سیؤل:کم کیون ہی کو بدعنوانی کے الزام میں 20 ماہ قید

06:36 PM, 29 Jan, 2026

سیؤل: جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے سابق خاتون اول کم کیون ہی کو بدعنوانی کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 20 ماہ کی قید کی سزا سنائی ہے۔ غیر ملکی ذرائع کے مطابق، سیؤل کی ضلعی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کم کیون ہی نے تجارتی فائدے کے بدلے یونفکیشن چرچ سے رشوت لی، جو کہ قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

یہ فیصلہ سابق صدر یون سوک یول کے خلاف بغاوت کے مقدمے میں متوقع فیصلے سے تین ہفتے قبل آیا ہے۔

کم کیون ہی کے خلاف یہ عدالتی فیصلہ اس لیے بھی چونکا دینے والا سمجھا جا رہا ہے کیونکہ آزاد پراسیکیوٹر نے ان پر رشوت ستانی، حصص کی قیمتوں میں چھیڑ چھاڑ اور سیاسی فنڈنگ کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ان کے لیے 15 سال قید کی سزا کی سفارش کی تھی۔

تاہم، عدالت نے کم کیون ہی کو حصص کی قیمتوں میں ہیرا پھیری اور سیاسی فنڈنگ قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات سے بری کر دیا، کیونکہ ان الزامات کے حق میں کوئی ٹھوس شواہد نہیں ملے۔

یہ بھی یاد رہے کہ سابق صدر یون سوک یول کو ایک سال قبل مارشل لا نافذ کرنے کی پاداش میں عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا، اور اس سے قبل آزاد پراسیکیوٹر نے ان کے خلاف سزائے موت کی درخواست بھی کی تھی۔

کم کیون ہی کی دفاعی ٹیم نے فیصلے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے پر شکر گزار ہیں اور اس پر غور کر رہے ہیں کہ آیا سزا کے خلاف اپیل دائر کی جائے یا نہیں۔

مزیدخبریں