ایک بات تو ماننی پڑے گی، ڈونلڈ ٹرمپ جیسے لوگ دنیا میں کم ہوتے ہیں۔ کہنے کو تووہ امریکہ جیسی واحد سپر پاور کے صدر ہیں، لیکن ان کا رویہ اور گفتگو ایسے ہیں جیسے کوئی سکول یا کالج کے یار دوست آپس میں رکھتے ہیں، نہ سچ جھوٹ کی کوئی پرواہ ، نا ہی کسی کے برا منا جانے کا ڈر اور نا ہی کوئی سماجی خوف۔ وہ آج غصے میں ہوتے ہیں تو کل ان کے منہ سے محبت کے پھول جھڑ رہے ہوتے ہیں، ایک دن کسی کو دھمکیاں دیتے ہیں تو اگلے دن اس کے ساتھ یاری کے دعویدار بن جاتے ہیں۔ان کی شخصیت کے یہ رنگ ایرا ن سرائیل جنگ کے دوران نہیں بلکہ اس سے بہت پہلے سے ہی واضح ہو کر سامنے آتے رہے ہیں۔
ابھی چند روز پہلے ہی اسرائیل کو ایک یقینی شکست سے بچانے کے لیے امریکہ براہ راست اس جنگ میں کود پڑا تھا۔ اپنے بی ٹو طیاروں کی مدد سے ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر خوفناک بلاک بسٹر بم داغے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ایرانی کی تمام تر ایٹمی صلاحیتوں کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ہے ۔لیکن ایران کا اس حملے کے بارے میں کہنا تھا کہ اس بمباری کے نتیجے میں ان کا کوئی خاص نقصان نہیں ہوا،اور اس کے ایٹمی اثاثے بھی بہت حد تک محفوظ ہیں۔
اس امریکی حملے کا جواب دینے کے لیے ایران نے بھی کچھ زیادہ انتظار نہیں کیا اور چند ہی گھنٹوں میں قطر میں موجود امریکی فوجی اڈے پر میزائل داغ دیئے ( عجیب حس اتفاق ہے کہ اس حملہ کے نتیجے میں بھی کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا)۔ امریکی حملے اور اس کے رد عمل میں پیدا ہونے والی صورتحال نے ماحول کو انتہائی گمبھیر بنا دیا خلیجی ممالک اور سعودی عرب نے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ قطر کی جانب سے ایران کو انتہائی ناراضی کا پیغام بھیجا گیا، امریکہ نے ایک مرتبہ پھر سے حملے کرنے کا اعلان کر دیا۔ غرض ایک دفعہ تو پوری دنیا ٹینشن میں آ گئی۔
ابھی اس ٹینشن کو پیدا ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ٹرمپ بہادر کا جنگ بندی کا اعلان سامنے آ گیا۔اس کا کہنا تھا کہ اس نے یہ فیصلہ ایران اور اسرائیل کی درخواست پر کرایا ہے۔ ا گر واقعی ایساتھا تو شاباش ہے ایران پر بھی جس نے ایک بھرپور فضائی حملہ برداشت کرنے کے بعد امریکہ سے ثالثی کی درخواست کی۔
معاملے کی دلچسپی ابھی ختم نہیں ہوتی، جنگ بندی کے اعلان کے فوراً بعد ہی ٹرمپ صاحب جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر نہ صرف اسرائیل پر خاصی برہمی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ایران کو ایک عظیم قوم بھی قرار دے ڈالتے ہیں۔ وہ اس احساس کا بھی اظہار کرتے ہیں کہ جنگ کے بعدا یران کو پیسوں کی ضرورت ہوگی اس لیے نہ صرف اسے چین کو تیل برآمد کرنے کی اجازت دے ڈالتے ہیں بلکہ ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں کے خاتمہ کی بھی امید دلا دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بات کا بھی امکان ظاہر کر دیتے ہیں کہ یورپی ممالک میں ایران کے منجمد شدہ اربوں ڈالر بھی ریلیز کر دیئے جائیں گے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ مسٹر ٹرمپ نے یہاں تک اعلان کر ڈالتے ہیں کہ آئندہ چند روز میں ایران سے مذاکرات کر کے باقاعدہ معاہدہ سائن کریں گے۔
