بھٹکے ہوئے آہوکوپھرسوئے حرم لے چل…

09:19 AM, 29 Jun, 2025

پاک بھارت جنگ ہوئی تو ساری ’’شائننگ بھارت ‘‘ چاند پرپہنچنے اور بیس ملکوں کی کانفرنس کراکر طاقت کے مظاہرے ’’بھک سے سارے ’’ بھلیکھے ، اڑ گئے بلکہ میں تو سمجھتی ہوں کہ اگر پاک بھارت جنگ نہ ہوتی تو یہاں کے احساس کمتری کے مارے اینکروں، کالم نگاروں (مخصوص جنہیں سب جانتے ہیں) نے تو پاکستان کو دنیا کے بالمقابل ’’ٹکے ٹوکری‘‘ کررکھا تھا ہمہ وقت یہی کہتے پاکستان میں کچھ نہیں صرف کشکول تھا رکھا ایک بلب تو بنا نہیں سکتے تمام تر ناکامیاں ثابت کرکے تمام تر ذمہ داری فوجی اداروں اور مارشل لاؤں پر لگا دیتے میں بھی مارشل لاء کی حامی نہیں لیکن فوج کی ضرورت کو نظر انداز نہیں کرسکتی …جوعزت احساس نصرت اور پہلی بار فتح کا نشہ محسوس کیا ہے وہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح کی بدولت ہے بلکہ میں تو یہاں تک سمجھتی ہوں کہ ایران نے بھی پاکستان کی فتح  اس قدر رقبے اور آبادی ووسائل میں بھرے بھارت سے دیکھ کرہی اسرائیل سے ٹکر لینے کا سوچا کیوں کہ اسرائیل پر حملے کا مطلب امریکہ پر حملہ ہی کے  مترادف سمجھا جاتا ہے، جب دوہا کا امریکی اڈہ ایران کے جانب سے اڑا دیا گیا تب امریکہ کو ہوش آیا کہ وہ تو پولے مڈل ایسٹ سے فارغ ہونے والا ہے بلی تھیلے سے باہر اورشیر تھیلے کے اندر چلا گیا۔ 
جیسے ماں باپ طاقتور ہمسائے سے بچے کو بچانے کیلئے خود ہی اس کی غلطی پر اسے جھڑک کر دروازے کے اندر کرلیتے ہیں اسی طرح ٹرمپ نے نیتن یاہو کو بھی ڈپٹ کر ایران کے عذاب سے بچایا یہ طے ہے کہ مسلمانوں کو جب ہوش آتی ہے تو پھر کسی کو نہیں چھوڑتے اور یہ بھی طے ہے کہ انہیں  ہوش بہت زیادہ ’’کٹ‘‘ کھا کر ہی آتی ہے …صدیوں کاپراپیگنڈہ ختم ہوا اسلامی ملکوں کے بادشاہوں کو تخت سے گرانا پنجرے میں ڈال کر عدالت میں لانا صدام کو جان بوجھ کر گٹر،سے برآمد کرنا اس کا اللہ اکبر کہہ کر پھندہ گلے میں ڈالنا بھٹو کا پھانسی چڑھ جانا اسلامک سمٹ کانفرنس کے نتائج سے لے کر آج ذرا سا اسلامی ملکوں کو آزمایا گیا پاکستان اور ایران کی یکے بعددیگر جیت نے یہ نہیں کہ ٹرمپ کو مسلم ممالک کے حق میں کردیا ہے۔
اگر ذرا سا پیچھے جھانک کر تاریخ کے ادوار میں دیکھیں تو انگریز اسی  طرح بھیگی بلی بن کر برصغیر میں داخل ہو اور مسلمانوں کی 9صدیوں پر محیط حکومت کا خاتمہ کیا دوسرے طرف اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھنے والوں کے بھی دل توڑ گئے۔ عراق پر سترہ یورپ وامریکہ کے ملک جاکر سرحد پر کھڑے ہوگئے یہ نہیں سوچا کہ اندر چھوٹے چھوٹے بچے عورتیں کھلونے چولہے ارمان سترہ ملکوں کی افواج کا مقابلہ کیسے کریں گے سب جل کر راکھ ہوگئے ٹرکوں کے ٹرک ننھے گڑیوں جیسے بچوں کی لاشوں سے بھرگئے تو سترہ ملکوں کی اتحادی فوجوں کے مقابل عراق اکیلا ہی نہیں لڑا بچے دودھ کے فیڈر ہاتھوں میں پکڑے گلیوں میں ’’رل‘‘ رہے تھے پھر جو غزہ پر ستم کا سلسلہ جاری ہوا آج تک قاتل یاہو ہزاروں لاکھوں بچے کھا چکا ہے سوچیں وہاں شادیاں بھی ہوتی ہیں اور بچوں کی پیدائش پر کیا خوشی کے ساتھ خوف سے ماؤں کی کوکھ نہیں لرزتی ہوگی ؟؟
