بڑھتی آبادی یا بے تدبیر پالیسی، اصل بحران

09:31 AM, 30 Jul, 2026

پاکستان اس وقت جس بحران سے دوچار ہے، وہ صرف بڑھتی ہوئی آبادی کا نہیں بلکہ اس آبادی کے مطابق قومی منصوبہ بندی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور مستقبل بینی کے فقدان کا بحران ہے۔ آبادی اگر تعلیم یافتہ، صحت مند، ہنر مند اور باصلاحیت ہو تو وہ کسی بھی ملک کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے، لیکن اگر اس کی رفتار ریاست کی منصوبہ بندی، معیشت اور وسائل سے آگے نکل جائے تو یہی آبادی ترقی کے بجائے مسائل کا سبب بن جاتی ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے نیشنل پاپولیشن کونسل کا قیام اسی تناظر میں ایک مثبت اور بروقت قدم ہے۔ وزیراعظم کی سربراہی میں قائم ہونے والی اس کونسل میں وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی قیادت کے ساتھ چیف آف ڈیفنس سٹاف، فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی شمولیت اس امر کی عکاس ہے کہ ریاست آبادی کے مسئلے کو صرف صحت یا خاندانی منصوبہ بندی تک محدود نہیں سمجھ رہی بلکہ اسے قومی سلامتی، معاشی استحکام، آبی وسائل، خوراک، ماحولیات اور سماجی ترقی کے تناظر میں دیکھ رہی ہے۔
پاکستان میں آبادی کی بلند شرحِ نمو کئی دہائیوں سے ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رفتار برقرار رہی تو 2030 تک ملکی آبادی 30 کروڑ سے تجاوز کر جائے گی جبکہ 2050 تک یہ تعداد تقریباً 39 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آبادی کتنی بڑھ رہی ہے، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری معیشت، تعلیمی نظام، صحت کا ڈھانچہ، روزگار کے مواقع اور قدرتی وسائل اس رفتار کا ساتھ دے سکتے ہیں؟ بدقسمتی سے ہمارے ہاں آبادی میں اضافے کو کبھی ایک قومی ایمرجنسی کے طور پر نہیں لیا گیا۔ خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں آگاہی کی کمی، خواتین کی کم شرحِ تعلیم، کم عمری کی شادیاں، غربت، دیہی علاقوں میں صحت کی سہولتوں کا فقدان اور سماجی رویے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہے ہیں۔ نتیجتاً غربت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے، جبکہ ریاست پر تعلیم، صحت، رہائش، پانی، بجلی اور روزگار کی فراہمی کا دباو¿ بڑھتا جا رہا ہے۔
دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے آبادی کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ بنایا۔ انہوں نے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کی، تعلیم کو ترجیح دی، خواتین کو بااختیار بنایا، ہنر مندی کو فروغ دیا اور طویل المدتی منصوبہ بندی اختیار کی۔ پاکستان بھی یہی راستہ اختیار کیے بغیر ترقی کی منزل حاصل نہیں کر سکتا۔ نیشنل پاپولیشن کونسل کی کامیابی صرف اجلاسوں، سفارشات یا نوٹیفکیشنز سے ممکن نہیں ہو گی بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے ملک بھر میں جدید اور مستند ڈیموگرافک سروے مکمل کیا جائے تاکہ منصوبہ بندی حقیقی اعداد و شمار کی بنیاد پر ہو۔ ہر ضلع کے لیے الگ آبادیاتی حکمت عملی مرتب کی جائے، خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات کو بنیادی صحت کے نظام کا حصہ بنایا جائے، خواتین کی تعلیم اور معاشی خودمختاری پر خصوصی توجہ دی جائے اور نوجوانوں کو جدید ہنر اور روزگار سے جوڑا جائے۔ اس پورے عمل میں علما کرام، اساتذہ، میڈیا، سول سوسائٹی اور نجی شعبے کو بھی شریک کرنا ہو گا۔ آبادی کا مسئلہ کسی ایک وزارت یا ادارے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے، جس کا حل بھی قومی اتفاقِ رائے سے ہی ممکن ہے۔
اسی تناظر میں کونسل میں فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی شمولیت خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ آبادی کا مسئلہ آج قومی سلامتی، وسائل کے تحفظ اور مستقبل کی معاشی پائیداری سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں عسکری قیادت کی موجودگی وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی، نظم و ضبط اور پالیسیوں پر مو¿ثر عمل درآمد میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر یہ کونسل اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے ادا کرتی ہے تو فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی شمولیت نہ صرف اس کی کارکردگی میں بہتری کا باعث بن سکتی ہے بلکہ یہ پیغام بھی دے گی کہ افواجِ پاکستان آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے قومی نوعیت کے مسائل کے حل کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ ایک مثبت، تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہی ہیں۔ تاہم یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ کسی بھی ادارے یا کونسل کی کامیابی شخصیات سے زیادہ اس کی پالیسی، شفافیت، احتساب اور مستقل مزاجی پر منحصر ہوتی ہے۔ اگر فیصلے صرف کاغذوں تک محدود رہے تو نہ وسائل میں توازن آئے گا، نہ آبادی میں اعتدال اور نہ ہی عوام کی زندگی میں بہتری۔ نیشنل پاپولیشن کونسل کو چاہیے کہ وہ آبادی اور وسائل کے درمیان توازن کو قومی ترقی کی بنیاد بنائے۔ تعلیم، صحت، خوراک، پانی، ماحولیات، روزگار اور شہری منصوبہ بندی کو آبادی سے منسلک کر کے ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دی جائے۔ ہر سال پارلیمنٹ میں اس حوالے سے پیش رفت کی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ عوام بھی جان سکیں کہ ریاست مستقبل کے پاکستان کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کر رہی ہے۔
یاد رکھیے، قومیں صرف زیادہ آبادی سے نہیں بلکہ زیادہ شعور، بہتر تعلیم، مضبوط کردار، انصاف اور بہترین منصوبہ بندی سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر آج ہم نے بڑھتی ہوئی آبادی کو قومی منصوبہ بندی کے ذریعے متوازن نہ کیا تو آنے والی نسلیں وسائل کی قلت، بے روزگاری، غربت اور سماجی انتشار کا سامنا کریں گی۔ لیکن اگر آج درست فیصلے کر لیے گئے تو یہی نوجوان آبادی پاکستان کی سب سے بڑی معاشی اور قومی طاقت بن سکتی ہے۔ ریاست کا اصل امتحان آبادی کو روکنا نہیں، بلکہ آبادی اور وسائل کے درمیان ایسا متوازن نظام قائم کرنا ہے جہاں ہر بچے کو تعلیم، ہر نوجوان کو روزگار، ہر خاندان کو صحت اور ہر شہری کو باوقار زندگی میسر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک مضبوط، خوشحال اور مستحکم پاکستان کی ضمانت بن سکتا ہے۔

مزیدخبریں