چدمبرم کا تہلکہ

09:10 AM, 29 Jul, 2025

بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے پہلگام حملے کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس واقعے میں پاکستان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں، بلکہ حملہ آور دراصل بھارتی شہری تھے جنہوں نے بھارت کے اندر ہی دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔۔۔ پی چدمبرم نے بھارتی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بغیر کسی ثبوت کے یہ فرض کیوں کر رہی ہے کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے؟ اگر ایسا ہے تو ثبوت کیوں نہیں پیش کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ اب تک نہ تو حملہ آوروں کو شناخت کیا گیا اور نہ ہی کوئی واضح گرفتاری سامنے آئی۔۔۔ مقبوضہ کشمیر کے سیاحتی علاقے پہلگام میں اپریل 2025 میں ہونے والے اس حملے میں 26 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جس کے بعد بھارت نے آپریشن سندور کے نام سے جوابی کارروائی کا آغاز کیا، لیکن تین ماہ گزرنے کے باوجود تحقیقات مکمل نہ ہو سکیں۔ چدمبرم کے انکشاف کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان پر لگائے گئے الزامات پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان نے نہ صرف اس حملے کی شدید مذمت کی تھی بلکہ شفاف اور مشترکہ تحقیقات کے لیے تعاون کی بھی پیشکش کی تھی۔ 22 اپریل 2025 کی سہ پہر یہ خونریز سانحہ اس وقت پیش آیا جب وزیراعظم شہباز شریف ، ترکیہ کے دو روزہ دورے پر تھے۔ اسی دوران غور طلب امر یہ ہے کہ نائب امریکی صدر، جے ڈی وانس، اپنی ہندو اور بھارتی نژاد اہلیہ کے ساتھ بھارت کا تین روزہ دورہ کر رہے تھے۔ اسی دن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی دو روزہ دورے پر سعودی عرب موجود تھے۔ اس حملے کی ٹائمنگ بہت سے سوالات کو جنم دے رہی تھی۔ یہ مبینہ واقعہ جنوبی مقبوضہ کشمیر کے مشہور سیاحتی مقام پہلگام کی وادی بیسران میں پیش آیا۔ اس واقعے کے فوری بعد پاکستان نے سختی سے اس الزام کی تردید کی جو بھارت سرکار نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پاکستان پر لگا دیا۔ پاکستان نے پہلے وضاحت دی اور پھر سوالات اٹھا دیئے۔ پاکستان نے بھارتی الزام کو دنیا بھر میں بے نقاب کرنے کی کوشش کی اور سفارت کاری کا بھی سہارا لیا۔ مگر چونکہ یہ بھارت کا سوچا سمجھا منصوبہ تھا اس لیے بھارت نے جان بوجھ کر طاقت کا استعمال کیا اور پاکستان کی سرزمین پر حملہ کر دیا۔ اس بھارتی حملے کا جواب تو پوری دنیا نے دیکھ ہی لیا مگر پاکستان کی برتری بھی قائم ہو گئی۔ پاکستانی دفاعی قوت دنیا نے دیکھ لی اور پاکستانی کے اصولی موقف کی بھی تائید ہو گئی۔ ان حالات میں بھارت کی متعدد ذمے دار شخصیات نے بھی کبھی بین السطور اور کبھی کھلے الفاظ میں پاکستان میں خونریز دہشت گردی کی وارداتوں کا اعتراف کیا ہے۔ ایک بی جے پی کے رکن نے دو ٹوک کہا کہ راولپنڈی کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہیے۔ پاکستان کے ساتھ اب نہ کوئی تجارت ہو گی نہ ہی کوئی سفارتی مکالمہ۔ پاکستانیوں کے ساتھ ہم نہ کرکٹ میچ کھیلیں گے اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی کلچرل ایکسچینج پروگرام ہو گا۔ یہ بھارتی نفرت کی ایک مثال تھی جبکہ پاکستان نے اس سے قبل صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ پہلگام سے پہلے آپ کو یاد ہو گا کہ بھارت کو بالا کوٹ کا معرکہ بھی لانچ کرنا پڑا۔ اس وقت بھی پاکستان کے خلاف حملہ آور بھارتی فضائیہ کے دونوں طیارے پاکستان کے جری اور جانباز جنگی ہوا بازوں نے مار گرائے تھے اور ایک حملہ آور بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار بھی کر لیا گیا تھا۔ یہ بات طے شدہ ہے کہ جب بھی کوئی اہم بھارتی لیڈر غیر ملکی دوروں پر روانہ ہوتا ہے یا جب بھی کوئی اہم غیر ملکی سربراہ بھارتی دورے پر آتا ہے، بھارت (خاص طور پر مقبوضہ کشمیر میں) کوئی نہ کوئی خونریز واقعہ لانچ کر دیتا ہے۔ 2000 میں جب امریکی صدر بِل کلنٹن، بھارتی دورے پر تھے، مقبوضہ کشمیر کے علاقے چٹی سنگھ پورہ میں ایک خونی واقعہ سامنے آ گیا تھا جس میں 36 کشمیری سکھ موت کے گھاٹ اتار دئیے گئے تھے۔ بھارت کے سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم یے پہلگام حملے کے حوالے سے تہلکہ خیز انکشاف بھارت سرکار کے ڈرامے کا پردہ چاک کرنے کے لیے کافی ہیں۔ بھارت نے جو کیا اس کا نتیجہ بھگت لیا مگر چدمبرم جیسے بڑے کردار کی جانب حقائق سامنے لانے کے بعد بھارت سرکار ایک مرتبہ پھر دنیا بھر میں بے نقاب ہو گئی ہے۔

مزیدخبریں