ٹرمپ نے دوبارہ ایران پر حملے کی دھمکی دے دی

05:48 PM, 29 Jul, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر ایک مرتبہ پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اردن میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کوشش کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حملے کے ردعمل میں فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی، جبکہ ایران سے وابستہ مسلح گروپوں کے خلاف بھی مختلف آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اردن میں قائم امریکی فوجی اڈے اور امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے ہیڈکوارٹر کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں انتباہ کو نظر انداز کرنے والے تین آئل ٹینکرز کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا گیا۔

ادھر امریکی فوج نے کہا کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں واقع امریکی فوجی تنصیبات پر متعدد بیلسٹک میزائل داغے، تاہم فضائی دفاعی نظام نے انہیں راستے ہی میں ناکام بنا دیا۔ امریکی فوج کے مطابق خطے میں موجود تمام امریکی دستے مکمل طور پر ہائی الرٹ ہیں اور صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے فائر کیے گئے میزائلوں کا ہدف اردن میں واقع امریکی فوجی اڈہ تھا۔ حملے کے دوران اردن کی فضاؤں میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، جبکہ دفاعی نظام نے بیشتر میزائل فضا میں ہی تباہ کر دیے۔

دوسری جانب کویت کی وزراء کونسل نے ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے کے امن، سلامتی اور استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

ادھر سعودی عرب پر دو روز قبل ہونے والے میزائل حملوں کے حوالے سے ایران نے ایک مرتبہ پھر خود کو ان واقعات سے الگ قرار دیا ہے۔ ایک ایرانی فوجی عہدیدار نے کہا کہ تہران کا سعودی عرب میں اہداف پر دیگر ممالک سے کیے گئے میزائل یا راکٹ حملوں سے کوئی تعلق نہیں، اور ایران ایسے تمام الزامات کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔

مزیدخبریں