پاکستان کی سیاحت نے گزشتہ کئی سال سے سیاحوں کو نگلنا شروع کر رکھا ہے۔ سوشل میڈیا نے ان مشکل راہوں کو ایک فیشن کے طور پر یوں عوامی رگ و جاں میں اتارا ہے کہ پہاڑ گردی نہ کرنے والے شہری خود کو کمتر سمجھتے ہیں۔ جن خاندانوں کی پہاڑوں کے پس منظر والی تصاویر سوشل میڈیا سکرین کو رنگین نہ کریں وہ گویا برادری میں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتے، اسی سوچ نے بغیر موسم کا مزاج دیکھے، بنا کسی منصوبہ بندی جوق در جوق سیاحوں کو ادھر دھکیل دیا ہے۔ بے حساب آمدنی دیکھ کر سرمایہ داروں نے بے ترتیب تعمیرات، بے ڈھنگی عمارتیں اور بے ہنگم ہوٹلوں کی سلطنت ایستادہ کر دی ہے۔ پہاڑ جو اپنے اندر کا دکھ اُگلنے کے لیے تنہائی کے متلاشی تھے اب سیاحوں کی بے جا اور بے وقت مداخلت جانوں کے زیاں کا سبب بنتی ہے۔ جب گلیشیر کاٹے گئے، ندیوں کا رخ موڑ کر بجلی گھر بنائے گئے، جب دس دس کلو میٹر طویل سرنگیں پہاڑوں کی کوکھ سے نکال کر ان میں سے زہریلا ایندھن گزارا گیا، جب زیر زمین پہاڑوں کی میخوں کو کنکریٹ کی مصنوعی بیساکھیاں دی گئیں، جب سانس لیتے پہاڑوں کی شہ رگ پر آلودگی کے درندے نے اپنے پنجے گاڑھ دئیے، جب میٹھے پانی کے چشموں پر انسانی فضلہ انڈیل دیا گیا، جب فلک بوس درختوں کو کاٹ کر ہوٹلوں کے گیزروں میں جلایا گیا، جب زعفرانی گھاس کو کچل کر ریزہ ریزہ کر دیا گیا، تب جا کر ماحولیاتی تبدیلیوں نے اپنے انتقام کا آغاز کیا اور اس کا پہلا ہدف وہ انسان بننے لگے۔ گزشتہ تین ماہ کے ان سیاحتی علاقوں میں باسٹھ حادثات ہوئے جن میں ایک سو ستائیس جانیں ضائع ہوئیں۔ بوقت تحریر اٹھائیس جولائی کو بابو سر کے قریب خاتون اور دو بچوں سمیت چار افراد کی ہلاکت کی تصدیق ان اعداد و شمار سے الگ ہے۔ کلاؤڈ برسٹ تو لمحہ بھر میں گاڑیوں کو انسانوں سمیت برف کے گالوں کی طرح یوں اڑا لے جاتا ہے کہ پہلے پتھروں کا سیلاب آتا ہے اور پھر گارے کے دریا بہنے لگتے ہیں۔ آج تک کچھ گاڑیاں اور سیاح لاپتا ہیں۔ دریائے سوات کے بعد تھک نالے والا واقعہ ناقابل فراموش دکھ دے گیا۔ اس واقعہ کو سمجھنے کے لیے ہمیں کلاؤڈ برسٹ کو جاننا ہو گا۔ جیسے ہی آپ بابو سر ٹاپ کی بلندی 13700 فٹ پر پہنچنے کے بعد آگے چلاس کی طرف بڑھتے ہیں تو بلندی سے ایک دم نیچے سڑک اترتی ہے اور دس پندرہ کلو میٹر دور ہی آپ 14000 سے 4000 فٹ سطح سمندر پر آ جاتے ہیں۔ بابو سر ٹاپ کا پانچ ڈگری کا درجہ حرارت ایک دم نیچے آنے سے 40 ڈگری کا ہو جاتا ہے۔ چلاس اور آگے جگلوٹ تک ایک گرم علاقہ ہے۔ اس پیالے نما ٹرین کے اردگرد صرف چند کلومیٹر پر گلیشئر ہی گلیشئر ہیں۔ برفانی وجود نانگا پربت بھی پاس ہی ہے۔ اب یہاں شدید گرمی اور مون سون کی نم ہواؤں کی وجہ سے ایک سسٹم ڈویلپ ہوتا ہے، جو سپر سیل میں تبدیل ہو کر ایسا کلاوڈ برسٹ بنتا ہے کہ اس بارش سے کچھ چھوٹے گلیشئر بھی ٹوٹ جاتے ہیں جن سے سائیڈ سکرٹ کے ندی نالے پانیوں سے بھر جاتے ہیں اور بابو سر سے چلاس روڈ کے ساتھ چلتے دریا میں شامل ہو کر اس کی سطح کو لمحوں میں بلند کرتے ہیں اور ساتھ میں دونوں اطراف کے خشک مٹی اور پتھر والے پہاڑوں کو لپیٹ میں لیتے ہوئے ایک سیلابی ریلے کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جس سے دریا اور سڑک میں فرق ختم ہو جاتا ہے جو زد میں آیا سب بہہ جاتا ہے۔ انٹرنیشنل Weather stations پر اس آفت کی مکمل پیشن گوئی 15 دن پہلے ہی کی جا چکی تھی مگر ہم بغیر کسی منصوبہ بندی کے نکل آتے ہیں۔ ہماری اس فطرت دشمن روش نے موسموں کو بھی اپنے زمان و مکاں بدلنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سیاحت کا موزوں موسم مئی، جون اور جولائی کا پہلا ہفتہ ہے۔ آپ اپنی فراغت کے مطابق نہیں، پہاڑوں کے مزاج کے مطابق سیاحت کا شیڈول ترتیب دیں۔ یہ آفات ہر سال جولائی میں آتی ہیں اور اموات دے کر چلی جاتی ہیں۔ بات اب بادلوں کے پھٹنے تک پہنچ چکی ہے تو ہمیں بھی علاقائی خد و خال کو سمجھنا ہو گا۔ فطرت اپنے ساتھ چھیڑ چھاڑ پسند نہیں کرتی۔ پاکستان، جسے ایک وقت میں چاروں موسم نصیب ہوتے ہیں اور ہر موسم کے لیے اپنے
اپنے علاقے بھی مخصوص ہیں۔ ہمیشہ میدانی علاقوں میں جب گرمی کی شدت سے ریلوے لائنوں کی پٹڑیاں پگھلنے لگتی ہیں تو عین اسی وقت برزل پاس، بابو سر ٹاپ، درہ در کوٹ اور بیال کیمپ پر درجہ حرارت منفی سے بھی گر جاتا ہے۔ جب دھول اڑاتی آندھیاں گرم علاقوں کا مقدر بنتی ہیں تو انہی دنوں گلگت اور سکردو کے باغات میں طیور نغم بہار گنگناتے ہیں۔ پاکستان میں دسمبر سردی کی شدت اور برف باری کے حوالے سے مشہور ہے جبکہ جون گرمی اور دھوپ کا زمانہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ نہ جانے پوری دنیا کیلنڈر کی ترتیب بھول گئی ہے یا موسموں نے اپنا وقت اور مقامات بدل لیے ہیں۔ دسمبر میں ہمیشہ پہاڑوں پر برف روئی کے گالے بن کر اترتی تھی اور ہر طرف چاندی کا لیپ چڑھ جاتا تھا جبکہ میدانی علاقے دسمبر کے آخری عشرے اور جنوری کے پہلے ہفتے تک دھند کی لپیٹ میں رہتے تھے۔ دسمبر کے ہی دن ہوا کرتے تھے جب پہاڑی سیر گاہیں سیاحوں سے کچھا کھچ بھری ہوتی تھیں۔ مری اور ناران کے ہل سٹیشن گرمی کے سیزن کی طرح برف باری کے موسموں میں بھی شاداب رہتے تھے مگر اب صورت حال مختلف ہے، دسمبر کا آخری عشرہ تو کجا ماہ جنوری بھی اپنے آخری عشرے تک پہنچ جاتا ہے مگر گلگت، سکردو، ناران، نتھیا گلی، ایوبیہ اور مری ویران پڑے رہتے ہیں۔ ناران کے تاجر بھی اب اکتوبر میں ہی اپنا کاروبار سمیٹ کر بالا کوٹ، ایبٹ آباد اور مانسہرہ پہنچ جاتے ہیں۔ وہ بھی حیران ہیں کہ برف باری نے کیوں اپنے نزول کا شیڈول بدل ڈالا۔ جن دنوں مری، نتھیا گلی، ایوبیہ اور ناران برف سے ڈھک جایا کرتے تھے اور لوگ گاڑیوں کے ٹائروں پر باندھنے کے لیے زنجیر تلاش کرتے پھرتے تھے، اب انہی تاریخوں میں سڑکوں کی عریانی اور ویرانی منہ چڑاتی ہے۔ جولائی کے وسط میں چکوال جیسے شہر میں کلاؤڈ برسٹ نے ایسی سیلابی صورت حال پیدا کر دی کہ پانی موٹر وے کو بھی ایک دن کے لیے شکست دے گیا۔ ہم نے ماحول کو ساز گار بنانا ہے تو ہمیں فطرت سے ہم آہنگ ہونا پڑے گا۔ قدرت سے تصادم ہمیں دائمی شکست سے دوچار کر جائے گا۔ ملک بھر کے سیاحوں کو بھی خود آگاہی کے عمل سے گزر کر پہاڑوں کی سرگوشی سننا پڑے گی ورنہ ہم ہر سال پہاڑوں سے لاشیں لانے میں مصروف رہیں گے۔
پہاڑ لاشیں اگل رہے ہیں
09:09 AM, 29 Jul, 2025