اسلام آباد: وزیراعظم پاکستان شہبازشریف نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے جمعرات کو ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے مابین دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
ٹیلیفون پر ہونے والی بات چیت میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کی اہمیت مزید بڑھ چکی ہے، اور اس کے لیے مسلسل اور پائیدار مذاکرات کی ضرورت ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کی تجاویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون کا دائرہ مزید وسیع کیا جانا چاہیے، خاص طور پر خطے میں امن و سلامتی کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائی جانی چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا کہ خطے کی موجودہ صورتحال اور نئے چیلنجز کے پیش نظر، پاکستان اور ایران کو اپنی روابط کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دونوں ممالک اپنے عوام کے مفاد میں بہتری لا سکیں۔
وزیراعظم شہبازشریف نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اقتصادی، سیکیورٹی اور تجارتی شعبوں میں مزید قریبی تعاون قائم کرنا چاہیے۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے ادارہ جاتی سطح پر باقاعدہ مشاورت اور اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تعلقات میں مزید بہتری لانے کے لیے دونوں حکومتوں کو فعال طور پر رابطے میں رہنا چاہیے اور مشترکہ اقدامات پر کام کرنا چاہیے۔
وزیراعظم شہبازشریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلیفونک گفتگو اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور خطے میں امن و ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ دونوں رہنماؤں نے یہ عزم ظاہر کیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ قریبی روابط اور مشاورت کے ذریعے باہمی تعاون کو فروغ دیں گے، تاکہ نہ صرف پاکستان اور ایران کے تعلقات میں بہتری آئے، بلکہ پورے خطے میں امن، ترقی اور استحکام بھی ممکن ہو سکے۔