امریکہ نے اسرائیل کے دفاع میں تھاڈ میزائلوں کا 20 فیصد ذخیرہ خرچ کر دیا

12:40 PM, 29 Jun, 2025

واشنگٹن / تل ابیب : حالیہ ایران-اسرائیل کشیدگی کے دوران امریکا نے اسرائیل کو ایرانی میزائل حملوں سے بچانے کے لیے اپنے قیمتی اور محدود ذخیرے والے تھاڈ (THAAD) انٹرسیپٹر میزائلوں کا تقریباً 20 فیصد حصہ استعمال کر لیا ہے، جس کی بحالی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

عسکری جریدے ملٹری واچ میگزین کے مطابق، ایران کے ساتھ تنازع کے دوران امریکا نے اندازاً 60 سے 80 تھاد میزائل داغے۔ ہر میزائل کی قیمت 12 سے 15 ملین امریکی ڈالر کے درمیان ہے، جس کے باعث یہ کارروائی امریکا کو مجموعی طور پر 810 ملین سے 1.215 ارب ڈالر تک پڑی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ دفاعی اخراجات ایران کے جانب سے داغے گئے میزائل حملوں کی قیمت سے کہیں زیادہ تھے۔

واضح رہے کہ ایران نے اپنی جوہری اور فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں اسرائیل کے مختلف شہروں پر میزائل حملے کیے تھے، جن میں جدید اور تیز رفتار ہائپر سانک میزائل جیسے غدیر، عماد، خیبر شکن اور فتح-1 شامل تھے۔ یہ میزائل روکنا عام دفاعی نظاموں کے لیے خاصا مشکل ہوتا ہے، اسی لیے امریکا نے اپنے جدید ترین تھاد سسٹم کا استعمال کیا۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکا نے 2024 میں اسرائیل میں موجود تھاڈ نظام کو دوبارہ ذخیرہ کیا تھا، لیکن تازہ ترین استعمال سے اس میں نمایاں کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکا سالانہ صرف 50 سے 60 تھاد انٹرسیپٹرز تیار کرتا ہے، لہٰذا 12 دنوں میں جتنا ذخیرہ استعمال کیا گیا، اسے دوبارہ مکمل کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

مزیدخبریں