پاکستان کا غزہ میں جنگ بندی اور فلسطین کو مکمل اقوام متحدہ رکنیت دینے کا مطالبہ

09:57 AM, 29 Jul, 2025

نیویارک: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلسطین کے دو ریاستی حل پر اقوام متحدہ کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے غزہ میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ آج کے دور میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا مرکز بن چکا ہے اور یہاں جنگی جرائم پر فوری سزا دینی ضروری ہے۔ اسحاق ڈار نے اسرائیل کے ہاتھوں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ایک سنگین مسئلہ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری طور پر ردعمل کا مطالبہ کیا۔

نائب وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا اور مسئلہ فلسطین کے حل نہ ہونے کو عالمی برادری کی ناکامی قرار دیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے تاکہ اس مسئلے کے حل کی طرف ایک حقیقی قدم اٹھایا جا سکے۔

اسحاق ڈار نے غزہ میں اسرائیل کی طرف سے امداد کی فراہمی میں رکاوٹیں، شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے اور پناہ گزین کیمپوں، ہسپتالوں اور امدادی قافلوں پر حملوں کو انسانیت کے خلاف سنگین جرائم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے جاری ان حملوں نے تمام اخلاقی اور قانونی حدیں پار کر لی ہیں اور یہ فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔

نائب وزیراعظم نے اس ضمن میں پانچ اہم تجاویز پیش کیں، جن میں غزہ اور دیگر مقبوضہ علاقوں میں غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی، امداد کی بلا روک ٹوک فراہمی، اور جنگی جرائم کا عالمی سطح پر محاسبہ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی اور جنگی جرائم کا عالمی سطح پر احتساب ہونا چاہیے اور اس عمل سے استثنیٰ کا خاتمہ ہونا چاہیے۔

اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ مسئلہ فلسطین کا حل صرف ایک حقیقی سیاسی عمل سے ممکن ہے، جس میں قبضہ ختم ہو اور دو ریاستی حل کو حقیقت کا روپ دیا جائے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس کانفرنس کے انعقاد کا فیصلہ گزشتہ سال کیا تھا، جو پہلے جون میں ہونے والی تھی، لیکن ایران پر اسرائیل کے حملے کے بعد اسے ملتوی کر دیا گیا تھا۔ کانفرنس میں شریک رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم قدم ہو سکتا ہے جو خطے میں امن کے قیام اور قبضے کے خاتمے کی طرف پیش رفت کی علامت ثابت ہو۔

مزیدخبریں