مون سون کی بارشوں سے دریاؤں میں طغیانی، کئی علاقے زیرِ آب، رابطے منقطع

12:26 PM, 29 Jul, 2025

لاہور : ملک بھر میں مون سون کی تیز بارشوں نے دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سے طغیانی کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ دریائے راوی، جہلم، ستلج اور چناب میں بہاؤ بڑھنے لگا ہے، جبکہ دریائے سندھ کے تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر نچلے درجے کے سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ گڈو بیراج پر پانی کی سطح بھی بلند ہو چکی ہے اور دریائے سندھ کا بڑا سیلابی ریلہ ڈی جی خان کی حدود میں داخل ہو چکا ہے۔

جھنگ میں دریائے چناب کی طغیانی کی وجہ سے کم از کم 10 دیہات زیرِ آب آ گئے ہیں، جس سے فصلوں اور رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچا ہے اور کئی سڑکیں بھی بند ہو گئی ہیں۔ حافظ آباد میں دریا کے کناروں کا کٹاؤ بڑھ گیا ہے اور تونسہ شریف میں بھی سیلابی صورتحال برقرار ہے، جس کی وجہ سے زرعی زمین تباہ ہو رہی ہے۔

سیہون شریف کے کچے علاقے میں گزشتہ 10 دنوں سے سیلاب کا راج ہے، تین یونین کونسلز کے کئی دیہات شہروں سے زمینی رابطہ ختم ہو چکے ہیں۔ بھکر اور میانوالی کے متعدد علاقے بھی سیلاب کی لپیٹ میں آ گئے ہیں، جس سے فصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔

اسی دوران، بابو سر سانحے میں لاپتہ افراد میں ایک نجی ٹی وی کی اینکر بھی شامل ہے، سرچ آپریشن کے دوران اس کا کارڈ اور پرس ملا ہے، جس سے ان کی گمشدگی کا معاملہ مزید سنگین ہو گیا ہے۔

مزیدخبریں