یہ وہ ظلم کی انتہا ہے یہ مغربی اتحاد صلیبی جنگوں کا سلسلہ نہیں تو اور کیا ہے ۔ مسلمانوں نے دوجنگوں میں اسرائیل اور اس کے اتحادی پاکستان پر اسرائیل ڈرون برسانے والے بھارت کو ایران اور پاکستان نے وہ مزہ چکھایا ہے کہ ٹرمپ مصلحتاً طاقتور کے ساتھ ہوگیا خطے میں ’’چین‘‘ کی بطور دوست ہی نہیں طاقت کے توازن میں بھی بڑی اہمیت ہے …خدا کی ذات ہی کو تکبر سمجھتا  ہے وہ شان کبریائی کی کسی اور کو اجازت نہیں دیتا بڑے بڑے طاقت کے بت پاش پاش ہو جاتے ہیں بڑے بڑے نمرود راکھ اور سکندر مچھر کے ہاتھوں ہلاک ہم روز زمینی خداؤں کو دیکھتے ہیں اور ان کے چہروں کا تکبرانہیں کس انجام سے دوچار کرادیتا ہے وہ بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔ 
انسان پر تہذیب تعلیم خاندان معاشرت بھائی چارے کی کتنی ہی کاٹھیاں ڈالی گئی ہیں مگر وہ اس ایک ’’پل‘‘ میں سکینڈ میں پہنچتا ہے جس میں وہ خود دوسرے انسان کا قاتل بن جاتا ہے اس لمحے میں اور ایک جانور کے چھوٹے جانور کو شکار کرنے کے عمل میں کیا فرق ہے ؟
اسی طرح جسمانی طورپر مرد عورت سے طاقتور ہے جب بھی کبھی وہ عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کے اندر کا حیوان تمام تہذیب کے لبادے پھاڑ کر باہر نکل آتا ہے۔ 
اسی لیے میں نے بارہاایک جملہ لکھا کہ جنگ کو ختم کرنے کیلئے کبھی کبھی جنگ ہی کرنا پڑتی ہے فیصلہ کن جنگ جس کے بعد ہمیشہ کیلئے لڑائی ختم ہو جائے۔ 
والد یا والدہ بچے کو پیٹتے تو بظاہر نصیحت کیلئے ہیں مگر محرک ’’طاقت‘‘ ہی ہے اگر بچہ زیادہ طاقتور ہو تو اس کے سامنے کمزور بن جاتے ہیں۔ 
گھروں سے لے کر ملکوں ایوانوں اور ایوانوں سے لے کر بین الاقوامی ایوانوں تک طاقت ہی کی زبان بولی لکھی پڑھی اور سمجھی جاتی ہے۔ آپ نے بھارت کو پھینٹی لگائی تو امریکہ نے عزت دی دوسری وجہ بھارت کا بے اندازہ رجعت پسند ہونا ہے میں نے کبھی کسی کے مذہب کی بات نہیں کی لیکن یہودیت ، عیسائیت ، اوراسلام گوشت بھی کھاتے ہیں زندگی سے خطاب کرتے ہیں اسلام کی تکمیل تمام تر مسائل کے حل کے ساتھ ہوچکی تو انبیاء کا سلسلہ بھی بند ہوگیا ہندومت، جین مت، بدھ مت کسی میں جھوٹ بولنا تھوڑا تولنا نہیں سکھایا گیا مگر رجعت کی انتہا ہے کہ منہ پر ماسک کہ جراثیم نہ مرجائیں، گائے جسے پوری دنیا اور ہم کھاتے ہیں ہندومت میں مذہبی شعار بناہوا ہے ہندوبھاگتی ہوئی دنیا کے ہم عصر کیسے ہوسکتے ہیں۔ 
جبکہ وہ آج تک ’’گاؤ موتر‘‘ سے باہر نہیں نکلتے ان کے ہاں خطرہ ہی ہوتا ہے دوائیوں میں مشروبات میںیہی نہ ہو تواہم سے بھری ہوئی قوم جس کی ہمراہی کے اثرات ہم لوگوں تک بھی پہنچے ہربری رسم ہماری شادیوں میں داخل ہوگئی ابھی خدا کا شکر’’ ستی‘‘ ہونے کی رسم کو انگریزوں نے بائے لاز  ختم کیا ورنہ آدھی ہندو’’ ناریاں‘‘ جل جاتیں مردے بھی جلانا زندھ بہویں بھی جلانا اور ہمسایوں کو بھوکا ننگا کہنے والے آج اپنے ’’رافیل‘‘ کو رورہے ہیں نہیں چلانے آتے تو خریدے کیوں ؟؟ 

مزیدخبریں