بابرکت اور بے برکت کمائی

09:12 AM, 29 Jul, 2025

ہمارے ملک میں یہ سوچ عام پائی جاتی ہے کہ اگر گھرکی عورت نوکری یا کاروبار کرنے لگے تو پیسے تو آ جاتے ہیں لیکن بچے اور گھر برباد ہو جاتے ہیں۔ اِس سوچ کا شکار ہمارا پڑھا لکھا طبقہ بھی ہے۔ چنانچہ اِسی سوچ کی ایک شاخ یہ ہے کہ جس گھر کی خواتین کمانے لگتی ہیں وہاں طلاق کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ عورت جب معاشی طور پر خودمختار ہوتی ہے تو پھر اسے شادی کے بندھن میں بندھے رہنے میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا یاوہ آسانی سے اس رِشتے کو توڑ دیتی ہے۔ اِس کا مطلب، دوسرے الفاظ میں، یہ ہے کہ جب تک عورت معاشی طور پر مرد کے زیربار رہے گی، گھر کا یونٹ چلتا رہے گا۔ اِدھر وہ اِس بار سے آزاد ہوئی ادھر گھر ٹوٹا۔ اگر گھر نہ بھی ٹوٹے تو کمزور ہو جاتا ہے اور بچے بری طرح سے غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یوں ان کی تربیت نہیں ہو پاتی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عورت کی کمائی سے گھر کے اندر سے برکت اٹھ جاتی ہے۔ گویا ہمارا شادی کا اِدارہ بے حد کمزور ہے اور صرف تب چل سکتا ہے جب مرد کو مجازی خدا مان لیا جائے۔
یہ تمام باتیں اس بنیادی سوچ سے جڑ پکڑتی ہیں جو یہ بتاتی ہے کہ عورت کا کام گھر پر رہ کر ہانڈی روٹی کرنا، کپڑے دھونا اور بچے پالنا ہے۔ پیسہ کمانا مرد کا کام ہے۔ مرد یہ کام نہایت تن دہی سے کرتا ہے۔ عورت کو کمانے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ صرف اپنے شوق سے نوکری کرتی ہے۔ یہ اسے نہیں کرنی چاہیے تاکہ گھر کا یونٹ چلتا رہے۔ یہ سوچ اِس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ اِسلام میں عورت کی ذمے داری مکمل طور پر مرد پر ہے۔ جب وہ بچی ہے تو اس کی ذمے داری باپ پر ہے۔ باپ کے بعد یہ کام بھائی کرتے ہیں۔ شادی کے بعد یہ ذمے داری شوہر کو منتقل ہو جاتی ہے۔ جب شوہر نہ رہے یا بوڑھا ہو جائے تو عورت کی ذمے داری بچوں پر ہے۔ یوں عورت کو کمانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ معاملات کو دیکھنے کا نہایت سادہ انداز ہے۔ یہ اِتنا سادہ ہے کہ اِس کا زمینی حقائق سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ جب ہم اپنے معاشرے میں اِدھر ادھر دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے یہاں زیادہ تر عورتیں ضرورت کے تحت نوکری کرتی ہیں۔ ان کے والد کا بچپن میں اِنتقال ہو گیا۔ وہ سب سے بڑی بہن تھیں۔ چنانچہ کمانے کی ذمے داری ان کے کاندھوں پر آ پڑی۔ اِس طرح کی بے شمار مثالیں دنیا میں موجود ہیں۔ ایک مثال مشہور مصنفہ جے کے رولنگ کی ہے جنہوں نے ہیری پوٹر کا کردار تخلیق کیا۔ ان کی شادی ناکام رہی۔ ان کی ایک بیٹی تھی۔ انہوں نے نہایت غربت کے دِن گزارے۔ اِنہی تاریک دِنوں میں انہوں نے ہیری پوٹر کا پہلا ناول لکھا۔
شادی کے بعد بہت سی خواتین کو طلاق ہو جاتی ہے یا وہ بیوہ ہو جاتی ہیں یا ان کے شوہر نشہ کرنے لگتے ہیں یا وہ اِتنا نہیں کما پاتے کہ گھر اور بچوں کا خرچ چلایا جا سکے۔ اگر مرد کو یہ کہا جائے کہ تم کم کماتے ہو تو ہمارے معاشرے کے زیادہ تر مرد اِسے اپنی بے عزتی گردانتے ہیں اور بیوی کی کمبختی آ جاتی ہے۔ چنانچہ عورت کو گھر سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ ہمارے گھر کام کرنے والی عورت کی عمر کم از کم ساٹھ سال ہو گی۔ اس کے بچے بھی ہیں۔ لیکن اسے اپنی کفالت کے لیے خود ہی محنت کرنا پڑتی ہے۔ وہ نہ صرف اپنی کفالت کرتی ہے بلکہ بچوں کی مدد بھی کرتی ہے۔ لڑکیوں کو شادی سے پہلے ہی نوکری کرنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے کیونکہ غربت نے گھرمیں اپنے پنجے گاڑے ہوتے ہیں۔ اگروہ نوکری نہ کریں تو مہینہ گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر ان کی آنے والی شادی کے اخراجات بھی ہیں جن کے لیے انہوں نے ہی کماکر بچت کرنی ہے۔ ان کے باپ اِتنا نہیں کما پاتے کہ ایک مناسب جہیز تیار ہو سکے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو ہمارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن ہم اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے اس سب سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور ایک خیالی دنیا میں رہ رہے ہیں۔ اِس خیالی دنیا کے چاروں طرف ہم نے لفظ اِسلام کا پردہ لگا دیا ہے تاکہ کوئی باہر دیکھنے کی جرأت نہ کر سکے۔ 
