تعلیم عدالتوں کے سہارے یا پالیسی کے بھروسے؟

09:04 AM, 29 Jan, 2026


پاکستان، خصوصاً پنجاب میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات اب محض موسمی یا انتظامی معاملہ نہیں رہیں، بلکہ یہ ایک سنجیدہ قومی، فکری اور تہذیبی سوال بن چکا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بچوں کو آرام ملنا چاہیے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے تعلیم کو اتنا غیر اہم سمجھ لیا ہے کہ اس کا تسلسل ٹوٹنا معمول بن گیا ہے اور اس پر کوئی اجتماعی اضطراب بھی محسوس نہیں کیا جاتا؟۔
تعلیم دراصل قوموں کی سانس ہوتی ہے۔ سانس میں وقفہ آئے تو زندگی کمزور پڑ جاتی ہے، اور اگر یہ وقفہ معمول بن جائے تو وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ ہمارے ہاں مگر سانس کو ہی عادتاً روکا جا رہا ہے۔ کبھی سردی کے نام پر، کبھی گرمی کے خوف سے، کبھی سموگ کے بہانے اور کبھی انتظامی سہولت کے نام پر۔ نتیجہ یہ ہے کہ نصاب پیچھے رہ جاتا ہے، طالب علم ذہنی طور پر منقطع ہو جاتا ہے اور استاد محض کورس مکمل کرنے کی دوڑ میں شامل ہو جاتا ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی کیلنڈر عدالتوں کے احکامات سے نہیں بلکہ ادارہ جاتی نظم، پالیسی کے تسلسل اور قومی عزم کے تحت ترتیب دیا جاتا ہے۔ جاپان میں سالانہ دو سو سے زائد تعلیمی دن مقرر ہیں۔ وہاں زلزلے، طوفان اور شدید برف باری جیسے غیر معمولی حالات بھی تعلیم کے پہیے کو مکمل طور پر نہیں روکتے۔ متبادل اوقات، اضافی کلاسز اور ڈیجیٹل تدریس کے ذریعے تعلیمی عمل کو جاری رکھا جاتا ہے۔
فن لینڈ، جسے دنیا بھر میں تعلیمی معیار کی علامت سمجھا جاتا ہے، وہاں تعطیلات نہ صرف محدود بلکہ پہلے سے طے شدہ اور مقرر سمجھی جاتی ہیں۔ تعلیمی سال کو اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ بچے ذہنی، اخلاقی اور فکری تسلسل سے جڑے رہیں۔ جرمنی اور جنوبی کوریا میں موسم یا وقتی دباو¿ تعلیمی کیلنڈر کو یرغمال نہیں بنا سکتا۔ وہاں تعطیل آخری حل ہوتی ہے، پہلا نہیں۔ برطانیہ اور کینیڈا میں اگر غیر معمولی حالات پیدا ہوں تو تدریسی اوقات میں رد و بدل، ہفتہ وار گھنٹوں میں اضافہ اور متبادل تعلیمی ذرائع فوراً بروئے کار لائے جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں مگر ہر بحران کا آسان حل اسکول بند کرنا سمجھ لیا گیا ہے۔ گویا تعلیم کوئی اختیاری سرگرمی ہو، نہ کہ قومی بقا کی بنیاد۔ ہم نے بچوں کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ تعلیم حالات کی محتاج ہے، موسم کی اسیر ہے اور انتظامی سہولت کی تابع ہے۔ ایسے میں یہ توقع رکھنا کہ یہی بچے کل قوم کی رہنمائی کریں گے، خود فریبی کے سوا کچھ نہیں۔ بلکہ وہ زندگی کی دوڑ میں مسائل اور مصائب کا مقابلہ ہی نہیں کر پائیں گے۔ اس پس منظر میں نجی تعلیمی اداروں کا موقف بھی نہایت اہم اور قابلِ غور ہے۔ نجی شعبے کے نمائندگان کا کہنا ہے کہ غیر ضروری تعطیلات سے نہ صرف تعلیمی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ والدین پر معاشی دباو¿ بھی بڑھتا ہے۔ فیس مکمل لی جاتی ہے مگر تدریسی دن کم کر دیے جاتے ہیں، جس سے اعتماد کا رشتہ مجروح ہوتا ہے۔ والدین سوال کرتے ہیں کہ اگر بچے اسکول نہیں جا رہے تو فیس کیوں پوری دی جائے، اور اگر فیس پوری لی جا رہی ہے تو تعلیم کیوں ادھوری ہے؟۔
