کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے پاکستان کے موجودہ حکمران سالہا سال سے اس کوشش میں تھے کہ تحریک انصاف کو ختم کر دیا جائے عمران خان کو مائنس کر دیا جائے جب کہ میاں محمد نواز شریف جو کہ وزیراعظم پاکستان 2024 میں بننے کے لیے آئے تھے وہ پاکستانی لوگوں کی طرف سے ووٹ نہ ملنے پر مائنس ہو لیکن عمران خان دو سال سے زیادہ ہو گئے جیل میں کشت کاٹ رہے ہیں اور مائنس ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے تو پھر عدلیہ نے آج خواتین کی مخصوص نشستیں جو کہ اصولی طور پر پاکستان تحریک انصاف کا حق بنتا تھا وہ حکمرانوں کے حوالے کر دیں اور انہوں نے اپنی حکومت میں 75 قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافہ کر لیا اور اس طرح پاکستان مسلم لیگ نون قومی اسمبلی میں اور پنجاب میں بھی بغیر کسی اتحادیوں کے اپنی حکومت قائم رکھنے میں کامیاب ہو گی۔ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے پنجاب اسمبلی کے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ہم جب کہتے تھے کہ عمران خان مائنس ہو چکے ہیں تو بڑا شور اٹھتا تھا کہ ایسا نہیں ہے لیکن آج عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہہ دیا ہے کہ عمران خان مائنس ہو چکے ہیں اس موقع پر میں اس ایوان میں بیٹھے ہوئے اپوزیشن ارکان سے یہ کہتی ہوں کہ آخر آپ نے ہماری طرف آنا ہے عمران خان اور تحریک انصاف مائنس ہو چکے ہیں اس موقع پر سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے کہا کہ عمران خان اور تحریک انصاف تو اس وقت مائنس ہو گئے تھے جب قاضی فائز عیسیٰ نے ان سے بلا چھین لیا تھا اب اگر عدلیہ نے مخصوص نشستیں تحریک انصاف کو نہیں دی تو اس سے پہلے ہی جب یہ مائنس ہو چکے ہیں تو سیٹیں نہیں ملنی چاہیے تھی اب جو سیٹیں میاں شہباز شریف کی پارٹی کو ملی ہیں اس سے وہ طاقتور ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر تحریک انصاف کے رہنماؤں سے جو بات چیت ہوئی اس میں انہوں نے مشترکہ طور پر ایک جملہ کہا ایک ہوتا ہے ظلم اور ہماری مخصوص نشستیں لینا ظلم عظیم ہے اور ظلم کا بدلہ اللہ تعالی کی بے آواز لاٹھی ضرور لیتی ہے اس طرح جن خواتین کی مخصوص نشستیں پہلے حکومتی پارٹی کو ملی تھی اب وہ دوبارہ خواتین مخصوص نشستوں پر قومی اور صوبائی اسمبلی میں واپس آ گئی۔ اسی طرح متعدد بار اور پارٹیوں کو مائنس کیا گیا لیکن وہ کسی نہ کسی شکل میں آج بھی زندہ ہیں پیپلز پارٹی کو بھی مائنس کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آج وہ ایوان میں اپنی حیثیت رکھتے ہیں تحریک انصاف کو بھی میری دانست میں کبھی بھی مائنس نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس وقت بھی قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ سیٹیں تحریک انصاف کی ہیں اور پنجاب اسمبلی میں بھی یہی صورتحال ہے جس بھی شخص کو جتنا دبایا جائے وہ اتنا ہی ابھرتا ہے اور جس سیاسی پارٹی کو جتنا بھی مائنس کرنے کی کوشش کی جائے وہ مائنس کی بجائے مائنس کرنے والوں کے لیے طوفان کا منظر پیش کرتی ہے میں نے اپنے 50 سالہ صحافتی کیریئر میں اس پاکستان میں بڑے بڑے سیاسی طوفان دیکھے چار فوجی حکمران دیکھے ہیں۔ یہ آج ڈھول بجانے والے حکمران کل عوام سے منہ چھپاتے پھریں اور ان کی حکومت کو چلتا کردیا جائے پھر آخر کار تمام سیاسی جماعتیں جعلی جمہوریت کے لیے جدوجہد کریں گی اور ان کو عوام میں پذیرائی نہیں ملے گی کیونکہ 75 سال میں جو سیاست دانوں نے عوام کا حال کیا ہے وہ عوام ہی جانتے ہیں اور جو بھی حکمران آیا اس نے اپنی جیب بھری اور چلتا بنا۔ موجودہ حکمرانوں کو بہت زیادہ اللہ تعالی کی طرف سے بھی ڈھیل ہے جب کہ حکمرانوں نے موجودہ حکومت میں کبھی آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ اب بادل چھٹ جائیں اور ہم اپنی جیبیں گرم کرنے کی بجائے عوام کا تحفظ کریں۔ ابھی چند دن پہلے محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ نے 30 ارب روپیہ قربانی کے تین دنوں میں صفائی ستھرائی پر لگا دیئے جب کہ پورے پنجاب میں 10 ارب کی بھی قربانی نہیں ہوئی خدارا اپنی اداؤں پہ غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی۔
تحریک انصاف مائنس ہو جائے گی؟
09:18 AM, 29 Jun, 2025