’’مائنس‘‘ سے’’ پلس‘‘ ہونے کا نسخہ

09:17 AM, 29 Jun, 2025

صرف وقت ہی تیزی سے نہیں گررہا بلکہ اس گزرتے وقت میں دنیا کو بدلنے والے بہت سے واقعات بھی اسی تیزی سے رونما ہورہے ہیں۔ ہمارے خطے میں صرف ڈیڑھ ماہ کے عرصے میں دو جنگیں لگ کر سیز فائر تک پہنچ چکی ہیںاور ہمارا ہمسایہ پاکستان کے ہاتھوں شرمندگی کو اپنی مانگ میں سندور کی طرح سجائے ایک بار پھر ایڈونچرکرنے کے موڈ میں ہے اوراس کی تیاری بھی کررہا ہے۔ایمرجنسی میں مزید اسلحہ خریدنے کے آرڈر دے چکا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو زخم اس نے سات اور دس مئی کو کھائے تھے وہ ان زخموں کو چاٹ کر مندمل کرتا انکو بھرنے کا سامان کرتا لیکن ہندوستان نے ان زخموں کو ناسور بنانے کے لیے کھلاچھوڑ دیا ۔اگر اتنی ذلالت اور شرمندگی کے بعد اس کا دل نہیں بھرا اوروہ مزید ذلیل ہونا چاہتا ہے تو اس کی چوائس ہے ہم پہلے بھی تیار تھے اور اب تو اس سے بھی زیادہ تیار ہیں۔
کمال کی بات یہ رہی کہ ایک طرف ہنود پاکستان جیسے اسلامی ملک کے ہاتھوں ذلیل ہوا تو دوسری طرف یہود ہمارے ایک برادر اسلامی ملک ایران کے ہاتھوں ذلیل ہوا۔ ذلیل ہونے والے بھی دونوں دوست تھے اور ذلیل کرنے والے بھی ۔پاکستان نے ایسی جنگ لڑی کہ دشمن کو بھی شدید قسم کے ڈپریشن میں مبتلا کردیا تو ایران نے بھی اپنی جنگ بڑے ہی حوصلے سے لڑی اور فتح پائی۔ ایران نے اسرائیل کے ساتھ ساتھ امریکا کی جارحیت کا جواب بھی دیا اور عزت پائی ۔اللہ کرے کہ فسلطین اور کشمیر کا مسئلہ حل ہو تا کہ اس دنیا کو کچھ امن نصیب ہو۔
میں نے پاک بھارت جنگ کے بعد سے سیاسی موضوعات پر لکھنا اور بولنا ترک کررکھا ہے کیونکہ جو اطلاعات مجھ تک پہنچتی ہیں ان کو دیکھنے اور پرکھنے کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے ملک کو لاحق خطرات ہماری سیاست اور اندرونی لڑائیوں سے کہیں زیادہ بڑے اور سنگین ہیں۔ہندوستان نچلا نہیں بیٹھ رہا۔ ایک طرف کھلی جنگ کی تیاری کررہا ہے تو دوسری طرف اپنی پراکسیزکے ذریعے ہمارے بلوچ بھائی بہنوں کو رنگین خواب دکھا کر ،پیسو ں کے لالچ میں اپنے ہی ملک سے لڑوا رہا ہے۔ بلوچستان کو لاحق خطرات ہماری سوچ سے کہیں زیادہ ہیں۔پہلے صرف ہندوستان دہشتگردی اور بے امنی میں ملوث تھا اب اس میں اسرائیل بھی شامل ہوچکا ہے۔میں آپ کو اسرائیل کی شمولیت کی کہانی تفصیل سے سناؤں گا کسی دن۔ آج اشارے کی حد تک اپنی سیاست میں اسی ہفتے ہونے والے کچھ واقعات ۔
اگر کسی کو یقین نہیں آرہا تو وہ اپنے خیال کو دوبارہ مجتمع کرلے کہ دس مئی کے بعد پاکستان ایک بدلا ہوا پاکستان ہے۔ اس پاکستان کی ترجیحات میں نہ اندرونی سیاست کی جگہ ہے اور نہ ہی کسی کے لیے پی ٹی آئی اور جیل میں قید عمران خان کی کوئی اہمیت ہے۔مجھے ایسے ہی لگتا ہے کہ جیسے آپ کی باہر کسی سے لڑائی چھڑ جائے تو گھر کے لڑنے کے قابل تمام افراد لڑائی میں شریک ہوجائیں اور اپنے بوڑھے بزرگ کو گھر میں ہی بھو ل جائیں۔اس وقت پاکستان کی ریاست کی ترجیح ہمارے ملک کو لاحق خطرات کا مقابلہ ہے ۔ہندوستان کی طرف سے مزید جنگ مسلط ہونے کی صورت میں اس کا بھرپور مقابلہ ہے۔ کل ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چودھری کی بی بی سی سے گفتگو بھی اس کی واضح مثا ل ہے جس میں انہوں نے فوج کو سیاست اور سیاسی مسائل سے دورکھنے کی بات کی۔ ایسے میں جناب عمران خان صاحب کی بہن کی زبانی یہ الفاظ کہ ’’ہاں عمران خان مائنس ہوچکے ہیں‘‘ سننا کچھ زیادہ معیوب نہیں لگا۔
