لاڑکانہ: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ میں صحت کے شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ لاڑکانہ میں شہید بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے کانووکیشن میں خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے گریجویٹس کو مبارکباد دی اور کہا کہ اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عملی زندگی میں قوم کی خدمت کریں اور انسانیت کی خدمت کو اپنا مقصد بنائیں۔
بلاول بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، اور لاڑکانہ کا شہر صرف ایک شہر نہیں بلکہ ناانصافی کے خلاف مزاحمت کی علامت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی کوئی وبا آئی، ڈاکٹروں اور نرسوں نے فرنٹ لائن پر آ کر انسانیت کی خدمت کی، اور اس عمل کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے مزید کہا کہ ان کی حکومت کی ترجیح ہمیشہ صحت کے نظام کی بہتری رہی ہے۔ انہوں نے 18 ویں ترمیم کے بعد صحت کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کا ذکر کیا اور کہا کہ سندھ میں دل کے مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ کراچی، نوابشاہ، جامشورو، سکھر اور لاڑکانہ جیسے علاقوں میں جدید صحت کی سہولتیں پہنچائی جا چکی ہیں۔
بلاول بھٹو نے چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سندھ کے تمام اضلاع میں بچوں کے لیے ایمرجنسی رومز کھولنے کی بات کی اور کہا کہ گمبٹ کے ہسپتال کا معیار پاکستان کے دیگر بڑے شہروں کے ہسپتالوں سے کہیں بہتر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ جہاں جہاں صحت کی سہولتیں نہیں پہنچا سکے، وہاں بھی کام کریں گے۔
انہوں نے سندھ میں 30 یونیورسٹیاں قائم کرنے کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ 1947 سے 2008 تک صرف 16 یونیورسٹیاں تھیں، جبکہ اب ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ پسماندہ علاقوں کے طلباء کو بھی تعلیم کے یکساں مواقع ملیں۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے جو اقدامات کیے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت سندھ صحت اور تعلیم کے شعبے میں بہترین کام کر رہی ہے، کیونکہ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ شہید بینظیر بھٹو نے 1989 میں یونیورسٹی کا خواب دیکھا تھا، جو 2009 میں مکمل ہوا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شعبہ صحت میں اصلاحات جاری ہیں، اور تعلیم پر مبنی ترقی ہی پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