9 مئی بغاوت کی ناکامی اور بعد ازاں پاکستان کی معرکہ حق میں عظیم تاریخی فتح دراصل بیک وقت بھارتی ایجنڈے مودی اور نیتن یاہو کی شکست فاش تھی۔ پاکستان بھارت اور اسرائیل کیلئے ایک ایسا خطرہ ہے جس کے بھیانک خواب ان کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں۔ معرکہ حق میں ناقابلِ یقین فتح نے بھارت سمیت پاکستان کے تمام دشمنوں کو یہ باور کرا دیا ہے کہ سبز ہلالی پرچم عسکری میدان میں ناقابلِ تسخیر ہے۔ تسلیم شدہ ایٹمی قوت، میزائل ٹیکنالوجی اور جرا¿ت مند، شہادت کی جذبے سے سرشار فوج کی موجودگی میں پاکستان کو کسی بھی صورت ہرایا نہیں جا سکتا چنانچہ دشمن نے پہلے سے موجود اپنی پراکسیز کو ایکٹو کر کے اندرونی طور پر پاکستان کو زخمی کرنے کی منظم منصوبہ بندی کی ہے۔ جغرافیائی حالات اور پوزیشن کو دیکھا جائے تو ایک طرف ایران، افغانستان اور بھارت کے ساتھ طویل بارڈر دشمن کیلئے آسان ہدف ہے۔ بالخصوص افغانستان میں قابض بھارتی حمایت یافتہ رجیم پہلے ہی کرائے کے قاتل ٹی ٹی پی کے کندھے پر بندوق رکھ کر پاکستان کو گزشتہ ایک دہائی سے شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ اب بھارت کی طرف سے مستقل مالی امداد کے بعد اس کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ الحمدللہ پاکستان کی فوج نے اپنے ٹارگٹڈ آپریشن کے ذریعے دشمن کے دانت کھٹے کیے ہیں۔ مگر طالبان رجیم چونکہ بھارت کی کٹھ پتلی ہے کچھ عرصے بعد وہ بزدلانہ کارروائیوں کے ذریعے پاکستان کے امن کو تباہ کرنے کی ناکام کوششیں کرتی ہے۔ پاکستانی فوج کی طرف سے تسلی بخش جواب دیا جاتا یے۔ یوں مغربی بارڈر سے بھارت کو وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے جس کی اسے توقع تھی۔ اسی طرح بھارت نے ایران کے ساتھ چا بہار پورٹ کا معاہدہ کیا تو اس کا اصل مقصد گوادر کو ناکام بنانا اور بلوچستان میں اپنے شر پسندوں بی ایل اے کے ذریعے نقص امن پیدا کرنا تھا۔ ایک ایسی فوج تشکیل دینا مقصود تھا جس سے عام بلوچی نوجوان کو ورغلایا جا سکے اور نام نہاد محرومیوں کا منجن بیچ کر بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کی مذموم سازش کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ اس میں بھی بھارت کو شکست فاش ہوئی اور کلبھوشن یادیو جیسے جاسوس پاکستان کی قابلِ فخر سکیورٹی ایجنسیوں کے ہاتھ لگ گئے۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے ساتھ ہی مکمل بھارتی نیٹ ورک پکڑا گیا۔ یہ نیٹ ورک بی ایل اے کو مالی امداد سمیت، عسکری، حربی ساز و سامان اور افغانستان میں موجود اپنے کیمپوں میں فوجی تربیت بھی دے رہا تھا۔ اس ضمن میں را اور اجیت دوول نے ماہ رنگ جیسی غدار وطن کو چنا جس کا باپ بی ایل اے کا اہم اہلکار تھا۔ ماہ رنگ پڑھی لکھی اور آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ تھی پھر لڑکی ہونے کا بھی فائدہ تھا کیونکہ یہ
سودا بیچنا آسان تھا۔ چنانچہ ماہ رنگ کو باقاعدہ بلوچستان میں لانچ کر دیا گیا۔ ماہ رنگ کیلئے برطانیہ، یورپ اور دیگر ممالک کے سفارت خانے کھول دیئے گئے غیر معمولی طور پر ویزے لگوائے گئے، بین الاقوامی سیمیناروں کی آڑ میں اسے ایم آئی 6، را اور موساد کے ذریعے تربیت اور مالی معاونت کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل فیم بھی دیا گیا نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں سے میل ملاقات کرائی گئی اور بی بی سی جیسے پاکستان دشمن اور تعصب پر مبنی ادارے کے پلیٹ فارم پر ایک سپر ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا۔ قصہ مختصر ماہ رنگ بھی جلد بازی کا شکار ہوئی اور اپنے بی ایل اے کے ساتھیوں کی ناپاک لاشیں اٹھانے، بلوچستان کی علیحدگی اور دہشت گردوں کی حمایت میں بھارتی مدد کی امید پر بے نقاب ہو گئی اور آج یہ رنگ باز جیل میں اپنے کیے کی سزا بھگت رہی ہے۔ بھارت کی دیرینہ خواہش بلوچستان کی علیحدگی اس کا خواب ہی رہی اور الحمدللہ آج بی ایل اے کے دہشت گرد اپنے انجام کو پہنچ رہے ہیں۔ بلوچستان کے سادہ لوح عوام کو بھی ان غداروں کا بخوبی علم ہو گیا ہے۔ اور اب بلوچستان میں محرومیوں کا سودا بیچنا آسان نہیں رہا۔ خیبر پختونخوا میں طالبان اور بلوچستان میں بی ایل اے کی ناکامیوں کے بعد موساد اور را نے آزاد جموں و کشمیر میں اپنے چند زر خریدوں کے ذریعے اب پاکستان کیلئے ایک نیا گڑھا کھودنا شروع کیا ہے۔ دراصل عمران خان کے دور میں کشمیر کی جو سودا بازی کی گئی تھی یہ اسی کا تسلسل ہے۔ کیونکہ عمران خان گولڈ سمتھ کا داماد تھا اور عمران کے ذریعے کشمیر کا سودا آسان اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو رول بیک کرنا یقینی تھا۔ خان صاحب متعدد بار اعلانیہ طور پر کہہ چکے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تو ایٹم بم کی کوئی ضرورت نہیں۔ چنانچہ اسی منصوبے کی تکمیل اور کشمیر میں نقص امن پیدا کرنے کے لیے جوائنٹ ایکشن کمیٹی جو حقیقی معنوں میں ”مودی ایکشن کمیٹی“ ہے اسے برطانیہ میں موجود ایم آئی 6، موساد اور را کے مکمل تعاون کے ساتھ کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنے کا منصوبہ سونپا گیا ہے۔ حکومت پاکستان نے آئین و قانون کے عین مطابق ان شر پسندوں کے تمام مطالبات کو تسلیم کیا ہر طرح کے تعاون کو یقینی بنایا۔ مذاکرات کیلئے اہم ترین قومی رہنماو¿ں کو مظفرآباد بھیجا مگر بھارت کی ایما پر کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی 12 نشستوں کو ختم کرنے کے غیر آئینی مطالبہ کو سامنے رکھتے ہوئے مذاکرات ختم کیے۔ یہ وہ مطالبہ ہے جو بھارت کی اصل سازش ہے۔ اگر یہ 12 نشستیں ختم کر دی جائیں تو مسئلہ کشمیر اپنی ہیئت ہی کھو دیتا ہے۔ یوں پاکستان 78 سال سے جو کشمیر کا مقدمہ لڑ رہا ہے وہ بھارت بغیر جنگ لڑے جیت جائے گا۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ پاکستان نے صرف اور صرف کشمیر کیلئے بھارت سے 6 جنگیں لڑی ہیں۔ پاکستان اپنے اصولی مو¿قف سے کیسے اور کیونکر ہٹے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ پیپلز پارٹی جیسی روشن خیال، پاکستان کے اداروں کی عزت کرنے والی جمہوریت کی دعویدار پارٹی کی قیادت صرف اور صرف کشمیر الیکشن کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے تھوکے کو چاٹنے کیلئے کوشاں ہے۔ کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ موجودہ حالات کی ذمہ داری بھی اسی کے سر ہے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر نے خود جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دیا۔ ریاستی مشینری کو ان شرپسندوں کےخلاف استعمال کرنے کے احکامات جاری کیے مگر اب الیکشن میں ہمدردی کا ووٹ لینے اور اقتدار کیلئے اپنے اصولی مو¿قف سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری کی فلور آف دی ہاو¿س پر کی گئی تقریر سے عقل مند نشانیاں حاصل کر سکتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت سے سوال بنتا ہے کہ حضور بات چیت کی گئی تھی آپ کی پارٹی کے اہم ترین لوگ مذاکرات میں شامل تھے۔ بھارتی ایما پر 12 نشستوں کا غیر آئینی مطالبہ تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ جو اعلانیہ پاکستان دشمنی کر رہے ہوں، جنہوں نے سکیورٹی فورسز پر براہِ راست گولیاں برسائی ہوں، جن کی آڈیو لیک نے سارا معاملہ کھول کر رکھ دیا ہو، جن کے سر پر بے گناہوں کا خون ہو ان سے کیا بات کریں۔ جنہوں نے فوجی جوانوں سمیت پولیس کے جوانوں کو شہید کیا ہو۔ جو سی ایم ایچ سمیت انتہائی حساس علاقوں پر حملہ آور ہوئے ہوں بلاول صاحب ان سے مذاکرات کریں؟ جنہوں نے معصوم خواتین کو یرغمال بنا رکھا ہو جو کشمیر کا پاکستان کے ساتھ زمینی راستہ کاٹنا چاہتے ہوں ان سے بات کیوں کی جائے۔ اگر آپ ان دہشت گردوں اور بھارتی ایجنٹوں سے بات کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ اور عمران خان میں کیا فرق ہے جس نے ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل طالبان کو پھر سے پاکستان میں بسایا تھا جس کا خمیازہ آج بھی پاکستان کے عوام بھگت رہے ہیں۔ اگر اپنے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر ان جیسے دہشت گردوں کو راستہ دیتے رہیں گے تو یاد رکھیں پھر آپ کی سیاست کو راستہ نہیں ملے گا۔ ریاست نے ہر صورت اپنی رٹ قائم رکھنا ہے۔ لہٰذا اب بھی وقت ہے آگے بڑھیں اداروں کا ساتھ دیں پاکستان کے مو¿قف کی کھلم کھلا حمایت کریں۔ اقتدار آنے جانے والی چیز ہے۔ سیاست کیلیے ریاست کو قربان نہ کریں۔ یہ روایت نہ ڈالیں کہ کل کو کوئی بھی چند بلوائیوں کے سامنے سر تسلیمِ خم کر لے۔ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے اپنے سیاسی مفادات کو پس پشت ڈال کر ریاست کے ساتھ واضح اور دو ٹوک انداز میں کھڑے ہوں۔
ریاست ، سیاست اور بھارتی ایجنڈا ۔۔۔
09:20 AM, 29 Jun, 2026