مجھے عمران خان صاحب کی طرف سے ایک صوبے کے بجٹ کی منظوری میں دلچسپی لینے اور پھر مائنس جیسی صورتحال سے دوچار ہونے کی سمجھ نہیں آتی کہ اگر آپ نے اپنی پارٹی کے ایک شخص کو وزیراعلیٰ بنادیا ہے وہ حکومت چلا رہا ہے تو ا س پر اعتماد کر لیں۔ اس کو فیصلوں کا اختیار دیں تاکہ اس طرح کی شرمندگی سے خود بھی بچیں اور پارٹی کو بھی بچائیں۔اب بھلا عمران خان صاحب نے بجٹ میں کیا کرنا تھا؟ کونسی ایسی تجویز تھی جو انہوں نے صوبائی بجٹ کے لیے دینی تھی ۔اب تو وہ پھر جیل میں ہیں جب وہ خود وزیراعظم تھے تو اس وقت بھی ان سے بجٹ بنانے کے لیے کون پوچھتا تھا؟ انہوں نے خود آئی ایم ایف سے بندہ لاکر وزیرخزانہ بنایا وہیں سے ایک شخص کو لاکر سٹیٹ بینک کا گورنر لگایا تو اب کیا بدل گیا ہے پاکستان میں جو عمران خان صاحب نے بجٹ میں ڈالنا تھا؟ آپ کی پارٹی کے پاس تو ایک ایسا شخص نہیں جس کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا سے ہو اور وہ آپ کا بجٹ بناسکے ۔آ پ نے اس کام کے لیے بھی سندھ سے مزمل اسلم کو پشاور امپورٹ کررکھا ہے تو مزمل اسلم نے بجٹ بناکر پیش کردیا کہانی ختم ۔
بات خیبرپختونخوا کی ہورہی ہے تو جمعہ کے روز سوات میں پیش آنے والے سانحے پردل بہت دکھی ہے۔اس سانحے میں سیالکوٹ کا ایک خاندان اجڑ گیا۔ لوگ ڈیڑھ گھنٹے تک دریا میں ایک ٹیلے پر کھڑے مدد کے لیے پکارتے رہے لیکن خیبرپختونخوا کی حکومت بے حس اور بے شرمی کا مظاہرہ کرتی رہی ۔وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور اپنا صوبہ اور وہاں کی گورننس چھوڑ کر اسلام آباد کے ہورہے ہیں۔ وہ ہر وقت اسلام آباد پائے جاتے ہیں سرکار کا ہیلی کاپٹر جو مشکل وقت میں عوام کے لیے استعمال ہونا چاہئے وہ ہیلی کاپٹر ان کے لیے رکشے کی طرح استعمال ہوتا ہے لیکن دریا میں ڈوبنے والے سب کی آنکھوں کے سامنے یونہی ڈوب جاتے ہیں ۔ایسی حکومت،ایسی گورننس اور ایسے اقتدار و اختیار پر تف ہے۔بجٹ وغیرہ نہیں یہ وہ مسائل ہیں جو عمران خان صاحب کے نوٹس لے کر وزیراعلیٰ کو چلتا کر نے کے لیے کافی ہیں ۔ جناب عمران خان صاحب کیا اس پر کوئی نوٹس لیں گے؟ کیا وہ خودسے کوئی سوال کریں گے کہ اس صوبے میں بارہ سال سے ان کی حکومت ہے اور صوبے میں ریسکیوکا بنیادی انفراسٹرکچر ہی موجود نہیں ہے۔ اور پھر سوات جیسے سیاحتی مقام پر کوئی ایمرجنسی صورتحال کے لیے ہیلی کاپٹر نہیں ہے؟بجٹ کی منظوری پر خود کومائنس محسوس کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔یہ وہ ایشو ہے جس پر عمران خان صاحب علی امین کو مستعفی ہونے کا حکم دے کر ایک مثال قائم کریں ۔وہ عمران خان سامنے آئیں جو ٹرین حادثات پر وزیرریلوے سے استعفے مانگتے وقت جنوبی کوریا کے وزیرکی مثالیں دیتے تھے جنہوں نے ایک کشتی ڈوبنے پر وزارت چھوڑ دی تھی ۔جناب عمران خان صاحب اب وقت ہے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانے کا ۔اس خاندان کے اجڑنے کا خمیازہ اپنی حکومت کو بھگتنے پر مجبور کیجیے ۔یہ کوئی ایران اسرائیل کی جنگ نہیں ہے کہ آپ کی طرف سے اسرائیل کی مذمت کے بغیر کام چل جائے گا یہ آپ کا صوبہ ہے ۔آپ کا لگایا ہوا وزیراعلیٰ ہے آپ کی حکومت ہے اور وہ بھی بارہ سال سے ہے ۔ہمت کریں اس ملک میں سیاست کی نئی مثالیں قائم کیجئے ۔ہٹائیے ایسے لوگوں کو جو کام نہیں کررہے ۔جو عوام کے لیے کسی کام کے نہیں ہیں ۔جو اسلام آباد میں مارگلہ کی پہاڑیوں پر ایک نیا کے پی ہاؤس بنانے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں ۔ایسے عناصر آپ کو سیاست سے مائنس ہی کرتے جائیں گے اگر آپ نے پلس ہونا ہے تو سوات کے اس سانحے کو بنیاد بناکروزیراعلیٰ کو گھر بھیج دیں ۔۔آپ مائنس سے فوری پلس ہوجائیں گے ۔

مزیدخبریں