یو میں طے پا چکا تھا کہ آبنائے ہرمز ساٹھ روز کے لئے ہر قسم کے جہازوں کے لئے کھلی رہے گی، کوئی فیس کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جائے گا مزید برآں ایران یہاں سے گزرنے والے جہازوں کی رہنمائی کرنے کے علاوہ انہیں محفوظ راستہ فراہم کرے گا۔ محفوظ راستے کی تشریح یہ ہے کہ یہاں جنگ شروع ہونے سے ذرا پہلے خطرات کو بھانپتے ہوئے ایران نے اپنی حفاظت کے لئے آبی سرنگیں بچھائیں۔ ایران ہی یہ جانتا ہے کہ دھماکہ خیز بحری مواد سے محفوظ راستہ کون سا ہے بس وہ ایم او یو کی پاسداری کرتے ہوئے جہازوں کو محفوظ ٹریک سے سفر کرنے کی رہنمائی کر رہا تھا لیکن ”ایور لولی“ نامی ایک بحری جہاز نے بتائے گئے ٹریک سے ہٹ کر گزرنے کی کوشش کی اسے وارننگ جاری کی گئی وہ نہ رُکا اسے باردِگر پیغام بھیجا اس نے سنی ان سنی کر دی جس پر اسے ڈرون کی زبان میں سمجھایا گیا یوں اسے وہ بات سمجھ آ گئی جو سیدھے سادھے انداز میں سمجھائی جا رہی تھی مگر وہ سمجھنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ایران نے اس جہاز کو اس لئے روکا کہ اگر وہ ٹریک سے ہٹ کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور کسی آبی بارودی سرنگ کی زد میں آ کر تباہ ہو جاتا ہے تو امریکہ کو ایک بہانہ مل جائے گا وہ پھر جنگ چھیڑ دے گا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جب طے تھا کہ کسی بحری جہاز کو ساٹھ روز تک کسی بھی قسم کا کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑے گا تو پھر ”ایور لولی“ نامی جہاز نے ”غیر لولی“ حرکت کیوں کی؟ بادی¿ النظر میں یوں لگتا ہے جیسے یہ حرکت امریکہ کے اشارے پر ہوئی ہے۔ اگر لولی نامی جہاز اپنی مرضی کا روٹ اختیار کر کے یہاں سے گزر جاتا تو پھر یہ شارع عام بن جاتی۔ ہر جہاز اپنی مرضی کرتا یا کم از کم آبنائے ہرمز سے گزرنے والے اصل راستے اور انتظامات کو سبوتاژ کر کے امریکی ایجنڈے کی تکمیل میں اپنا کردار ادا کرتا۔ بحری جہاز کسی بھی طرح سے گزرتے امریکہ نے حملے کا بہانہ ڈھونڈنا تھا، ڈھونڈ لیا اور ایران پر بڑا حملہ کر دیا جس کا جواب اپنی سوچ اور اپنی مرضی کے مطابق اب ایران سے آئے گا۔
ایم او یو کے ٹکڑے تو فضا میں اسی روز بکھر گئے تھے جب اس پر دستخط ہونے کے بعد اسرائیل نے لبنان پر حملہ کر دیا تھا۔ امریکہ اس حوالے سے نیتن یاہو پر تنقید بھی کرتا رہا اور اسے سمجھاتا بھی رہا لیکن امریکہ کے تازہ ترین حملے سے اس کا گیم پلان سامنے آ گیا ہے۔ اب جوابی پرفارمنس دکھاتے ہوئے اسرائیل تو امریکہ کو حملوں سے باز رہنے کا نہیں کہے گا بلکہ حملوں میں تیزی لانے کی بات کی جائے گی یہاں ایم اویو کو انجام تک پہنچانے والوں، مذاکرات کاروں، سہولت کاروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرنے کے لئے ویسی ہی سرگرمی دکھائیں جو اس پرزہ کاغذ پر دستخط ہونے سے قبل نظر آتی تھی۔ زمینی حقائق یہ ہیں کہ جنگ بندی معاہدے کے حوالے سے تمام سرگرم ممالک امریکہ پر اتنا اثر و رسوخ نہیں رکھتے جس کا پاس کرتے ہوئے امریکہ کسی معاہدے کا پابند ہو جائے۔ ماضی میں امریکہ نے ایران پر جو بھی حملہ مو¿خر کیا وہ کسی ملک کے زیر اثر نہیں بلکہ اپنی ضرورت کے تحت کیا لیکن اس کے لئے کئی کاندھے استعمال کئے جو بہت زیادہ توانا نہ تھے بس یہی وجہ ہے امریکہ جب چاہے حملے روک دے جب چاہے ازسرنو شروع کر دے۔ مصالحت کار تو فقط یہی کہہ سکتے ہیں ”پائی جان پلیز ایسا نہ کریں“ اس کے بعد تو پائی جان کی مرضی ہے جو جی چاہے کریں۔
ایم او یو پر دستخط ہونے اور دوسرا مذاکراتی دور شروع ہونے کے درمیان عرصہ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے دو ٹوک دھمکی دی کہ اگر ایرانی قیادت نے امریکی خواہشات کے مطابق معاہدہ نہ کیا تو شاید ایرانی قیادت زندہ اپنے گھروں کو نہ لوٹ سکے۔ عالمی امن کا راگ الاپنے والوں میں سے کسی نے اس دھمکی کا نوٹس لیا؟ سب خاموش رہے گویا کسی نے کچھ سنا ہی نہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کے ہٹ دھرمی اور معاہدے سے انحراف کے بعد عین ممکن ہے ایران بھی کوئی سخت مو¿قف اختیار کرے اور تمام مصالحت کاروں سہولت کاروں سے کہہ دے آپ سب کی باتیں مان کر بھی بہت کچھ دیکھ لیا۔ اب ذرا اپنے مشورے اور اپنی امن پسندی و امن کوششوں کو کچھ دیر کے لئے روک دیں اور ہمیں فیصلہ کن جنگ لڑنے دیں تاکہ جس جس کے دل میں مزید حملوں کی حسرت رہ گئی ہے، وہ پوری کر لے۔ یہ بات کسی کو نہیں بھولنی چاہئے کہ امریکی صدر کی ہر دھمکی کے بعد ایرانی قیادت نے کہا کہ ہم امن ضرور چاہتے ہیں لیکن جنگ کے لئے بھی تیار ہیں۔ ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں جہاں کسی معاہدے کے لئے ناجائز دباو¿ ڈالا جائے گا۔ ہم مذاکرات ختم کر کے ٹریگر پر دباو¿ بڑھا دیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی نے ایران کو کوئی رعایت نہیں دی۔ ایرانی قیادت کے بقول ہمارے میزائل چلتے ہیں تو ہمیں رعایت لے کر دیتے ہیں۔ ایران کے پاس آج بھی لاکھوں کی تعداد میں مختلف قسم کے میزائل دشمن پر برسنے کے لئے تیار ہیں۔ ٹریگر پر دباو¿ کسی بھی وقت بڑھ سکتا ہے۔

مزیدخبریں