وہ جو ہنستے ہوئے دلوں میں اتر جاتا تھا

10:47 AM, 29 Jul, 2026

اللہ کے آخری رسول نے ارشاد کیا تھا: اس دنیا سے کوئی اٹھے گا نہیں، جب تک اس کا ظاہر و باطن واشگاف نہ ہو جائے۔ اکثر کے ظاہر اور باطن مختلف ہوتے ہیں۔ مگر امیر العظیم کا ظاہر اور باطن ایک جیسا تھا۔ دوستوں کے دوست تھے۔ دل و جان سے نثار ہوتے۔ ان کی وفات سے صرف ایک جماعت کو نقصان نہیں ہوا،بلکہ پورا معاشرہ سوگوار ہے۔ ان کے ساتھ آخری ملاقات لاہور پریس کلب میں سینئر صحافی محترم نواز رضا کی کتاب پر ایک پروگرام شرکت پر ہوئی۔ اس وقت بھی ان کی طبیعت کافی ناساز تھی، مگروہ مختصر، جامع معنی گفتگو کر کے چلے گئے۔
کچھ لوگ محض عہدوں سے پہچانے جاتے ہیں اور کچھ لوگ اپنی ذات سے ایک عہدے کو معتبر بنا دیتے ہیں۔ امیر العظیم مرحوم دوسری قسم کے انسان تھے۔ ان کا نام آتے ہی جو تصویر ذہن میں ابھرتی ہے، وہ کسی خشک، رسمی رہنما کی نہیں بلکہ ایک ہنستے مسکراتے، گرمجوش اور گداز دل رکھنے والے انسان کی ہے، جس کی موجودگی ہی ماحول کو خوشگوار بنا دیتی تھی۔
یہ عجیب بات نہیں کہ سیاست اور تنظیمی زندگی، جو اکثر سختی، تصنع اور رسمیت کا مظہر بن جاتی ہے، انہیں چھو بھی نہ سکی۔ وہ جہاں بھی بیٹھتے، جس محفل میں بھی موجود ہوتے، وہاں بشاشت خوشبو کی طرح پھیل جاتی۔ یہ کوئی معمولی خوبی نہیں۔ برسوں کی عوامی و تنظیمی مصروفیات، دباو¿ اور ذمہ داریوں کے باوجود کسی انسان کا دل اتنا نرم اور چہرہ اتنا روشن رہے، یہ اللہ کی طرف سے ایک نادر عطا ہوتی ہے، امیر العظیم مرحوم کو یہ عطا بھرپور طریقے سے حاصل تھی۔ وہ ان نادر لوگوں میں سے تھے جن کا خاندان صرف خون کے رشتوں تک محدود نہیں ہوتا۔ ان کے پسماندگان صرف وہ بہن بھائی، بیٹے اور بیٹیاں نہیں جو نسبی طور پر ان سے جڑے تھے، بلکہ وہ ہزاروں لوگ بھی ہیں ،جنہوں نے کبھی ان سے ایک ملاقات کی، کسی مشکل وقت میں ان کی شفقت محسوس کی یا کسی محفل میں ان کی خوش طبعی سے لطف اندوز ہوئے۔ ایسے انسان جب رخصت ہوتے ہیں تو ایک نہیں، بے شمار گھرانے سوگوار ہو جاتے ہیں، کیونکہ ہر ایک نے اپنی جگہ انہیں اپنا سمجھا تھا۔
سلیقہ مندی ان کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو تھا۔ نظم و ضبط، وقت کی پابندی، معاملات کو خوش اسلوبی سے نمٹانے کا فن اور سب سے بڑھ کر لوگوں کے ساتھ برتاو¿ میں وہ نرمی جو کسی کو بھی اجنبیت کا احساس نہیں ہونے دیتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والے، ان سے اختلاف رکھنے والے، اور محض ان سے واقف لوگ بھی، سب ایک ہی زبان میں ان کی تعریف کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسی مقبولیت خرید کر نہیں ملتی، یہ برسوں کے خلوص اور محبت کا نتیجہ ہوتی ہے۔جب ایسا انسان دنیا سے رخصت ہو تو اس کا خلا کبھی پُر نہیں ہوتا۔ عہدے پر کیے جا سکتے ہیں، ذمہ داریاں کسی اور کو سونپی جا سکتی ہیں، جماعت اسلامی نے بھی ان کا عہدہ محترم نذیر جنجوعہ کے سپرد کیا ہے۔ عہدہ تو پُر ہو چکا، مگر وہ مخصوص گرمجوشی، وہ مخصوص انداز، وہ مخصوص مسکراہٹ نہ مل پائے گی۔ یہی سبب ہے کہ آج ہزاروں، بلکہ لاکھوں لوگ ان کے فراق میں اشکبار ہیں۔ ان کے جنازے میں اُمڈ آنے والا جمِ غفیر اس بات کی زندہ گواہی ہے کہ وہ کسی ایک جماعت، تنظیم یا حلقے تک محدود شخصیت نہیں تھے، بلکہ ایک ایسے محبوب انسان تھے جن سے لوگوں کے دل، ان کے مسلک، نظریے اور تعلق سے بالاتر ہو کر، جڑے ہوئے تھے۔
مولانا ظفر علی خان نے کسی ایسے ہی عظیم انسان کے بچھڑنے پر کہا تھا کہ اگر آج بھی گریہ نہ کیا جائے تو پھر یہ توفیق اللہ نے انسان کو بخشی ہی کیوں تھی۔ یہ مصرعہ آج امیر العظیم مرحوم کے حوالے سے بھی اتنا ہی برمحل معلوم ہوتا ہے۔ کچھ نقصان ایسے ہوتے ہیں ،جن پر آنسو بہانا کمزوری نہیں بلکہ انسانیت کی علامت ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی زندگی میں دوسروں کے دکھ سکھ میں برابر کا شریک رہا ہو، اس کے جانے پر خاموش رہنا، بے حسی کے سوا کچھ نہیں۔باصلاحیت لوگ معاشرے میں کم نہیں ہوتے، مگر باصلاحیت ہونے کے ساتھ ساتھ خوش اخلاق، ملنسار، اور دل جیتنے والا انسان ہونا ایک نایاب امتزاج ہے۔ امیر العظیم مرحوم میں یہ دونوں خوبیاں بیک وقت موجود تھیں۔ وہ تنظیمی معاملات میں سنجیدہ اور فہمیدہ تھے، مگر ذاتی رویے میں اتنے سادہ اور بے تکلف کہ ملنے والا کبھی محسوس ہی نہیں کرتا تھا کہ وہ کسی بڑے عہدے پر فائز شخص سے مل رہا ہے۔ یہی عاجزی، درحقیقت، بڑائی کی اصل نشانی ہوتی ہے۔
 جب ان کا جنازہ اٹھا تو معلوم ہوا کہ محبت کرنے والوں کی تعداد کسی جماعتی حساب کتاب سے کہیں بڑھ کر تھی۔ ہر طبقہ فکر، ہر مکتبہ خیال کے لوگ اس اجتماع میں شریک تھے، یہی وہ اصل خراجِ عقیدت ہے جو الفاظ سے کہیں زیادہ بلیغ ہوتا ہے۔ زبان سے ادا کیے گئے تعزیتی جملے وقتی ہو سکتے ہیں، مگر لوگوں کے دلوں میں بس جانے والی یادیں دیرپا ہوتی ہیں اور امیر العظیم مرحوم نے یہ سرمایہ خوب کمایا۔ ان کی وفات یقینا ایک بڑا خلا چھوڑ گئی ہے، مگر ان کی زندگی ہمارے لیے ایک سبق بھی چھوڑ گئی ہے: کہ انسان کی اصل کامیابی عہدوں، اختیارات یا شہرت میں نہیں بلکہ اس محبت میں ہے جو وہ دوسروں کے دلوں میں پیدا کر جاتا ہے۔ سچائی، خلوص، مسکراہٹ اور دوسروں کے دکھ میں شرکت، یہی وہ اثاثہ ہے جو انسان کے دنیا سے جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ میرے سرکار کا ارشاد یہ ہے : حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے ۔ یہ بھی کہ اعتدال پر رہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو اس کے قریب تر!
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔

مزیدخبریں