جہاں تک اِس بات کا تعلق ہے کہ جو خواتین نوکری کرتی ہیں ان کے بچوں کی تربیت صحیح طور پر نہیں ہو سکتی تو اِس سلسلے میں یہ عرض ہے کہ میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہاں زیادہ تر خواتین گھریلو بیویاں ہی ہیں۔ وقت کے ساتھ غیر شادی شدہ لڑکیوں نے نوکری تو شروع کر دی ہے لیکن شادی شدہ خواتین کی اکثریت گھر پر ہی ہوتی ہے۔ اِس علاقے کے بچوں میں دنیا کی تمام خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ وہ نہ پڑھنے میں اچھے ہیں اور نہ ہی ان کی زبان میں شائستگی ہے۔ وہ عام الفاظ میں آوارہ گرد ہیں۔ اور اِس علاقے پر ہی بات ختم نہیں ہو جاتی۔ آپ اپنے چاروں طرف دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ تمام غریب یا متوسط کمائی کے علاقوں کا یہی حال ہے۔ چنانچہ یہ بات نہیں مانی جا سکتی کہ اگر ماں ہر وقت گھر پر ہے تو بچے یقینا زبردست تربیت پائیں گے۔ وہ مائیں سارا دِن ہانڈی روٹی کر کے، خاندانی اور گھریلو سیاست کا بوجھ اٹھا کر اِس قابل نہیں رہتیں کہ بچوں کے سکول یا کالج سے واپس آنے پر انہیں پڑھا سکیں یا ان کی تربیت کر سکیں۔ وہ بھی تھکی ٹوٹی ہوتی ہیں۔ ان کے اپنے اِتنے مسائل اکٹھے ہو جاتے ہیں کہ وہ بچوں کی خوراک کا تو خیال رکھ پاتی ہیں لیکن تربیت اور پڑھائی کے لیے کچھ نہیں کر سکتیں۔ پھر یہ کہ وہ جدید علوم اور معلومات سے بھی بے بہرہ ہوتی ہیں۔ ان کی ساری معلومات ڈراموں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ نوکری پیشہ خواتین کو اپنے شعبے میں چلتے رہنے اور آگے بڑھنے کے لیے علم حاصل کرتے رہنا پڑتا ہے۔ چنانچہ وہ بچوں کو بہتر طور پر پڑھا سکتی ہیں اور ان کی بہتر تربیت بھی کر سکتی ہیں۔ پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان کے کسی ایک محلے کے بچوں کی اخلاقی تربیت کا موازنہ لندن، بون، کوپن ہیگن، شنگھائی یا ٹوکیو کے کسی محلے کے بچوں سے کر لیا جائے۔ ان ممالک کے بچے اخلاقی لحاظ سے ہمارے بچوں سے کہیں بہتر ہیں حالانکہ وہاں ماؤں کی اکثرت نوکری پیشہ ہے۔
ہمارے یہاں نوکری پیشہ خواتین کو بھی یہ بتایا جاتا ہے کہ تمہاری پہلی ذمے داری تمہارا شوہر اور بچے ہیں۔ تم سے ان کے بارے میں پوچھ گچھ ہو گی۔ تم سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم نے کتنا کمایا اور کتنی ترقی کی۔ یہ بات ہمارے ملک کے ان دس فیصد گھرانوں کے لیے تو شاید مؤثر ہو جہاں باپ یا شوہر اِتنا کماتے ہیں کہ بچوں کی اچھی تعلیم، تربیت اور تفریح کے لیے خرچہ نکل آتا ہے۔ باقی کے نوے فیصد گھرانے جو روزانہ کی بنیاد پر زندگی گزارنے کے لیے شدید قسم کی جدوجہد میں لگے ہوئے ہیں وہاں یہ کہنا کہ عورت سے صرف ہانڈی روٹی کا سوال ہو گا، اِسلام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہے۔ جو ماں یہ دیکھ رہی ہو کہ میرے بچے صرف مالی تنگی کی وجہ سے اچھی تعلیم حاصل نہیں کر پا رہے، وہ گندی غلیظ جگہوں پر رہنے اور کھیلنے پر مجبور ہیں جہاں وہ بگڑتے بھی جا رہے ہیں وہ کیسے آنکھیں بند کر کے ہانڈی روٹی کرتی رہے گی؟ اسے آخرت کے سوال کی میٹھی گولی کب تک چپ رکھے گی؟ اگر وہ کچھ کر سکتی ہے تو ضرور کرے گی۔
یہ سوچ یہ بھی بتاتی ہے کہ خواتین کو زیادہ پڑھانے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ایک لڑکی کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر، ڈاکٹر، انجینئر یا معاشی ماہر بنا کر اسے کپڑے دھونے پر لگادینا بہت بڑا ظلم ہے۔ یہ ظلم اس لڑکی کے ساتھ بھی ہے اور اِس ملک کے ساتھ بھی۔ ہم یہ دونوں ظلم اِسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔ بہت پڑھے لکھے افراد بھی اِس سوچ سے اپنے آپ کو باہر نکالنے میں ناکام ہیں۔ ہمیں اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا۔ اِسے زمینی حقائق اور منطق کے مطابق ڈھالنا ہو گا۔ اِسلام کو اچھی طرح سمجھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اِس کے نام پر دھوکا کھا کر دنیا اورعاقبت برباد کرا لینا بہت بڑے نقصان کا باعث ہے۔ 

مزیدخبریں