اسحاق ڈار کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور سندھ طاس معاہدے پر واضح موقف

09:26 AM, 29 Jul, 2025

نیویارک: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر پاکستان کے پانی کو روکا گیا یا اس کا رخ موڑا گیا تو یہ پاکستان کے لیے جنگ کے اعلان کے مترادف ہوگا۔

اسحاق ڈار نے سندھ طاس معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا اور پاکستان کے تین دریاؤں پر اس کا حق ہے۔ بھارت کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر کسی بھی وقت بات چیت کے لیے تیار ہے، مگر ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت سے مذاکرات ہوئے تو وہ مکمل اور جامع ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل خطے میں امن کی بنیاد ہے اور اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے کے حل کے بغیر حقیقی امن ممکن نہیں۔ اسحاق ڈار نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کی امن کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔

اسحاق ڈار نے فلسطین کے حوالے سے اپنے موقف کا اظہار کرتے ہوئے غزہ میں جنگ بندی اور فوری خوراک کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے غزہ میں جاری جنگی جرائم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان جرائم کا محاسبہ کیا جانا چاہیے اور انسانی حقوق کے خلاف جرائم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی بھی حمایت کی۔

آخر میں، اسحاق ڈار نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے تجارت اور ٹیرف پر بات چیت کی اور کہا کہ اگلے چند دنوں میں ٹیرف پر معاہدہ طے پا جائے گا۔

مزیدخبریں