نجی تعلیمی اداروں کا مو¿قف ہے کہ پنجاب پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز پروموشن اینڈ ریگولیشن ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی کو مقامی حالات کے مطابق فیصلے کرنے کا اختیار دیا جانا چاہیے۔ ہر ضلع، ہر شہر اور ہر علاقے کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کہیں موسم شدید ہوتا ہے، کہیں معمولی، کہیں سہولتیں زیادہ ہیں، کہیں کم۔ مگر ہمارے ہاں پورے صوبے پر ایک ہی نوٹیفکیشن نافذ کر دیا جاتا ہے، گویا پنجاب ایک ہی درجہ حرارت، ایک ہی فضا اور ایک ہی زمینی حقیقت رکھتا ہو۔
ایک میٹنگ میں بہاولپور کے سو سے زائد تعلیمی اداروں کی بندش کا معاملہ بھی اٹھایا گیا، جہاں ٹی ایم اے کی جانب سے کمرشل فیس کے نام پر تعلیمی اداروں کو تالے لگانے کے احکامات جاری کیے گئے۔ یہ معاملہ محض ایک شہر کا نہیں، یہ پورے نظامِ فکر کا آئینہ دار ہے۔ دنیا کے مہذب معاشروں میں تعلیم کو کبھی بھی خالصتاً تجارتی زمرے میں نہیں رکھا جاتا۔ وہاں اسکول صنعت نہیں، سرمایہ کاری برائے انسان سمجھا جاتا ہے۔
برطانیہ، ناروے اور آسٹریلیا میں ریاست تعلیمی اداروں کو سہولت فراہم کرتی ہے، انہیں بندش کے نوٹس نہیں تھمائے جاتے۔ وہاں حکومت یہ سمجھتی ہے کہ اگر ایک اسکول بند ہوتا ہے تو دراصل ایک نسل کی امید بند ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں مگر تعلیم کو کبھی موسم کی نذر کر دیا جاتا ہے اور کبھی کمرشل فیس کے بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ہزاروں اساتذہ بے یقینی کا شکار اور لاکھوں بچے تعلیمی محرومی کی دہلیز پر کھڑے ہیں۔
سپیشل سیکرٹری سکول ایجوکیشن کی جانب سے 190 ورکنگ ڈیز پر مشتمل یکساں اکیڈیمک کیلنڈر بنانے کی ہدایات یقیناً ایک مثبت قدم ہے، مگر اصل امتحان نیت سے زیادہ عملدرآمد کا ہے۔ کیونکہ ہمارے ہاں مسئلہ فیصلوں کی کمی نہیں، تسلسل کی کمی ہے۔ فائلوں میں پالیسیاں بہت ہیں، مگر کلاس روم تک پہنچتے پہنچتے وہ کمزور ہو جاتی ہیں۔
تعلیم وہ واحد شعبہ ہے جہاں ہر دن کی کوتاہی آنے والی نسلوں سے قرض بن جاتی ہے۔ یہ قرض بینکوں سے نہیں، تاریخ سے لیا جاتا ہے اور تاریخ سود سمیت وصول کرتی ہے۔ ہم اگر آج بچوں کے دن چھینیں گے تو کل وہ ہم سے مستقبل چھین لیں گے۔
اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم تعلیم کو عدالتوں کے سہارے چلانا چاہتے ہیں یا پالیسی کے بھروسے۔ ہم بچوں کو چھٹیوں کا عادی بنانا چاہتے ہیں یا علم کا۔ ہم اسکول کو بازار سمجھتے ہیں یا عبادت گاہِ فکر۔ کیونکہ قومیں تعطیلات سے نہیں بنتیں، قومیں کلاس روم، استاد، کتاب اور تسلسل سے بنتی ہیں۔ اگر ہم نے آج تعلیمی تسلسل کو قومی ترجیح نہ بنایا تو آنے والی نسلیں ہمیں اس جرم پر کبھی معاف نہیں کریں گی....اور شاید وہ درست ہوں۔

مزیدخبریں