اس ساری صورتحال میںسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسی سوچ، گفتگو ، سیاست اور غیر مستقل مزاجی دنیا کے لیے خطرہ نہیں؟ امریکہ جیسی سپر پاور کا صدر جب کوئی بیان دیتا ہے تو اس کا اثر صرف امریکہ یا ایران تک محدود نہیںرہتا، بلکہ دنیا بھر میں لوگوں کے ذہنوں پر پڑتا ہے۔ سرمایہ کار پریشان ہو جاتے ہیں، تیل کی قیمتیں اوپر نیچے ہونے لگتی ہیں اور بین الاقوامی منڈیوں میں ہلچل مچ جاتی ہے۔ مگر ٹرمپ صاحب کو اس سب کی کوئی پرواہ نہیں۔انہیں تو بس ٹھیک اس طرح اپنا ڈرامہ کرنا ہوتا ہے، جیسے کسی فلم میں ہیرو ہر منظر میں کچھ نا کچھ نیا کرتارہتا ہے۔
یہ ساری صورتحال ہمیں ایک بات تو سکھاتی ہے کہ جب لیڈر جذباتی ہو، غیر سنجیدہ ہو، اور مستقل مزاج نہ ہو، تو وہ نہ صرف اپنے ملک کو نقصان دیتا ہے بلکہ پوری دنیا کو ایک تماشہ بنا دیتا ہے۔ ٹرمپ کی ایران پالیسی اسی تماشے کا ایک حصہ تھی، جس میں سکرپٹ ہر روز بدلا جاتا رہا۔
ٹرمپ کے کچھ بیانات تو اتنے عجیب تھے کہ سن کر ہنسی آتی تھی۔ مثال کے طور پر، انہوں نے کہا کہ، ’ایرانی ایک عظیم قوم ہیںاور انہوں نے انتہائی بہادری سے جنگ لڑی ہے ۔ ارے بھائی اس قسم کی بیان بازی سے پہلے اپنے اس بغل بچے اسرائیل کا تو سوچ لو کہ جس کی وجہ سے آپ نے ایران سے براہ راست جنگ مول لے لی۔ شنید ہے کہ وہاں انفراسٹرکچر کو بدترین نقصان پہنچا ہے، کئی ہلاکتیں ہوئی ہیں اور بے شمار زخمی ہسپتالوں میں پڑے ہیں اور آپ چلے ہیں ایران کی عظمت کا اقرار کرنے ۔
عالمی سیاست کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ یہاں ہر لفظ تول کر بولا جاتا ہے، ہر قدم ناپ کر اٹھایا جاتا ہے۔ مگر ٹرمپ کا انداز ہے کہ،جو دل میں آیا کہہ دیا اور جو جی چاہا کر لیا۔ بنیادی طور پر وہ ایک کاروباری آدمی ہیں۔ جس طرح وہ اپنی کمپنیاں چلاتے ہیں شاید اسی انداز میں دنیا چلا نے کی کوشش کررہے تھے۔ مگر دنیا کوئی کمپنی نہیں، یہ کروڑوں انسانوں کا مسکن ہے۔ یہاں ایک غلط فیصلہ یا ایک احمقانہ طرز عمل لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
بلا شبہ اس تمام صورتحال میں ایران نے اب تک بہت دانشمندی دکھائی ہے۔ جذبات میں بہہ کر جنگ کو بڑھانے کے بجائے تحمل سے کام لیاہے۔ شاید انہیں اس بات کا اندازہ بھی تھا کہ ٹرمپ آج کچھ کہہ رہے ہیں، کل کچھ اور کہیں گے۔ اور یہی ہوا بھی۔ حملے کے بعد محبت، دھمکی کے بعد دوستی، پابندیوں کے بعد معاہدے کی باتیں ہونے لگیں۔ گویا ساری دنیا بس ایک ’ریئلٹی شو‘ تھی، جس کے میزبان ڈونلڈ ٹرمپ تھے۔
آج جب یہ کالم تحریر کرنے بیٹھا تو سامنے میز پر پڑے ہوئے اخبار کے فرنٹ پیج پر جمی ایک سرخی پر نظر پڑ گئی جس کے مطابق ٹرمپ صاحب نے فرمایا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر وہ صورتحال سے مطمئن نہ ہوئے تو امریکہ ایران پر دوبارہ بمباری کر سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ جب بھی اقتدار سے رخصت ہوںگے شائد تب ہی دنیا کو کچھ سکون ملے مگر ان کے دور کی کہانیاں لوگوں کے ذہنوں میں تازہ رہیں گی۔ ایران سے متعلق ان کی بدلتی باتیں، ادھورے معاہدے، بے نتیجہ جملے اور بے تکی تعریفیں سب اس بات کی گواہی دیں گے کہ دنیا کو سنبھالنے کے لیے صرف طاقت کی نہیں بلکہ سنجیدگی، شعور، برداشت، اور مستقل مزاجی کی ضرورت ہوتی ہے۔
دنیا کو طاقت کی نہیں شعور کی ضرورت ہے
09:17 AM, 29 Jun, 2025