چین کی جانب سے پاکستان کو مالی سہارا، 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض مؤخر

08:12 PM, 29 Jun, 2025

اسلام آباد: پاکستان کی معیشت کو سہارا دینے کے لیے چین نے ایک بار پھر اہم کردار ادا کرتے ہوئے 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا قرض مؤخر (رول اوور) کر دیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔


اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس موجود چینی قرض کی رقم — جو کہ 2 ارب 10 کروڑ ڈالر ہے — کو بدستور برقرار رکھا گیا ہے۔
اسی طرح، 1 ارب 30 کروڑ ڈالر کے کمرشل قرضے جن کی ادائیگی پاکستان نے دو ماہ قبل کی تھی، دوبارہ فراہم کیے گئے ہیں۔


مشرق وسطیٰ کے بینکوں سے بھی پاکستان کو 1 ارب ڈالر موصول ہوئے ہیں۔
ملک نے 50 کروڑ ڈالر کی کثیرالطرفہ مالی معاونت بھی حاصل کر لی ہے۔


یہ تمام مالی بندوبست آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کیے گئے ہیں، جن کے مطابق پاکستان کو 30 جون 2025 تک کم از کم 14 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر برقرار رکھنے تھے۔


معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قرضوں کا رول اوور وقتی ریلیف ضرور دیتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ معاشی اصلاحات، برآمدات میں اضافہ اور محصولات کا دائرہ بڑھانا مستقل حل کے لیے ضروری ہے

مزیدخبریں