اسرائیل کے حملوں میں مزید فلسطینی شہید، غذائی قلت کی وجہ سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

04:06 PM, 29 Jul, 2025

غزہ: اسرائیل کی فوج نے فلسطینیوں پر اپنی جارحیت میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے 24 گھنٹوں کے دوران 43 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے غزہ میں خوراک کے منتظر فلسطینیوں پر گولیاں چلائیں جس سے 9 افراد جام شہادت نوش کر گئے۔ اس کے علاوہ، غذائی قلت کی وجہ سے 14 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ اس طرح غزہ میں غذائی قلت کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 147 تک پہنچ چکی ہے۔

اسرائیل کے حملوں میں غزہ میں شہدا کی تعداد 59,800 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد 1 لاکھ 44,800 سے زائد ہو چکی ہے۔ غزہ کی موجودہ صورتحال عالمی سطح پر ایک سنگین انسانی بحران کا سبب بن چکی ہے۔

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے کیئر سٹارمر سے غزہ کے بحران پر بات کی اور امید ظاہر کی کہ خوراک کی فراہمی ان لوگوں تک پہنچے گی جنہیں اس کی ضرورت ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ حماس سے نمٹنا مشکل ہے، اور وہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے ساتھ اس پر بات چیت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات میں مشکلات کا سامنا ہے اور غزہ کے حالات کئی دہائیوں سے خراب ہیں۔ اس بحران کو حل کرنے کے لیے امریکہ فوڈ سینٹرز قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ غذائی قلت کا مقابلہ کیا جا سکے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ غزہ میں لوگوں کو خوراک کی فراہمی میں مشکلات آ رہی ہیں اور امریکہ انسانی بنیادوں پر مدد فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ امداد کی فراہمی کی ذمہ داری پوری کرے تاکہ جنگ بندی تک پہنچا جا سکے۔

سابق امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے اپنے نیوکلیئر پروگرام کو دوبارہ شروع کیا تو امریکہ اسے فوراً روک دے گا۔

مزیدخبریں