بھارتی پروپیگنڈ اور سفارتی تنہائی

09:33 AM, 30 Jul, 2026

جنوبی ایشیا کی جیو پولیٹیکل تاریخ میں الزامات اور جوابی الزامات کی ایک طویل داستان موجود ہے۔ جب بھی خطے میں کوئی سکیورٹی بحران یا افسوسناک واقعہ پیش آتا ہے، تو تحقیقاتی عمل مکمل ہونے سے قبل ہی سرحد پار سے الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ پہلگام واقعے کے ڈیڑھ سال بعد کالعدم تنظیموں اور شخصیات پر نامزدگی اور اس کے ساتھ ساتھ میڈیا کی سطح پر ایک نیا بیانیہ تعمیر کرنے کی کوششیں اسی سلسلے کی ایک کڑی نظر آتی ہیں۔
اگر ماضی کے واقعات کا تنقیدی جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر ثبوتوں کے بغیر فوری نتائج اخذ کرنا کسی بھی سنجیدہ سفارت کاری کے منافی ہے۔ سال 2020 میں EU Disinfo Lab (یورپی یونین کی غیر سرکاری تنظیم) کی افشا کردہ رپورٹ ”Indian Chronicles“ نے یہ حقیقت دنیا کے سامنے رکھی تھی کہ کس طرح گزشتہ دو دہائیوں سے سو سے زائد فرضی این جی اوز اور سیکڑوں جعلی میڈیا آو¿ٹ لیٹس کے ذریعے پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا نیٹ ورک چلایا جا رہا تھا۔
اسی طرح ماضی میں سمجھوتہ ایکسپریس اور دیگر واقعات میں بھی ابتدائی طور پر بغیر ثبوت کے سرحد پار کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا، جبکہ بعد ازاں اندرونی تحقیقات میں حقائق کچھ اور نکلے۔ یہ تمام شواہد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جذباتی نعرے بازی اور سنسنی خیز میڈیا رپورٹس کا مقصد بسا اوقات حقیقی حقائق کی پردہ پوشی کرنا ہوتا ہے۔
پہلگام واقعے کے 18 ماہ بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (NIA) کی جانب سے حافظ سعید اور کالعدم لشکرِ طیبہ کا نام شامل کرنا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر اتنے بڑے واقعے کے ثبوت موجود تھے تو انہیں فوری طور پر بین الاقوامی برادری یا متعلقہ فریق کے ساتھ شیئر کیوں نہیں کیا گیا؟ پاکستان نے ہمیشہ کسی بھی واقعے کی غیر جانبدارانہ اور مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے، لیکن جواب میں یکطرفہ بیانیے کو ترجیح دی گئی۔
موجودہ دور میں روایتی پروپیگنڈے کی جگہ تکنیکی سائبر جنگ اور ڈیپ فیک مواد نے لے لی ہے۔ حال ہی میں ”آبی دہشت گردی“ اور مصنوعی آوازوں (AI generated audio/ video) کے ذریعے نئے بیانیے تخلیق کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ جدید تکنیکوں کے ذریعے رائے عامہ کو گمراہ کرنا اور اندرونی سیاسی و انتظامی ناکامیوں سے توجہ ہٹانا کوئی نیا طریقہ کار نہیں ہے۔ جب بھی اندرونی سطح پر اقلیتوں کے حقوق، کشمیر کی انتظامی صورتحال یا سیاسی دباو¿ بڑھتا ہے، تو بیرونی خطرے کا جواز پیش کر کے داخلی سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
عالمی برادری اب محض یکطرفہ بیانیوں پر یقین نہیں کرتی۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ سنسنی خیز میڈیا وارفیئر کے بجائے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ سکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی جیسے حساس امور کو میڈیا ڈراما بنانے کے بجائے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر دیکھا جائے۔ کشمیر کے مسئلے کو دبانے کے لیے بیرونی الزامات کا سہارا لینے سے بنیادی تنازع ختم نہیں ہو سکتا۔ ”آبی دہشت گردی“ جیسے خیالی بیانیے خطے میں پانی کے معاہدوں (مثلاً سندھ طاس معاہدہ) کو زک پہنچانے اور نئے تنازعات کھڑے کرنے کی کوشش ہیں۔
عالمی برادری اب نئی دہلی کے اس نصابی فریب، فالس فلیگ ڈراموں اور نفرت انگیز پروپیگنڈے کو تیزی سے پہچان رہی ہے اور بھارت کی بین الاقوامی ساکھ خود اس کی گھڑی ہوئی داستانوں کے سمندر میں غرق ہو رہی ہے۔ پاکستان نے ہر فورم پر ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف ان تمام الزامات کو منطقی اور قانونی بنیادوں پر مسترد کیا ہے بلکہ خطے میں قیامِ امن کے لیے ثبوتوں کا تبادلہ اور باضابطہ مذاکرات کی پیشکش بھی کی ہے۔ بھارت کی یہ روش نہ صرف بین الاقوامی سفارتی فورمز کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کی سکیورٹی کو شدید خطرات سے دوچار کر رہی ہے۔ الزامات اور نفسیاتی حربوں سے وقتی طور پر داخلی جذبات کو تو بھڑکایا جا سکتا ہے لیکن حقائق کو ہمیشہ کے لیے دفن نہیں کیا جا سکتا۔
الزامات کی سیاست اور میڈیا کے ذریعے پھیلا ہوا فریب عارضی طور پر تو داخلی سطح پر سیاسی فائدہ دے سکتا ہے، لیکن بین الاقوامی سطح پر اس سے ملک کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ لہٰذا اگر خطے میں پائیدار امن اور استحکام مطلوب ہے تو بھارت کو سنسنی خیز میڈیا وارفیئر، زہریلی کردار کشی اور فرضی داستانوں کا یہ سلسلہ فوری بند کر کے ٹھوس شواہد، شفاف تحقیقات اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہو گا۔

مزیدخبریں