دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن رائونڈ۔۔۔!!!

10:45 AM, 29 Jul, 2026

سکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلی جنس بیسڈ ”آپریشن العزم“ کے تحت بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف موثر کارروائیاں جاری ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے ”کھڈ کوچہ“ میں سکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی کے نتیجے میں فتنہ الہندوستان کو مسلسل بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔ آپریشن العزم کے دوران اب تک ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کی متعدد کمین گاہیں تباہ کر دی گئیں، جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) تیار کرنے کا مواد بھی برآمد کیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی مو¿ثر کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ اسی طرح سکیورٹی فورسز نے آپریشن العزم کے تحت مستونگ میں کامیاب کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشت گرد ہلاک کر دئیے۔ مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں کامیاب کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 4 دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔ ہلاک دہشت گردوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے زیر استعمال موٹر سائیکلیں بھی ضبط کر لیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق مو¿ثر کارروائی میں فتنہ الہندوستان کے متعدد دہشت گردوں کے زخمی ہونے کی بھی مصدقہ اطلاعات ہیں، جبکہ دہشت گردوں کی سہولت کاری میں ملوث متعدد مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ آپریشن کے دوران علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی کی جا رہی ہے۔ اسی ریجن میں کچھ ایسے علاقوں کی بھی اطلاعات سامنے آئیں جہاں دہشت گرد موجود تھے۔ کلی کند عمرانی، کھڈکوچہ جیسے علاقوں کی مکمل ریکی کے بعد ان علاقوں میں بھی فورسز نے بھرپور کارروائیاں کی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے موجود تھے جہاں وہ اسلحہ بھی منتقل کر رہے تھے۔ ان دونوں علاقوں میں بھی فورسز نے ٹارگٹڈ آپریشن کئے اور دہشت گردوں کے متعدد ٹھکانوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا۔ دہشت گرد نیٹ ورکس کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور امن و امان کے قیام تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رہیں گی۔ سکیورٹی ذرائع نے عزم ظاہر کیا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز اس وقت تک جاری رہیں گے جب تک بلوچستان میں مکمل امن و استحکام بحال نہیں ہو جاتا۔ حالیہ دنوں میں مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ میں دہشت گردوں کی مذموم کارروائیوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز مزید تیز کر دیئے ہیں۔ دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور خطے میں امن و امان کے قیام تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں مسلسل جاری رہیں گی۔ بلوچستان سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ اس سے قبل کچھ حوصلہ افزا رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فتنہ الخوارج اور کالعدم بی ایل اے کے کارندوں کے خلاف کارروائیوں سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی تھی۔ یعنی یہ آپریشن کی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ جب بھی دہشت گردوں کے خلاف پوری طاقت سے آپریشن کیا گیا اس کے ثمرات دہشت گردی کی کمی کی صورت میں ہی ملے۔ جیسا کہ افغانستان میں رواں سال 26 اور 27 فروری کی درمیانی شب دہشت گردوں کےخلاف آپریشن غضب للحق شروع ہونے کے بعد پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات میں کمی آ گئی تھی۔ عرب نیوز نے ”سینٹر فارریسرچ اینڈ سکیورٹی سٹڈیز“ کی رپورٹ شائع کی تھی جس کے مطابق پاکستان میں فروری کے مقابلے میں مارچ میں دہشتگردی کے واقعات میں 59 فیصد کمی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2026 کے پہلے 3 ماہ میں مجموعی طور پر دہشت گردی کے واقعات میں 18 فیصد کمی ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے خیبرپختونخوا میں دہشت گردی میں 57 فیصد کمی ہوئی، دیگر شہروں میں بھی دہشت گردی میں واضح کمی واقع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے مقابلے 2026 کی پہلی سہ ماہی میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے، دہشت گردوں کی ہلاکتیں عکاسی کرتی ہیں کہ آپریشنز مربوط، مو¿ثر اور مہلک ثابت ہو رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دہشت گردوں نے بلوچستان، خیبر پختونخوا، اسلام آباد میں نہتے شہریوں پر حملے کیے۔ مگر حالیہ حملوں کے بعد ایک مرتبہ پھر یہ تاثر ابھرا ہے کہ دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں اسی لئے فورسز نے دہشت گردوں کےخلا ف آپریشن میں شدت لانے کا فیصلہ کیا اور اب کہہ سکتے ہیں کہ فورسز کی محنت رائیگاں نہیں جائے گی۔

مزیدخبریں